اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Fri, 12 Sep 2008 05:14:00

صدر زرداری کا پاکستان

صدر زرداری کا پاکستان
غیرسیاسی باتیں
عبدالقادر حسن
جناب آصف علی زرداری آج جس ملک کے صدر ہیں اس کا وجود شروع دن سے ہی غیر اسلامی قوتوں کی برداشت سے باہر تھا لیکن اب کچھ عرصے سے وہ عالم اسلام کے اس ستارے کو توڑنے کی سخت فکر میں ہیں اور یہ یقین بھی کر لینا چاہتی ہیں کہ اس ٹوٹے ہوئے تارے کو کسی صورت میں بھی ہمہ کامل نہ بننے دیا جائے۔ پاکستان دشمن قوتیں اس سے قبل مشرقی پاکستان میں یہ کامیاب تجربہ کر چکی ہیں۔ اس وقت باقی ماندہ پاکستان میں امریکہ نے جو صورت حال پیدا کر دی ہے اس سے حوصلہ پا کر پھر ایسا ہی تجربہ دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ قوتیں غیر جمہوری حکومتوں میں ایسے منصوبوں پر عمل کیا کرتی ہیں کہ ایک حکمران کو پھانس کر یا ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کے حالات پیدا کر لیے جائیں۔ جنرل پرویزمشرف نے ان قوتوں کے لیے وہی کام کیا جو کبھی جنرل یحییٰ خان نے کیا تھا۔ جنرل پرویزمشرف کے اقتدار کو ختم کرنے کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ بعض لوگوں کے خیال میں نئے حکمرانوں نے اس کے کام کو آگے بڑھانے کی حامی بھر لی ہے اور اگر یہ خیال غلط بھی ہو تب بھی حالات بہرحال ایسے ہو چکے ہیں کہ کسی بھی حکومت کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف اس مہم میں سب سے آگے بھارت ہے جس نے افغانستان کے راستے پاکستان میں منظم تخریب کاری شروع کر دی ہے۔ ایک نئی ”مکتی باہنی“ وجود میں آ چکی ہے اور وہ بلوچستان اور سرحد کے شمالی علاقوں میں سرگرم ہے۔ مشرقی پاکستان کے موقع پر روس بہت زیادہ سرگرم تھا اور امریکہ پاکستان کو بچانا نہیں چاہتا تھا۔ اس وقت سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس اس قدر سرگرم نہیں ہے لیکن اس کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے۔ امریکہ بھارت کے ذریعہ اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے اور ظاہر ہے کہ اسرائیل تو ہے ہی جو پاکستان کیخلاف ہر مہم میں شریک رہتا ہے۔ ان مختصر سے اشاروں کے بعد عرض ہے کہ ہماری جمہوری حکومت ان حالات کے پس منظر میں قائم ہوئی ہے اور جس کسی میں جتنی حب الوطنی ہے اس کے لیے حالات اتنے ہی خطرناک ہیں اس وقت پاکستان دشمن کارروائیوں کے سامنے ہماری فوج کھڑی ہے لیکن حکومتی کارندے صرف بیانات جاری کر رہے ہیں۔ دوسرے درجے کے ایکس مین افسر مگر نئے حکمرانوں کے معتمد جناب رحمن ملک صاحب داخلہ امور کے انچارج ہیں۔بدقسمتی سے ان میں اتنی قابلیت‘ صلاحیت اور سوجھ بوجھ نہیں کہ وہ ان پیچیدہ حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ حکومت اس وقت انہی پر انحصار کر رہی ہے لیکن فوج اپنی صوابدید کے مطابق حالات کا مقابلہ کر رہی ہے مگر فوج کسی فوج کا مقابلہ کر سکتی ہے گوریلا جنگ کرنیوالوں اور چھپے ہوئے تخریب کاروں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ سچی اور مختصر سی بات تو یہ ہے کہ ایک جمہوری حکومت عوام کو اعتماد میں لے کر خفیہ تخریب کاری کا مقابلہ کر سکتی ہے اب ان تخریب کاروں کے ہاتھ وزیراعظم تک پہنچ چکے ہیں جو سخت ترین سکیورٹی کے باوجود ان کی گولیوں کی زد میں ہیں جس ملک کے عوام بیدار ہوں باخبر ہوں‘ ہوشیار ہوں وہ اپنے اندر مشکوک افراد کو چھپنے نہیں دیتے لیکن عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے حکمرانی کے انداز میں اخلاقیات اور جس اعتماد و یقین کی ضرورت ہوتی ہے اس کا کسی حکمران کے اندر ہونا لازم ہے اور اس طرح کہ عوام کو اس کی قیادت پر یقین ہو۔ بدقسمتی سے ہم اس وقت اپنے جمہوری حکمرانوں میں ایسی خصوصیات نہیں دیکھ رہے۔
ملک پر اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور وفاق میں بڑے منصب اس کے پاس ہیں۔ پارٹی کے سربراہ اور ملک کے صدر جناب آصف علی زرداری ہیں جن کے بارے میں پاکستانی عوام اچھے خیالات نہیں رکھتے لیکن جمہوری تقاضوں کے پیش نظر وہ خاموشی کے ساتھ نئی حکومت کو دیکھ رہے ہیں اور اس کے احکامات اور پالیسیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ زرداری صاحب نے اس وقت تک یہ کوشش کی ہے کہ وہ وفاق کی نمائندگی کریں اور ملک کے اتحاد کی سلامتی کے لیے کوشاں رہیں۔ ان کا ”پاکستان کھپے“ (قبول) کا نعرہ بہت مشہور ہے جو انہوں نے شہید بینظیر کے سوئم کے موقع پر پارٹی کے مشتعل اور جذباتی کارکنوں کے نعرے ”پاکستان نہ کھپے“ کے جواب میں بلند کیا تھا۔ ٹیلی ویژن پر لوگوں نے اس وقت ان کے چہرے کے تاثرات اور لہجے کو دیکھا اور ملک بھر میں اس پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ زرداری صاحب کو اپنے اس نعرے کی لاج رکھنی ہوگی اور اس کے بامعنی ہونے کو عملاً ثابت کرنا ہوگا اس لیے ان کی ذات پر اگر کسی کو اعتراض ہے بھی تو اس وقت اس سے صرف نظر ہی مناسب ہے۔
ایک پارلیمانی حکومت میں اپوزیشن کا کردار حکومت سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور اپوزیشن حکمرانوں کو سیدھا رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہماری اس حکومت میں سب سے بڑی اپوزیشن میاں نوازشریف کی جماعت مسلم لیگ ہے جو اس کے بقول پیپلزپارٹی کی وعدہ خلافیوں کی وجہ سے اس سے الگ ہو چکی ہے۔ قوم وفاق میں اس اتحاد پر بہت خوش تھی لیکن زرداری صاحب نے ایک سے زیادہ مرتبہ وعدہ خلافی کرکے اس اتحاد کو کمزور کردیا اور میاں نوازشریف اس اتحاد سے الگ ہوگئے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کے وزراءجو اتحاد کے قیام پر حکومت میں شامل ہوئے تھے اپنی وزارتوں سے مستعفی ہو چکے ہیں لیکن وزیراعظم نے ابھی تک ان کے استعفے منظور نہیں کیے اور انہیں ایک کچے دھاگے سے باندھ رکھا ہے مگر عملاً یہ اتحاد ختم ہو چکا ہے۔ میاں صاحب کی پارٹی اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ عوام کی امیدیں اسی اپوزیشن سے وابستہ ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی آواز بھی قومی اسمبلی میں سنائی دے گی۔ یہ ایک مختصر سا تعارف ہے اس وفاقی حکومت کا جو اس وقت کام کر رہی ہے۔ ملک کو خطرات کا ایک طوفان گھیرے میں لینے والا ہے۔ حکمرانوں اور اپوزیشن سمیت پوری قوم ایک سخت آزمائش سے گزرنے والی ہے۔ قوم زندہ ہے اور پر عزم بھی سوال قومی قیادت کا ہے کہ اس میں کتنی جان ہے۔
٭٭٭










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier