اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Fri, 12 Sep 2008 05:11:00

پاکستان سے زندہ بھاگو

پاکستان سے زندہ بھاگو

وجاہت علی عباسی
پاکستان میں رہنے والے لوگوں کا نیا نعرہ ”پاکستان سے زندہ بھاگو“ آج پاکستان میں زندہ رہنا نہیں بلکہ وہاں کے نظام سے بچ نکلنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو، آج پاکستان میں جس کو جو مل رہا ہے وہ اس کو لوٹ رہا ہے۔ پاکستان کی سابقہ پہلے سماجی بہبود کی وزیر اور بعد میں تعلیم کی وزیر زبیدہ جلال نے 2004ءمیں دئیے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت کو پانی صاف کرنا چاہئے، اس لئے حکومت کا حصہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے بذات خود 36 لاکھ روپے کا پانی صاف کردیا۔ جی ہاں ان پر کئی لگنے والے الزامات میں سے ایک الزام اس 36 لاکھ روپے کے پانی کا بھی ہے جو انہوں نے پچھلے کچھ مہینوں میں پاکستان کے غریب عوام کے پیسوں سے پیا۔
زبیدہ جلال کے خلاف وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ایک موٹی فائل دی گئی ہے جس میں انکے سارے کچے چٹھے کھولے گئے ہیں۔ فائل کے مطابق بیگم جلال نے عوام کے اربوں روپے کا غبن کیا ہے۔ اس بارے میں زبیدہ جلال کا کہنا ہے کہ وہ اپنا حق لے کر رہیں گی۔ اب وہ مزید کیا حق لیں گی، یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن جو جانتے ہیں وہ کچھ یوں ہے:
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی زبیدہ جلال کو 1999ءمیں آنے والے سیاسی بدلاﺅ کے بعد وزارت کی گدی سونپ دی گئی اور پوری دنیا کے سامنے انہیں بلوچی اور پاکستانی خاتون کے رول ماڈل کی طرح پیش کیا گیا۔ تعلیم پھیلانے والی بلوچی خاتون کا اتنا چرچا ہوا کہ امریکی وزیر خارجہ مس رائس تک نے زبیدہ جلال کو وائٹ ہاﺅس دعوت پر بلایا۔ انکی عظمت کی کہانیاں سن کر لوگوں نے یہ تک پیش گوئیاں کی تھیں کہ مستقبل میں ہوسکتا ہے کہ زبیدہ جلال پاکستان کی وزیراعظم بن جائیں۔ سب صحیح جا رہا تھا.... پھر پتہ چلا کہ بیگم جلال نے عوام کا 36 لاکھ کا پانی پی لیا۔
اس 30 صفحات کی رپورٹ کے مطابق بیگم جلال کے گھر اور رہن سہن پر حکومت کے بے تحاشہ پیسے خرچ کئے جاتے ہیں جس کا کوئی حساب نہیں رکھا گیا۔ کھانا تو چھوڑئیے، پینے کے پانی یعنی منرل واٹر کی بوتلوں پر 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی فلاح و بہبود کے کام جو انکی وزارت کو سونپے گئے تھے، ان سب کا کام پوری وزارت نے ملکر تمام کیا، یعنی غریب بلوچی بچوں کے نام پر 1.2 بلین روپیہ پھر ضرورتمندوں کو کھانا کھلانے کیلئے لئے گئے۔ اربوں روپے سب کا حساب بے حساب ہے۔
اب اگر کسی پروجیکٹ کا نام ”توانا“ ہوگا تو اس وزارت کا تندرست و توانا ہونا تو لازم ہے۔ 2002ءمیں منظور ہوئے توانا پروجیکٹ کیلئے حکومت نے تین بلین روپے دئیے۔ اس کو خواتین کی صحت کیلئے خرچ کیا جانا تھا۔ حسب معمول ساتھ ہی اس پیسے سے 26 اضلاع میں 250 سکول بننے تھے جس سے ساڑھے چھ لاکھ لڑکیاں جن کی عمر 5 سے 12 کے درمیان تھی، تعلیم حاصل کرتیں، یعنی کل ملا کر توانا پروجیکٹ پاکستان کی خواتین کو فائدہ پہنچانے کیلئے منظور ہوا تھا۔ کم تعلیم ہونے کی وجہ سے وزارت والوں نے پروجیکٹ پلان میں ”خواتین“ کی جگہ ”خاتون“ پڑھ لیا اور اس تین بلین روپے سے جتنا فائدہ ایک خاتون کو پہنچ سکتا تھا، پہنچا دیا۔
رپورٹ کے حساب سے جب توانا کے پیسے کہاں گئے، کی جانچ پڑتال چل رہی تھی، اسی زمانے میں ڈائریکٹر عرفان اللہ خان کا بیگم جلال نے 2005ءمیں اپنی وزارت تعلیم میں تبادلہ کروا لیا تاکہ وہ اپنی بیگم جلال کا وہاں بھی ویسے ہی خیال رکھیں جیسے توانا پروجیکٹ میں رکھا تھا۔ عرفان صاحب کے پچھلے دس سال کا ریکارڈ صاف بتا رہا تھا کہ وہ یہاں بھی ضرور کوئی کمال کر کے دکھائیں گے اور وہ ہر موقع پر پورے اترے۔ انہوں نے بغیر کسی سے پوچھے اپنے نیشنل بینک کے دو اکاﺅنٹس میں 571 ملین روپے ٹرانسفر کرالئے۔ نیویارک سٹی کے علاقے مین ہٹن میں گاندھی جی کا ایک بڑا سا پتلا لگا ہے، یعنی گاندھی کو دنیا بھر میں مانا جاتا ہے، شاید بیگم جلال بھی گاندھی جی ہی کے کہنے پر عمل کررہی تھیں، یعنی نہ برا دیکھو نہ سنو نہ کہو....!
اس کہانی سمیت ساری تفصیلات اب وزیراعظم کے پاس ہیں۔ بری خبر یہ ہے کہ یہ صرف ایک فائل نہیں ہے۔ ایسی کئی فائلیں ہیں جو یا تو کبھی فائلیں بن ہی نہیں پاتیں اور اگر فائلیں بن جاتی ہےں تو انہیں اوپر جانے سے روک دیا جاتا ہے۔ یہ صرف پانی پینے والے وزیروں کی فائل تھی، نہ جانے انکی فائل کہاں گئی جنہوں نے عوام کے پیسوں سے پٹرول پیا تھا۔ جب ایک درخت میں آگ لگ جائے تو اسے بجھایا جاتا ہے لیکن جب پورے جنگل میں ہی آگ لگی ہو تو اسے بجھایا نہیں جاتا بلکہ وہاں سے بھاگا جاتا ہے۔ آج پاکستان سے بھی سب بھاگ رہے ہیں۔ 60 سال پہلے لوگ آزادی کیلئے پاکستان جا رہے تھے اور آج لوگ آزادی کیلئے پاکستان سے جا رہے ہیں۔ ”آزادی“ اس نظام سے جہاں ہزاروں غریب معصوم بچوں کو رات کو بھوکا سونا پڑتا ہے تاکہ انکے ملک کے وزیر 36 لاکھ روپے کا پانی پی سکیں....!
٭٭٭

 


5 / 5 (3 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier