اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

کنکریاں.... عباس اطہر
پیپلز پارٹی کے مخالف حلقوں کے خوف اور غصے سے بھری ہوئی، پاکستان کی تاریخ کی سب سے لمبی اور سیاہ رات جو کئی دنوں پر محیط ہو گئی تھی۔ بددعائیں کوئی رنگ لائیں نہ لاکھوں کی تعداد میں ای میلیں اور ایس ایم ایس کوئی ”معجزہ“ برپا کر سکے۔ آصف زرداری بھاری اکثریت سے جیت کر صدر منتخب ہو گئے۔ ایک انتظار الیکشن سے پہلے تھا اور دوسرا اب شروع ہو گا۔ خواہشیں بے قابو تھیں لیکن کوئی قیامت آئی، نہ آئے گی۔ ہم مملکت خداداد پاکستان ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اللہ ہی ہماری حفاظت کرتا ہے۔ یہ سچ بھی ہے ورنہ ہم نے اسکندر مرزا سے پرویز مشرف تک (فضل الٰہی چودھری اور رفیق تارڑ کے سوا جو بے اختیار تھے) ایسے ایسے صدر بھگتے ہیں کہ امریکہ جیسا ملک بھی ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو وہ اسے کھنڈر بنا کر رکھ دیتے۔
ایوان صدر کی طرف زرداری صاحب کی پیش قدمی دیکھ کر مجھے ایک بہت پرانا ہاکی میچ یاد آ گیا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب پاکستانی ٹیم دنیا میں بہترین تھی اور تقریباً ہر ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل جیت لیا کرتی تھی۔ ایک بہت ہی اہم میچ ڈرا کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اچانک فارورڈ لائن کے ایک پلیئر نے اپنی ڈی سے گیند پکڑی۔ ساری فیلڈ کو بیٹ کرتا ہوا مخالف گول پوسٹ کے سامنا پہنچا اور گیند گول کے اندر پھینک دی۔ یہ کھلاڑی غالباً سمیع اللہ تھا، شہناز شیخ یا کوئی اور میں اپنی یادداشت کے منظر نامے میں کھلاڑی کو تو شناخت نہیں کر سکتا لیکن سیاست سمیت ہر کھیل کے کسی فنکارانہ حصے کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ وہ پرانا میچ یاد آ جاتا ہے اور آج زرداری صاحب کے حوالے سے تو بہت ہی یاد آیا۔
سیاست محض کھیل نہیں، بہت ہی سنجیدہ معاملہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں عوام کی زندگیاں منسلک ہوتی ہیں۔ جس تحریک کے ثمرات سمیٹ کر آصف زرداری صاحب ملک کے انتہائی طاقتور حکمران بنے ہیں۔ وہ 9 مارچ 2007ءکو شروع ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وردیوں کے گھیرے میں بیٹھ کر استعفٰی دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ معطل ہوئے اور گھر میں قید کر دئیے گئے پھر وکلاءکی ایک تاریخی تحریک چلی اور محترمہ بینظیر بھٹو کو سیاست پر حاوی کر گئی۔ میاں نواز شریف نے انتخابات سے پہلے اور بعد میں 2 نومبر والی عدلیہ کی بحالی کو اپنی سیاست کا مرکزی نکتہ بنایا۔ آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان معاہدے ہوئے جو میاں صاحب کی اصول پسندی اور زرداری صاحب کی مجبوریوں کی نذر ہو گئے۔ پرویز مشرف کے استعفے کے بعد وفاق میں مخلوط اتحاد ٹوٹ گیا اور مسلم لیگ (ن) کو اپنا امیدوار سامنے لانا پڑا۔ جتوانے کیلئے نہیں صرف یہ احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے کہ 58۔ٹو۔بی والا پیپلز پارٹی کا صدر قبول نہیں۔
زرداری صاحب کی انتخابی مہم پر حملے کا آغاز امریکی اور برطانوی اخبارات نے کیا تھا۔ لندن کی عدالت میں پیش کیا جانے والا ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ سامنے لایا گیا جس کے ذریعے انہوں نے قید اور تشدد کے سبب اپنی نفسیاتی کیفیت کو بنیاد بنا کر حاضری سے استثنیٰ حاصل کی تھی۔ پھر سوئس بنک اکاﺅنٹ یاد دلائے گئے۔ غیر ملکی اور قومی میڈیا کی یلغار اتنی تابڑ توڑ تھی کہ آصف زرداری آہنی اعصاب کے مالک نہ ہوتے تو دستبردار ہو کر اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کو الیکشن لڑا دیتے۔ زرداری صاحب کی انتخابی مہم پر آخری حملہ بھی امریکہ کی طرف سے ہوا۔ قبائلی علاقوں پر تین دن میں تین حملے کئے گئے اس خاص وقت کے انتخاب کا مقصد شاید تھا یہ کہ قبائلی ارکان پارلیمنٹ انہیں ووٹ دینے سے انکار کر دیں۔ سوات آپریشن بھی شاید اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ زرداری صاحب کے مخالفین نے صدارتی امیدوار پر غیر ملکی میڈیا کے حملوں سے تو بہت لطف اٹھایا البتہ قبائلی علاقوں پر امریکی حملوں پر اپنے غصے اور دکھ میں ڈوب گئے لیکن ساتھ ہی یہ نکتہ نکال لیا کہ آصف زرداری نے امریکہ کا ہاتھ کیوں نہیں روکا۔
معزول ججوں کی بحالی کا مسئلہ فاروق اے نائیک اینڈ کمپنی نے جوڑ توڑ سے حل کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ اور چاروں ہائیکورٹوں کے معزول ججوں کی اکثریت نے نیا حلف اٹھا لیا ہے۔ افتخار محمد چودھری صاحب کو بھی جج کے طور پر پر حلف اٹھانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر آئینی چیف جسٹس ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چودھری یقینی طور پر نیا حلف اٹھانے سے انکار کر دیں گے لیکن زرداری صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ جمہوریت واپس لانے کی ایک کامیاب تحریک کا یہ المناک پہلو لوگوں کے دلوں پر ایک ایسا زخم بن کر موجود رہے گا۔ جس کا درد وہ سالوں تک محسوس کرینگے۔
صدر منتخب ہونے کے بعد آصف زرداری صاحب ایک بین الاقوامی پلیئر کے طور پر عالمی افق پر نمودار ہونگے۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دہرا کر اقتدار میں آنے والے اس بھٹو زرداری صاحب کو بہت کڑے سفر کا سامنا ہے۔ بھوک، بدامنی، دہشت گردی اور سیاسی محاذ آرائی۔ ایک سے بڑھ کر ایک چیلنج سامنے ہے۔ وہ ایک شاندار سیاسی کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں لیکن اگلا کھیل جان جوکھوں کا بھی ہے اور وہ بالکل نئے بھی ہیں۔


 











 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier