|
گریبان/ منو بھائی اس سے پہلے شاید میں نے کبھی کسی سرکاری ملازم کے ریٹائر ہونے پر کوئی کالم نہیں لکھا ہوگا اور یہ کالم بھی کسی سرکاری ملازم کے فرائض سے سبکدوش ہونے پر نہیں لکھا جا رہا بلکہ سرکاری فرائض کی ادائیگی میں تھکاوٹ یا اکتاہٹ محسوس کرنے کے بجائے تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے اور بہت ہی غیر محسوس انداز میں زیتون کی نرم و نازک اور دکھائی نہ دینے والی جڑوں کی طرح سنگ مرمر کی رگوں میں داخل ہونے اور اس سے پوری طرح لطف اندوز ہونے والوں کی ایک بہت ہی نایاب اور اتنی ہی قیمتی کھیپ کے معدوم ہوتے چلے جانے کے بارے میں لکھا جا رہا ہے۔ قدرتی امر ہے کہ جس طرح سینیٹر آصف علی زرداری کے صدر مملکت منتخب ہونے پر ملک کے بے شمار لوگوں کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید‘ میر مرتضیٰ‘ میر شاہنواز اور ذوالفقار علی بھٹو یاد آئے ہوں گے کہ جو اپنے عدالتی قتل کے بعد بھی تیسری مرتبہ وطن عزیز پر قانونی‘ آئینی اور جمہوری طریقہ سے آمریت کے اندھیرے صاف کرکے حکومت کر رہے ہیں ویسے ہی بہت چھوٹی سطح پر ”ڈی جی پی آر“ پنجاب کے ڈائریکٹر نیوز آغا اسلم کی چالیس سالہ خدمات سے چھ ستمبر 2008ءکی ریٹائرمنٹ کے ساتھ وہ بہت سے لوگ یاد آئے جو اس شعبے کے اندر اور باہر اپنے حسن اخلاق‘ طرز عمل اور فرض شناسی کے عملی اظہار کے ذریعے عزت‘ نیک نامی‘ محبت اور پیار کی دولت کمانے اور بہت اچھی یادیں چھوڑ جانے والی کھیپ‘ قبیلے یا مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مدرسہ فکر کے ایک نمایاں نمائندے سابق ڈی جی پی آر پنجاب سید عابد علی بھی تھے جو اس شعبہ میں قابل قدر روایات چھوڑ کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہو چکے ہیں مگر آغا اسلم جیسے لوگوں کی صورت میں ان کی یادیں تازہ ہوتی رہتی تھیں۔ پروفیسر کرار حسین مرحوم کے صاحبزادے اور تارج حیدر کے بڑے بھائی جوہر حسین کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا جس قبیلے کے نمایاں افراد میں الطاف گوہر کے بھائی راجہ تجمل حسین‘ شیخ عبدالحفیظ‘ سید جمیل احمد‘ پروفیسر فتح محمد ملک اور محترمہ کشور ناہید ابھی خدا کے فضل سے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ آغا اسلم کا تعلق بھی اس قبیلے کے پس ماندگان سے تھا جو سمجھتے تھے کہ پولیس کا بلاشبہ یہ اختیار ہے کہ وہ چوروں کو پکڑے مگر اس کا اصل فریضہ یہ ہے کہ اپنے علاقے میں چوری نہ ہونے دے۔ اختیار اور فریضے کے درمیان فرض کو سمجھنے سے انکار کرنے والے افسران مجاز اور ارباب حل و عقد نے ہی وطن عزیز کو اپنے قیام کے بعد آزادی اور خودمختاری سے فیض یاب ہونے نہیں دیا۔ سرکاری فرائض کی ادائیگی میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے اور اس سے لطف اندوز ہونے والے قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں ایک ممتاز نام شجاعت علی حسنی صاحب کا بھی تھا جو بینک دولت پاکستان کے سربراہ بنے تو انہیں بتایا گیا کہ سٹیٹ بینک کے لیے ایک افسر تعلقات عامہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اخبارات میں ”ضرورت ہے“ کا اشتہار دیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی تو حسنی مرحوم سے کہا گیا کہ اشتہار کی اشاعت کے بعد امیدواروں کی درخواستیں آگئی ہیں چنانچہ آپ امیدواروں کا انتخاب فرمائیں۔ شجاعت علی حسنی نے کہا کہ انتخاب فرمانے کی کیا ضرورت ہے جس کی سب سے زیادہ سفارشیں ہیں اسے افسر تعلقات عامہ مقرر کردیا جائے۔ ان سے کہا گیا کہ سفارشوں کو دیکھیں گے تو میرٹ کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکے گا۔ شجاعت علی حسنی مرحوم نے فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ سفارشیں جمع کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی اور پذیرائی ضروری ہے اور یہی افسر تعلقات عامہ کا فرض ہوتا ہے۔ شجاعت علی حسنی کی ہدایت کے مطابق زیادہ سے زیادہ سفارشیں جمع کرنے والے امیدواروں کی ”شارٹ لسٹنگ“ کی گئی تو دو امیدوار فائنل میں آگئے جن میں ایک قدرت اللہ شہاب کے بھائی حبیب اللہ شہاب تھے جو اس ساری واردات کے اصل راوی ہیں۔ شجاعت علی حسنی نے سفارشوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے حبیب اللہ شہاب کو منتخب کرلیا اور وجہ یہ بتائی کہ وہ ان کے والد صاحب کی تحریری سفارش بھی لے آئے ہیں جنہوں نے ایک طویل عرصے سے انہیں خط نہیں لکھا تھا۔ حبیب اللہ شہاب بتاتے ہیں کہ بینک دولت پاکستان کے افسر تعلقات عامہ مقرر ہونے کے بعد وہ شجاعت علی حسنی سے ہدایات لینے گئے تو انہوں نے بتایا کہ ان کی ملازمت کے ابتدائی زمانے میں ان کے دفتر میں پنکھا بھی نہیں ہوتا تھا مگر کچھ زیادہ گرمی محسوس نہیں ہوتی تھی مگر اب ہم ایک مرکزی طور پر موسمی اثرات سے محفوظ دفتر میں کام کرتے ہیں اور ایئرکنڈیشننگ کا سسٹم ایک لمحے کے لیے بھی بند ہو جائے تو دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ بس یہی میری ہدایت یا مشورہ ہوگا کہ اپنے آپ کو سسٹم یا نظام کا لازمی حصہ‘ ضروری پرزہ اور اہمیت رکھنے والی ضرورت بنا لو۔ اس کے لیے آپ کو کوئی پہاڑ کھودنے جیسی مشقت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں صرف یہ ضروری ہوگا کہ ہر روز اس توقع سے تھوڑا سا زیادہ کام کردو جو آپ سے آپ کے ادارے نے وابستہ کر رکھی ہے۔ یہ عمل آپ کو ادارے کا ”اٹوٹ انگ“ بنا دے گا اور آپ کی عدم موجودگی یا غیر حاضری میں یوں محسوس ہو جیسے بجلی چلی گئی ہے۔ چھت کا پنکھا بند ہوگیا ہے۔ ایئرکنڈیشنر کام نہیں کر رہا اور دم گھٹنے لگا ہے۔ بڑی آسانی سے سب سمجھ میں آ سکتا ہے کہ اختیار اور فرض میں فرض محسوس کرنے والوں اور سرکاری فرائض کی ادائیگی میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے والوں اور اپنی کارکردگی سے لطف اندوز ہونے والوں کی کمی‘ عدم موجودگی اور غیر حاضری میں دم گھٹنے کا احساس کیوں بڑھتا جا رہا ہے۔ آغا اسلم کے قبیلے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ فرائض کی انجام دہی سے گریز میں جو محنت کرنی پڑتی ہے اس سے بہت کم محنت اور توجہ سے توقع سے زیادہ فرائض سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔ شاعر نے بہت عرصہ پہلے پوچھا تھا کہ یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا زمین کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے؟
|
|