|
(قمر علی عباسی) ملزم قیدی ڈی منشیا کا مریض یہ کل تھا اور آج صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان یہ کہانی ہے جناب آصف زرداری کی کون جانتا تھا کسے معلوم تھا کون گمان کرتا تھا کہ چھ مہینے کی مدت میں دنیا بدل جائے گی۔ اٹھارہ فروری 2008ءکو شروع ہونے والے سفر کی منزل ایوان صدر ہے۔ لوگوں نے سوچا نہیں تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ کیا در نایاب ہے۔ صلاحیتوں کا ایک ایسا منبع ہے جو ہر طرف چھا سکتا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ہم نہ سیاستدان نہ معاشیات دان نہ سائنس دان کہ تحقیق کر سکیں کہ یہ سب کیسے ہوا لیکن ہم اس سفر کے ایک ایک قدم ایک ایک پل کے شاہد ہیں جس طرح مخالفین کو یکجا کیا اکٹھا رکھا اور سیاسی سوجھ بوجھ سے انہیں رام کیا وہ مشکل کام ہے۔ ایک طرف پرانے تجربہ کار منجھے ہوئے سیاستدان اور دوسری طرف تقریباً جلا وطن گیارہ سال قید میں گزارنے والا بیمار شخص لیکن فتح اسی کی ہوئی۔ سیاست میں وقت کی بڑی قدر ہوتی ہے، لمحے بڑے قیمتی ہوتے ہیں۔ بروقت فیصلہ شکست کو فتح میں بدل سکتا ہے۔ آصف زرداری کے سفر صدر میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ سیاست ایسا کھیل ہے کہ جس نے سمجھداری سے کھیلا میدان اسی کے ہاتھ۔ پاکستان میں سولہ کروڑ عوام بھوکے پیاسے، پسینے میں شرابور، بیمار ہر ایک کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے وہ مسیحا ہو۔ پاکستان کے تمام رہنما یہ کردار ادا نہ کر سکے ،لوگ مایوس ہوئے، پھر امید لگائی جو ٹوٹ گئی لیکن صبر کا دامن نہ چھوڑا اسی لیے ایوان صدر کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کو دی جس سے سب کو بڑی امیدیں ہیں۔ پاکستان کے دانشور ،سیاستدان‘ اہل فکر ،صنعتکار کل آصف زرداری کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہیں رکھتے تھے جس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے لیکن آج وہ سب مل کر ان کی جے جے کار کر رہے ہیں‘ اسے بدلتا وقت کہتے ہیں جو شاید پاکستان میں آگیا ہے۔ اگر دیکھا جائے اقتدار و اختیار ایک امتحان ہوتا ہے جس میں اکثر حکمران ناکام ہوتے ہیں جس کے پاس لاٹھی ہوتی ہے وہ سمجھتا ہے بھینس اسی کی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اگر بھینس پلٹ کر ٹکر مار دے تو لاٹھی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ پاکستان کے رہنما کالاباغ کی مخالفت کرتے ہیں اور عوام کو سبزباغ دکھاتے ہیں اور وہ بھی ایسے بھولے ہیں کہ بار بار انہی خوابوں کو دیکھنے کی تمنا کرتے ہیں۔ ان دنوں یوں بھی پاکستان کے لوگ صرف خواب دیکھ رہے ہیں اور ہر رہنما انہیں پورا کرنے کا وعدہ کر رہا ہے ایسے میں صاحب اقتدار جس کرسی پر بیٹھتا ہے وہ دراصل کانٹوں سے بنی ہوئی ہے جو نہ چین لینے دیتی ہے نہ آرام پہنچاتی ہے۔ ان دنوں ٹیلی ویژن پر شہزاد رائے کا ایک گانا بار بار چلتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”جب میں دس سال کا تھا 9.0 نیوز پر سنا پاکستان تاریخ کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے“ جب وہ بیس سال کا ہوا تو بھی یہی بات دہرائی جا رہی تھی۔ پاکستان کو بنے اکسٹھ سال ہوگئے اور آج بھی پہلے دن کی طرح وہی حالات بتائے جاتے ہیں۔ سنا ہے پاکستان کو بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ امن و امان‘ دہشت گردی اور سب سے زیادہ جمہوریت کی بقا اور اس کا استحکام موجودہ حکومت نے اپنے وجود میں آنے کے پہلے دن سے یہ نعرہ لگایا ہے جمہوریت کو مضبوط کریں گے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرائیں گے اور اس عزم کو ہر وزیر مشیر اپنی تقریروں میں دہراتا رہتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو ایک عرصے کے بعد اکثریت میں اقتدار ملا ہے اس وقت تمام وزیر، مشیر، قومی اسمبلی کے اسپیکر‘ وزیراعظم اور اب صدر مملکت بھی انہی کے ہیں۔ اسے کہتے ہیں کل اختیار۔ ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے اس کے لیے ہر شخص مشورے دے رہا ہے دیتا رہے گا لیکن ہم غالباً اکیلے شخص ہیں جو کسی قسم کا مشورہ نہیں دے رہے۔ اس کے لیے ہم نے واشنگٹن میں یہ ذمہ داری وہائٹ ہاﺅس کو دے دی ہے۔ وہ جانیں اور نئے صدر مملکت۔ ستمبر کے مہینے میں جناب آصف زرداری بحیثیت صدر پاکستان امریکہ آئیں گے اور امید ہے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب فرمائیں گے۔ اس موقع پر انہیں یقینا موجودہ صدر سے ملنا ہوگا۔ یہ ملاقات وہائٹ ہاﺅس میں ہوگی اور جب وہ یہاں سے جائیں گے تو بلیک اینڈ وہائٹ یعنی سیاہ و سفید کے مالک بن کرجائیں گے۔ پاکستان کی تاریخ ایوان صدر کے بارے میں کیا تحریر کرے گی یہ بڑے سے بڑا نجومی بھی نہیں بتا سکتا۔ ٭٭٭
|
|