وکیل انصاری
امریکی صدارتی انتخابات کا سب سے اہم مرحلہ یعنی سیاسی پارٹیوں کا کنونشن اختتام پذیر ہوا۔
ری پبلکن اور ڈیموکریٹ امیدوار اپنے اپنے لائحہ عمل کو عام امریکی تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ اب تقریباً یہ دو ماہ یا چھ ہفتے کا وقت امریکی عوام کے لئے کافی ہے کہ وہ کس امیدوار کو منتخب کرتے ہیں۔
امریکہ میں صدارتی انتخابات ہر چار سال میں ہوتے ہیں اور اب ہر امیدوار جانتا ہے کہ کس STATE میں اسکے جیتنے کے امکانات ہیں کس STATE میں اسکی فتح یقینی ہے اور کس STATE میں اسکو مزید محنت کرنا ہے۔
گزشتہ صدارتی انتخابات میں ری پبلکن بمشکل فلوریڈا، اوہائیو اور پنسلوانیا سے جیتے تھے لہٰذا ڈیموکریٹ اس سال پوری توجہ ان ریاستوں کو دے رہی ہے ان ریاستوں کے ڈیلی گیٹ ووٹ ہی دراصل امریکی صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔
امریکہ میں صدارتی انتخابات عوامی ووٹوں کی اکثریت سے تو جیتے جاتے ہیں مگر یہ اکثریتی ووٹ دراصل ہر ریاست کے ELECTED VOTES کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ کس صدر کے پلے میں جا کر گریں گے۔
8 سال پہلے فلوریڈا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ووٹوں کی گنتی نے ثابت کیا کہ وہ ڈیلی گیٹ ووٹ کس امیدوار کے حصے میں آئیں گے۔
بہرحال موجودہ انتخابات بھی بہت معرکے کے ہیں۔ ڈیموکریٹ اور ری پبلکن امیدواروں نے ثابت کر دیا کہ وہ کس مٹے کے بنے ہیں قدامت پسندوں اور لبرل کے مابین یہ کلاسیکل انتخابات ہیں۔
اوبامہ کے بارے میں ان کے خارجہ تعلقات میں کمی کو انکے نامزد امیدوار جناب جو بائیڈن نے کمی دور کر دی ہے اور ڈیمو کریٹ BALANCE ہو گیا ہے۔ جو بائیڈن امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور انکے تجربہ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے!
ادھر انتظامی امور کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ری پبلکن صدارتی امیدوار نے الاسکا کی گورنر سارہ پارلن کو بحیثیت نائب صدر نامزد کر کے اس کمی کو پورا کیا ہے۔ عام خیال ہے کہ سارہ پارلن کو ری پبلکن کے رجعت پسندوں کو خوش کرنے کے لئے انکو نامزد کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ خوش شکل کم عمر اور رجعت پسند سارہ پارلن کیا اوبامہ اور جو بائیڈن کے ساتھ ساتھ نیویارک کی سینیٹر ہیلری کلنٹن کا سحر عورتوں میں توڑنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں یا نہیں۔
چھ ہفتوں کی انتخابی مہم جاری ہے! امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک افریقن نژاد شخص امریکہ کا صدر بننے جا رہا ہے! کیا امریکی عوام ایک افریقی نژاد کو امریکہ کا صدر تسلیم کرنے کو تیار ہیں!
گزشتہ 25 سالوں میں امریکہ کی سوچیں بہت بدلیں ہیں بڑے شہروں میں بسنے والے گورے میرے خیال میں ایک افریقی نژاد کو صدر تسلیم کرنے کو تیار ہیں مگر چھوٹے شہروں کے گورے اور بائل بیلٹ کے بسنے والے رجعت پسند گورے اس وقت تک کسی افریقی کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ الیکشن امریکی تاریخ کو مرتب کرنے جا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکی عوام ان انتخابات کو کس طرح دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں کیا وہ موجودہ صورتحال اور بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں اور یہی سوال ری پبلکن کے ساتھ ساتھ ڈیمو کریٹ سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر دنیا کی قیادت سنبھالنے کو تیار ہیں!