|
(ملک سلیم اکبر) نوازشریف اور زرداری حکومت کے درمیان وزراءکے استعفے منظور کرنے کے ساتھ ہی ”تعاون“ ختم ہوگیا ہے۔ نوازشریف نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ حکومت سے غیرمشروط تعاون نہیں کریں گے۔ ہم حکومت نہیں گرائیں گے البتہ جمہوری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ گویا نوازشریف نے اصولی طور پر تسلیم کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) حکومت کے ساتھ ”غیرمشروط“ تعاون ہی کرتی رہی ہے۔ اسی تعاون کے طفیل مشرف کی جانب سے NRO کے تحت پاکستان آنےوالے آصف زرداری کو ایوان صدر پہنچانے کے بعد نوازشریف کا پتلی گلی سے لندن روانہ ہو جانا بھی شامل تھا اور ججوں کی بحالی کی تحریک کو ”کھڈے لائن“ لگا کر آئینی پیکیج کے ابہام کی نذر کرنا بھی ضروری تھا۔ اسی تعاون کے نتیجے میں مولانا ڈیزل یعنی مولانا فضل الرحمن کو MMA سے نکال کر زرداری کی گود میں بٹھانا بھی تھا اور جھوٹ موٹ سے اوپری اوپری مخالفت کرکے ایم کیو ایم کو پی پی پی کی صفوں میں جگہ دلوانا ہی شامل تھا۔ واضح رہے کہ صرف مسلم لیگ (ن) ہی نے یہ اعلان نہیں کیا کہ اب ”غیرمشروط“ تعاون نہیں ہوگا بلکہ صرف زرداری نے بھی یہی کہا ہے کہ اب تعاون ”مشروط“ ہی ہوگا۔ یعنی عام فہم اور سادہ ترین الفاظ میں نوازشریف نے پنجاب کی حکومت کو نہ گرانے کی شرط پر زرداری کی وفاقی حکومت کو نہ گرانے کی بھی ضمانت دےکر یہ اصول طے کردیا ہے کہ مرکز میں تم خوب کھاﺅ اور پنجاب میں ہم کھل کھلا کر کھانے دو۔ ویسے اس سے پہلے بھی جو تعاون ہو رہا تھا وہ بھی اسی طرح کا غیرمشروط تعاون ہی تھا۔ یعنی ایک دوسرے کے مفادات کو مکمل تحفظ دینے کا تعاون۔ عوام اطمینان رکھیں کہ پی پی پی اور نوازشریف کے درمیان یہ نورا کشی یعنی تعاون کا سلسلہ برقرار رہےگا۔ گویا ایک دوسرے کو اوپر اوپر سے آنکھیں بھی دکھاتے رہیں گے اور جب ملیں گے تو ایک دوسرے کو ”جپھیاں“ ڈال کر ہنسیں گے کہ عوام کو خوب بیوقوف بنایا ہے دونوں نے۔ اسے کہتے ہیں کہ شیروشکم بھی رہنا اور آنکھیں بھی دکھانا بالکل اسی طرح جس طرح زرداری حکومت نے چند دن پہلے امریکہ کو آنکھیں دکھائی تھیں کہ اگر اب پاکستان کے علاقوں پر حملہ کیا گیا تو ہم جواب دیں گے لیکن امریکہ بہادر نے بھی اسی دن حکومت کو آزمائش میں ڈال کر کہا ملک پر حملے کی دیں گے نہ اجازت ہرگز آرمی اور حکومت کا کیا خوب بیان آیا ہے ہم کو آپ کی اجازت کی ضرورت ہی نہیں حملہ آور نے بھی خوب ارشاد فرمایا ہے جس قوم کے حکمران بزدل ہوں وہ غیرت مند قوم کو بھی بزدل بنا دیتے ہیں۔ پہلے ہم مشرف کو فوجی کمانڈو ہونے کے باوجود بزدل ہونے کا طعنہ دیتے تھے لیکن زرداری صاحب بھی کیڈٹ کالج پشاور سے فارغ التحصیل ہونے کے سبب نیم فوجی ہی ہیں لہٰذا صدر بنتے ہی زرداری میاں بھی قوم کو اس مشکل ترین وقت میں تنہا چھوڑ کر اپنے ذاتی دورے پر پہلے دبئی اور لندن میں عیش فرما رہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد پہلے زرداری صاحب نے چین کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ”گلوبل ویلیج “ کا ممبر ہونے کا بھرم نبھانے کی خاطر چین کا دورہ ملتوی کرکے برطانوی وزیراعظم کے چرنوں کو چھونے اور اپنی نوکری پکی کرنے لندن یاترا کرکے عالمی طاقتوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ پاکستانی فوج کے چیف جنرل کیانی جو چاہیں بیان دیں ہم ہر معاملے میں آپ کے خدمت گزار اور تابع ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاہ ایران نے وفاداری اور خدمت گزاری کا کیا صلہ پایا؟ شاہ ایران سے بھی زیادہ عبرت کی مثال تازہ ترین جنرل مشرف کی داستان ذلت ہے کہ وہ نامرادی کی تصویر بنے وزیراعظم ہاﺅس اور زرداری ہاﺅس سے زیادہ دور بھی نہیں‘ قید تنہائی کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ مشرف نے تابعداری‘ خدمت گزاری اور وفاداری کا انعام بھی ”جس کی جوتی اسی کا سر“ کی صورت میں وصول کیا۔ اب زرداری صاحب بھی حالت رکوع میں جانے کے بجائے لمبے لمبے لیٹ کر 18 کروڑ پاکستانیوں کی غیرت کا سودا کرکے کس انعام کی توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ جمہوری حکومت اور مشرف حکومت میں بھلا کیا فرق دکھائی دے رہا ہے۔ وہی کام وہی پالیسیاں جو مشرف چلا رہے تھے ان ہی کو جمہوری حکومت بھی نبھا رہی ہے۔ گویا یہ ایک ہی جیسی پالیسیوں کا تسلسل ہے صرف چہرے بدل گئے ہیں، نظام وہی ہے۔ تابعداری اور خدمت گزاری وہی ہے، وفاداریاں عوام کے ساتھ نہیں بلکہ ان ہی طاقتوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے انہیں بیرونی ممالک یعنی جدہ سے نوازشریف اور لندن سے آصف زرداری کو پاکستان پہنچا کر حکومت کے مزے اٹھانے کا موقع دیا۔ عزت گویا عوام نے نہیں دی، لہٰذا عوام کی پروا بھی کون کرے۔ دو دو بار پہلے پاکستان کے وسائل کو کھا چکے ہیں اور اب ایک بار پھر پہلے میری باری ہے میرے بعد تمہاری باری ہے، کے اصول پر حکومت کرنے کیلئے جا رہے ہیں، عوام جائیں بھاڑ میں۔ قوم کی عزت و غیرت جائے کھڈے میں۔ کاش ہمارے حکمران سمجھ سکیں کہ گھنٹوں میں سروے کر بیٹھنے کا نہیں بلکہ دانت دکھانے کی ضرورت ہے۔ ذاتی مفادات کی نہیں قومی مفادات کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ پاکستان زندہ باد۔پاکستان پائندہ باد!
|
|