|
(ملک سلیم اکبر) ایک بہت ہی محتاط ترین اندازے کے مطابق اس وقت امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد 11 ملین کے لگ بھگ ہے۔ امریکہ میں اسلام جس تیزرفتاری کے ساتھ پھیل رہا ہے مسلمان اس سے بھی زیادہ تیزرفتاری کے ساتھ انتشار کا شکار ہو کر گروہ بندیوں میں منتشر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اپنے علاقے کے ہر محلے میں عیسائیوں اور یہودیوں کے فیونرل ہوم (Funeral Home) کثرت کے ساتھ ملیں گے لیکن امریکہ میں عددی لحاظ سے سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود مسلمانوں کا شاید ایک بھی فیونرل ہوم نہیں ملے گا نہ ہی ہمارا کوئی کمیونٹی ہال ہے جہاں دکھ سکھ میں کمیونٹی متحد ہو کر جمع ہوسکے۔ دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ امریکہ کی تمام ہی ریاستوں میں درجنوں کی تعداد میں نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ایسے اہل ثروت، صاحب حیثیت مالدار پاکستانی موجود ہیں جو اپنی ریاستوں کے پبلک سکولوں کو لاکھ دو لاکھ ڈالروں کی نہیں بلکہ ملین، دو ملین ڈالروں کی امداد محض سکول کی لائبریری بنانے کیلئے دیدیتے ہیں لیکن مسلمانوں کی اہم ترین ضرورت یعنی مسلمانوں کے فیونرل ہوم کی جانب توجہ نہیں فرماتے۔ میں اور آپ ایسے کتنے ہی مالدار پاکستانیوں کو جانتے اور پہچانتے ہیں کہ جو پاکستان سے آنے والے سیاستدانوں کی امریکہ آمد کے موقع پر اپنی چودھراہٹ کی خاطر ان سیاستدانوں کے امریکہ میں سیاسی جلسوں اور دعوتوں پر ہزاروں ڈالر محض اس شوق میں لٹا دیتے ہیں کہ پاکستانی اخبارات میں ان کے من پسند سیاسی رہنماﺅں کے ساتھ ان کی تصاویر شائع ہوسکیں اور وہ کمیونٹی میں اپنی ”ٹور“ بناسکیں۔ افسوس صد افسوس کہ وہ اپنی کمیونٹی میں وقتی نام و نمود کے چکر میں اپنی دولت ضائع کررہے ہیں جبکہ ان کا دائمی نام صرف اور صرف اسی صورت میں زندہ رہ سکتا ہے جب وہ کمیونٹی کے فلاحی کاموں میں حصہ لیکر کمیونٹی کے حقیقی معنوں میں دل جیتیں۔ جب وہ کمیونٹی میں بزنس کرکے کمیونٹی سے دن رات پیسے بٹورتے ہیں تو پھر کمیونٹی کو Pay Back بھی کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی صورت میں تو ضرور کرنا چاہئے، جس طرح پاکستان کے شادی ہال میں جگہ نہیں ملتی، کچھ یہی حال امریکہ میں فیونرل ہوم کے بزنس کا ہے۔ ایک ایک فیونرل ہوم میں بیک وقت تین تین چار چار فیونرل ہوتے ہیں اور فیونرل ہوم والے ہزاروں ڈالر روز بناتے ہیں۔ گویا فیونرل ہوم امریکہ کی کبھی نقصان نہ اٹھانے والی منافع بخش انڈسٹری بن کر روز بروز ترقی کررہی ہے۔ میں انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ تجویز پیش کرنا چاہوں گا کہ دس پندرہ اہل ثروت اور مالدار پاکستانی مل جل کر اپنی اپنی ریاستوں میں فیونرل ہوم بنائیں اور پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کرنے کے ساتھ ہی ساتھ اپنے فیونرل ہوم کو خالصتاً تجارتی سطح پر دوسری کمیونٹی کیلئے بھی چلائیں، بس ہماری اوّل و آخر گزارش یہی ہے کہ اپنے فیونرل ہوم میں مسلمانوں کو عین اسلامی اور مذہبی بنیادوں پر کفن دفن کی تمام سہولتیں فراہم کرکے اپنی آخرت بھی سنواریں اور دنیا میں مال بھی بنائیں، بس اپنے فیونرل ہوم میں مسلمانوں کی میتوں کو عزت و احترام سے کفن دفن کی سہولتیں فراہم کریں کیونکہ غیراسلامی فیونرل ہوم میں ہماری ماﺅں، بہنوں کی لاشوں کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ آپ ہمیں 718-692-0707 پر فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے بتائیں کہ کیا امریکہ میں ہمارے تمام سماجی، فلاحی، سیاسی اور دینی کاموں کے علمبردار تمام رہنما اکٹھے ہوجائیں تو کیا وجہ ہے کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کی تقدیریں نہ بدل جائیں۔ رونا صرف یہی ہے کہ پاکستان ہی کی طرح یہاں امریکہ میں بھی ہماری قیادت بہت کرپٹ ہے۔ یقین کیجئے کہ قیادت اور لیڈرشپ اگر ایماندار ہو تو قوموں کی تقدیریں بدل جایا کرتی ہیں۔ ہم نے پاکستان سے آپ کے بچوں اور بچیوں کیلئے رمضان المبارک میں بلاقیمت اور مفت دینے کیلئے آسان نماز کی کتابیں منگوائی ہیں جو آپ ہمارے ایڈریس پر ہمارے آفس آکر بالکل مفت حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کتابوں میں چھ شش کلمے، وضو، غسل، تیمم کے مکمل طریقے، نماز کے فرائض، واجبات، سنتیں، سجدہ سہو کے مسائل، نماز جمعہ، نماز جنازہ، نماز عید، نماز استخارہ، زکوٰة، حج، قربانی کے علاوہ بہت سی دعائیں اور مذہبی مسائل کی موجود ہیں۔ ہمارے پاس آپ کو بلاقیمت اور بالکل مفت دینے کیلئے ویڈیو کیسٹ بھی ہیں۔ براہ کرم اپنے بچوں کو روشناس کروانے کیلئے ہمارے آفس آکر مفت حاصل کریں اور اپنے علاقے کے معززین شہر پر زور دیں کہ وہ آپ کے علاقے میں فیونرل ہوم قائم کریں۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد ٭٭٭
|
|