|
عالم تمام.... ظہیر الدین بٹ کینیڈا میں 14 اکتوبر کو الیکشن کروانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کینیڈا کی تمام سیاسی پارٹیاں اس کی تیاری میں لگ گئی ہیں۔ تمام پارٹیوں کے سربراہان مختلف صوبوں اور حلقوں میں جا کر اپنی اپنی پارٹی کے پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ ابھی تک کسی کا کوئی منظم اور مکمل پروگرام سامنے نہیں آ سکا اور نہ ہی کسی پارٹی کا کوئی منشور عوام تک پہنچ سکا ہے۔ ہر کوئی ایک صوبے میں ایک آدھ اعلان تمام سربراہان کر رہے ہیں کہ ہم آئندہ الیکشنوں میں کامیابی اور حکومت بنانے کے بعد فلاں فلاں کام کریں گے۔ دراصل گزشتہ حکومت جو وزیراعظم سٹیفن ہارپر کی سربراہی میں دو سال سے زائد عرصہ تک چلتی رہی ہے کو پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر برتری حاصل نہ تھی لیکن پھر بھی انہوں نے ایک اچھی حکمت عملی سے حکومت کو چلایا اور اپوزیشن کو ملا کر چند فیصلے بھی کئے اور قوانین بھی وضع کئے لیکن اب حالات اس ڈگر پر چلنے لگے تھے کہ انہیں محسوس ہوا کہ اب ان کا حکومت چلانا مشکل ہو گا۔ اس لئے کینیڈا کے گورنر جنرل کو درخواست پیش کر دی کہ الیکشن 14 اکتوبر کو کروا دیئے جائیں۔ اس اعلان کے بعد پارلیمانی ممبران آج کل اپنے اپنے حلقوں میں عوام سے رابطہ کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ جو شاید دوران حکومت کچھ کم کم ہی تھا کیونکہ شاید اب ان کو ووٹوں کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ کینیڈا کی عوام تو پڑھی لکھی ہے۔ اگر ہمارے ہاں کے لوگ پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود اگر سیاست اور سیاسی لیڈروں کو خوب پہچاننے لگے ہیں تو لازمی طور پر یہاں پر تو حالات مختلف ہیں لوگ ہر اچھے برے کی پہچان رکھتے ہیں لیکن پھر بھی کینیڈا میں بسنے والوں کی وہ کمیونٹی جو دنیا کے کونے کونے سے آکر یہاں آباد ہوئی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں۔ ایسے افراد کو تلاش کریں جنہوں نے اپنے وعدوں کا پاس کیا ہو اور علاقے اور کمیونٹی کے لئے اچھے کام کئے ہوں تو پھر اس کا اولین حق ہو گا کہ اسے دوبارہ منتخب کیا جائے۔ کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی بہت سے گھمبیر مسائل ہیں جس کے لئے ایوانوں میں جانے والے ممبران پارلیمنٹ تک پہنچانا بہت ضروری ہے اور ان کے حل کے لئے ان سے وعدے لینا نہایت ہی اہم ہے کیونکہ یہی وقت ہے کہ وہ آپ کے پاس آرہے ہیں اور آج انہیں آپ کی ہی ضرورت ہے کل کلاں جب وہ منتخب ہو جائیں گے تو پھر ہاتھ نہیں آئیں گے۔ اگر آج وہ کسی کام کے کرنے کا وعدہ کریں گے تو آئندہ کے لئے بھی سیاسی میدان میں رہیں گے ورنہ آئندہ الیکشنوں میں ان کا جنازہ نکالنا کمیونٹی کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہو گا۔ اس لئے ہمیں آج اجتماعی مسائل پر غور و فکر کرنا ہو گا تاکہ عوام کو سہولتیں اور آسائشیں میسر آسکیں۔ کچھ مسائل اور مشکلات کا میں یہاں ذکر کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ جس کو ہماری کمیونٹی اور عوام کو اپنے اپنے امیدواروں اور پارٹی لیڈران تک پہنچانا اور ان سے ان کے حل کے لئے وعدے لینا ضروری سمجھتا ہوں۔ ظاہر ہے ہر علاقے، صوبے اور کمیونٹی کے مختلف قسم کے مسائل ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر کینیڈینز کو درپیش رہتے ہیں۔ میرا یہاں لکھنے کا مقصد دراصل دوست احباب کو اشارہ دینا ہے کہ اب ایسا وقت ہے کہ امیدواران کو ضرورت اور مسائل کے حل کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے اور یوں وہ امیدوار ہی سامنے آسکیں گے اور جیت سکیں گے جو مخلص اور وعدے پورے کرنے والے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو میں صحت عامہ کے بارے میں لکھنا چاہوں گا کیونکہ اس بارے میں عوام کو بہت سی تکالیف اور مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ درست ہے کہ کینیڈا جیسے ملک میں علاج معالجے کی سہولیات بہت اچھی میسر ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لاکھوں کینیڈین ایسے ہیں جن کو فیملی ڈاکٹر کی سہولت تک میسر نہیں۔ دوسرا اگر کسی کو ایمرجنسی کے لئے ہسپتال جانا پڑے تو جو ایمرجنسی کا مطلب ہے وہاں جا کر فوت ہو جاتا ہے کیونکہ گھنٹوں انتظار کی زحمت اٹھا کر بھی علاج اور ڈاکٹر سے مریض محروم رہتا ہے۔ یہی نہیں اگر کسی کو الٹرا ساﺅنڈ، ایکسرے یا پھر لیبارٹری وغیرہ کا کوئی خاص ٹیسٹ کروانا ہو تو مہینوں اور ہفتوں باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران چاہے مریض اللہ کو ہی پیارا ہو جائے۔ فیملی ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کی جو حالت ہوتی ہے اس کا بھی عوام کو ادراک ہے۔ گھنٹوں وقت ضائع کرنا پڑتا ہے۔ کام کا بھی حرج ہوتا ہے اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ آج ملک میں ہزاروں افراد کڈنی ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں جن کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ ٹریفک کا مسئلہ ہر شہر میں موجود ہے اگر ہم 401 ہائی وے پر نظر ڈالیں تو ٹریکٹر ٹریلر نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ حکومت وقت کو چاہئے کہ ان کا انتظام ایسے طریقے سے کیا جائے کہ انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ ہائی وے کی دائیں طرف کی ایک یا دو لائنیں استعمال کریں اور چھوٹی گاڑیوں کے لئے خطرہ نہ بنیں۔ یہی نہیں کچھ اوقات صبح اور کچھ شام کے ایسے مقرر کر دیئے جائیں کہ جس دوران چھوٹی ٹریفک کو موقع دیا جائے کہ وہ آسانی کے ساتھ سفر کر سکیں اور کسی بڑے خطرے سے دوچار نہ ہوں۔ بڑی اور ہیوی گاڑیوں کو کچھ وقت کے لئے مکمل طور پر روک دیا جائے۔ اس کے علاوہ دیگر شہروں اور صوبوں میں بھی ایسے ہی انتظام کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے ہیوی ٹریفک کے لئے جو شہر سے باہر کے لئے سفر کرتے ہیں کے لئے اندرون شہر ایسے ہائی وے تیار کئے جائیں جن پر صرف ہیوی ٹریفک ہی چل سکے اور ایک شہر سے دوسرے شہر بلا روک ٹوک چلی جائے۔ منسٹری آف ٹرانسپورٹیشن کو اس سلسلے میں بہت زیادہ کام کرنے اور فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ پورے ملک میں گیس کی قیمتوں پر بزنس مین اپنی مرضی سے کنٹرول کر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور کینیڈا میں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ کوئی بھی کسی قسم کا پرائس کنٹرول نہیں ہے اور یہ کمپنیاں پیسہ بنا بنا کر بیرون ملک بھجوا رہی ہیں۔ وزارت پٹرولیم اور خزانہ کو ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے اور حکومت کو کوئی پرائس کنٹرول سسٹم ترتیب دینا ہو گا تا کہ عوام کو مارکیٹ اور عالمی تناظر میں ریلیف مل سکے۔ عام آدمی کو ٹیکس میں کمی کر کے اور ان کی آمدن کی رقم کو بڑھا کر قابل ٹیکس بنانے کے لئے دوبارہ سے غور کرنا ہو گا۔ آج کل کم از کم اتنی رقم رکھی گئی ہے کہ ایک چھوٹے خاندان کا گزر بسر ہونا بہت ہی مشکل ہے۔ اس لئے قابل ٹیکس آمدن کی رقم میں اضافہ نہایت ضروری ہے۔ گھروں اور اپارٹمنٹس کے کرائے اتنے زیادہ ہیں کہ لوگوں کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ کرائے کی مد میں نکل جاتا ہے۔ گھر مالکان پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کر کے عام عوام کو کرایوں میں کمی دلا کر ریلیف دلایا جا سکتا ہے۔ لیبر کی کم از کم تنخواہ میں گزشتہ دنوں چند سینٹ کا جو اضافہ کیا گیا تھا وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر تھا اس میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چائلڈ بینیفٹ میں بھی اضافہ ضروری ہے۔ سمال بزنس کرنے والی کمیونٹی پر بھی ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا ہو گا۔ امیگریشن کے مسائل اور نئے امیگرنٹس کے لانے کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔ خاندانوں کو جوڑنے اور اکٹھا کرنے کے لئے قوانین میں نرمی اور طریقہ کار کو آسان کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نئے امیگرنٹس کیلئے مزید پروگرام بنانے کی اہمیت کو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا۔ تعلیمی میدان میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل نوجوانوں میں شوٹنگ اور سکیورٹی جیسے مسائل بہت زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔ اس پر سختی سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی وظائف اور پڑھنے والے طلباءکے لئے یونیورسٹیوں میں مزید آسانیاں پیدا کرنے کو ترجیح دینا ہو گی۔ یہ چند ایک مسائل ہیں جن کے لئے کمیونٹی کو امیدواروں سے ڈسکس کرنا ہو گی۔ اور یہ مشکلات ان کے گوش گزار کرنا ہوں گی تا کہ جب وہ پارلیمنٹ میں پہنچیں تو ان کے پاس کوئی ایجنڈا ضرور موجود ہو جس کے لئے وہ کام کر سکیں۔ کمیونٹی کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے امیدواروں کو منتخب کریں جو مسائل کے حل کے لئے مخلص ہوں۔ ان ممبران اور امیدواران کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کو سمجھیں اور کمیونٹی، علاقے اور ملک کی ترقی کے لئے ابھی سے سوچ بچار شروع کر دیں تاکہ انہیں حل کر کے عوام کو ریلیف دے سکیں۔
|
|