اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 18 Sep 2008 04:53:00

”چور دروازہ“

”چور دروازہ“
(وکیل انصاری)
سنا تھا کہ ڈکٹیٹر ہمیشہ چور دروازے سے آتے تھے مگر پاکستان میں تو جمہوریت بھی چور دروازے سے آئی۔ کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں بادشاہ وقت خطرے کی صورت میں راہ فرار کیلئے ایک دروازہ خفیہ بنایا کرتے تھے مگر پتہ نہیں چور دروازے کی اصطلاح کب اور کیسے معرض وجود میں آئی مگر اب اس کا استعمال اور اسکے معنی وقت کے ساتھ بدلتے جا رہے ہیں۔
سنا ہے کہ جب کوئی شخص یا سیاست دان حکومت وقت کے ہاتھوں نوازا جاتا ہے تو اگر وہ اس عہدے یا مرتبہ کے لائق نہیں ہے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص یا سیاستدان چور دروازے سے داخل ہوا ہے! جہاں تک ہماری لغت کا تعلق ہے تو ہم اس کے معنی یہی لیتے ہیں کہ وہ خفیہ طریقے سے داخل ہوا ہے مگر ہماری لغت تو بہت فرسودہ اور پرانی ہے اور چور دروازے کے معنی اور مفہوم ہر عشرے میں نت نئے لئے جاتے رہے ہیں لہٰذا پاکستان میں فروری میں انتخابات ہوئے۔ بہت سی سیاسی پارٹیوں نے بائیکاٹ کیا۔ اس وقت کہا گیا کہ بے نظیر بھٹو چور ”دروازے“ سے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ہوگی اور صدر پرویز مشرف بے نظیر بھٹو کو کامیاب کراکے وزیراعظم بنائیں گے کیونکہ یہی ڈیل امریکہ، صدر پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ہوئی ہے۔
پھر حالات کی آندھی ایسی چلی کہ بے نظیر بھٹو صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں۔ بازی پلٹ گئی، چور دروازہ بند ہوگیا۔ انتخابات پھر بھی ہوئے۔ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی ووٹوں کی اکثریت سے جیتی، دوسرے نمبر پر نوازشریف عمران خان کے ایجنڈے کو ہائی جیک کرکے جیت گئے۔ چور دروازہ بند تھا تو کوئی بھی چور دروازے سے داخل نہ ہوسکا حتیٰ کہ عدالت کے جج صاحبان بھی چوروں کا بال بیکا نہ کرسکے۔ پرانے چور نئے چور سب ہی چور جمہوریت کی لاٹھی دندناتے پارلیمنٹ میں پہنچ گئے اور اب کوئی بھلا کیوں ان کو چور کہے گا؟
وہ جمہوری طریقوں سے اسمبلی کے ممبر بنے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ملک میں جمہوریت بھی چور دروازے سے داخل ہوئی ہے کیونکہ اس ملک کی سیاست میں داخل ہونے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے چور دروازہ اور جمہوریت چور دروازے سے یوں داخل ہوئی ہے کہ پتہ نہیں کب اس کو راہ فرار اختیار کرنا پڑے اور راہ فرار کا دروازہ بھی چور دروازہ ہے۔ اب آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ یہ ”چور دروازہ“ بھلا کس نے بنایا ہے؟ اس دروازے کی رکھوالی کون کرتا ہے؟ اس دروازے کو قائم و دائم رکھنے میں کن کن اداروں اور ایجنسیوں کا ہاتھ ہے؟ اس میں سے گزرنے والوں کی کیا کوالیفکیشن ہوتی ہے؟
میرا تو ذاتی خیال ہے کہ یہ سب سوالات فضول ہیں۔ فضول یوں ہیں کہ ان سوالات کے جوابات سے عوام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ”اشرافیہ“ کے مسائل ہیں اور ”اشرافیہ“ کے مسائل یوں کہ ”اشرافیہ“ کے پاس مسائل نہ ہوں تو ہم ان کو ”اشرافیہ“ کیونکر مانیں؟
خیر اب تک ان کی ان باتوں سے آپ کو پتہ چل چکا ہوگا کہ چور دروازہ کوئی بری بات نہیں رہا ہے۔ یہ دروازہ اب چوروں کیلئے استعمال نہیں ہوتا ہے بلکہ تمام خوشامدیوں، تمام نااہل سیاستدانوں، تمام نااہل وڈیروں، چودھریوں اور تمام نااہل نوابوں کی صراطِ مستقیم ہے۔
آپ نے دیکھا کہ جب پاکستان میں جمہوریت آئی تو اس راستے سے ہی داخل ہوئی۔ وہ بیچاری جمہوریت انہی مندرجہ بالا افراد کے کاندھوں پر سوار ہو کر داخل ہوئی تھی مگر نئے صدر جناب آصف علی زرداری جس طرح خوبصورت سیاسی داﺅ پیچ کھیل کر صدر بنے، آفرین ہے انکی سیاسی بصیرت پر۔ وہ خاموشی سے نوازشریف کے ارمانوں پر پیاز کتر کے گزر گئے مگر اس دفعہ وہ چور دروازے سے داخل نہیں ہوئے کیونکہ وہ چاروں صوبوں سے ووٹوں کے ذریعے کامیاب ہو کر جمہوری طریقے سے کامیاب ہو کر صدر بنے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ کمبخت جمہوریت ہی پاکستان میں چور دروازے سے داخل ہوئی ہے اور اب ہم کو معلوم ہوا ہے کہ چور دروازہ اس دروازے کو کہتے ہیں جس سے چور داخل ہوتا ہے۔
٭٭٭

5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier