|
(ظہیرالدین بٹ) صدر پاکستان کے الیکشن ہوتے ہی جمہوریت کی ریل بھی مکمل ہوگئی ہے۔ سب سے پہلے تو ہم پاکستان کے بارھویں صدر منتخب ہونے پر وہ بھی جمہوری طریقے سے مبارکباد پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں خوشی بھی ہے اور رشک بھی ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا جو نظام ہے اسے کوئی نہیں سمجھ پاتا۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے‘ کوئی نہیں جانتا‘ سالہا سال تک جیلوں میں راتیں گزارنے والا شخص آج محلوں میں پہنچ گیا ہے۔ یہ سب خدا کی شان ہے اور اس انسان کا امتحان ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی نہ کسی طریقے سے گزارتی ہے۔ آسائش‘ راحتیں اور خوشیاں دیکر یا پھر مشکلات اور مصائب میں گرفتار کرکے‘ دراصل ہر دو طرح سے انسان کا امتحان ہی مقصود ہوتا ہے کہ کتنا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ توکل اور صبر شکر کرنے والا ہے۔ حقائق کی طرف اگر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان کے عوام کی اکثریت شاید بجھے دل سے ان کو صدر کے عہدے پر قبول کرلے لیکن اب یہ ایک حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنا ہی ہمارے اخلاقی جواز کی ضرورت ہے۔ انسان کا کیا پتہ اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے کاموں کو کوئی نہیں جان سکتا کہ ان جیسے لوگوں سے کیا کام سرانجام دلا دے۔ وقتی طور پر تو شاید ایسا محسوس نہ ہو لیکن بعدازاں کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ہمیں ان حالات میں اللہ تعالیٰ کے آگے سربسجود ہو کر اچھے کی ہی دعا کرنی چاہیے۔ حلف وفاداری ہو چکی‘ پریس کانفرنس بھی کرلی گئی اور توپوں کے منہ بھی کھل گئے اور گھن گرج کی آوازیں بھی آنے لگیں۔ مخالفین نے آوازے کسنے شروع کر دیئے‘ میڈیا پر مخالفین کا پروپیگنڈا بھی شروع ہو چکا لیکن ہمیں پھر بھی صبر اور انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تیل اور تیل کی دھار کو تو کچھ عرصہ دیکھنا ہی ہوگا۔ اب جبکہ صدر آصف علی زرداری صدر ہاﺅس پہنچ چکے ہیں تو انہیں پارٹی لیول سے اوپر آ کر ملکی سطح پر سوچنا ہوگا کیونکہ اب وہ پورے پاکستان کے صدر ہیں۔ اس لیے اب ان کے اقدامات سے یہ ثابت ہونا چاہیے کہ وہ ملک اور پوری قوم کے لیے فیصلے کر رہے ہیں۔ پارٹی کی کو چیئرمینی سے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی اور قوم کی خوشحالی‘ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے‘ مہنگائی کو ختم کرنے‘ گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے‘ بیروزگاری کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے انہیں ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں جیسے عمران خان‘ قاضی حسین احمد سمیت سب کو ایک میز پر بٹھا کر ملک اور قوم کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ پھر پارلیمنٹ کے ذریعے ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو ملک کے لیے اور عوام کے لیے بہتری ثابت کر سکیں۔ مخالفین اور سیاسی لیڈران سے انتقام کو ذہن سے نکالنا ہوگا اور اس عہدے پر پہنچنے‘ عوام اور پارلیمنٹ کے مینڈیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا ہوگا کہ اس نے اتنی بڑی ذمہ داری سے نوازا ہے۔ اس کے لیے ہمیں پوری قوم سے درخواست کریں گے کہ وہ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ملک و قوم کے لیے بہترین فیصلے کرنے کی ہمت و جرا¿ت عطا فرمائے۔ (آمین) حسب سابق حکمرانوں کی تقلید اور غیرملکی آقاﺅں کے حکم بجا لانے کے بجائے ہمیں اپنے ملک کے بہترین مفاد کے لیے فیصلے کرنے ہوں گے۔ تمام سیاسی جماعتوں چاہے وہ پارلیمنٹ کے اندر ہیں یا باہر کو ملا کر ملکی سطح پر اجتماعی سوچ اور مشاورت کے بعد ہی فیصلے کرکے عملدرآمد کرنا ہوگا۔ ملک میں معاشی حالات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ لوگوں کو سہولیات اور ضروریات کی اشیاءمیسر نہیں ہیں۔ اسی لیے سب کو ساتھ لیکر اور قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا تاکہ ملک کو اس بھیانک حالات سے باہر نکالا جا سکے۔ میڈیا پر ابھی سے ان کیخلاف پروپیگنڈا شروع کردیا گیا ہے اور منفی سوچ کے تحت ان کے ہر قدم اور کام میں کیڑے نکالنے شروع کردیئے گئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ تنقید ہو لیکن مثبت‘ اصلاحی اور تعمیری نہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے غلطیوں کے پہاڑ بنانے شروع کر دیئے جائیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور مفید مشورے دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر پھر بھی ایسا لگے کہ اچھے رزلٹ نہیں آ رہے تو پھر تنقید مخالفت اور ہر وہ بات کہنے کا پورا حق ہے جس سے حقیقت اور سچائی سامنے آتی ہو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری سب کو ساتھ لیکر چلیں گے اور کیے گئے وعدوں پر پورا اتریں گے۔ جو امیج ججوں کی بحالی یا پھر میاں محمد نوازشریف سے کیے گئے معاہدوں سے خراب ہوا ہے اسے بہتر کرنے کی عملی کوشش کریں گے۔ امید ہے کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی صوبوں اور مرکز میں قائم حکومت کو گرانے یا پھر ان کی مخالفت کرنے سے گریز کریں گی‘ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ صدر بننے کے بعد اکثر طوفانی دورے اور امریکی یاترا شروع ہو جاتی ہے اگر ضرورت ہو تو کوئی اعتراض نہیں لیکن بے جا مصرف سے بھی ہاتھوں کو روکنا ہوگا اور وہی پیسہ غریب عوام کے لیے خرچ کرنا ہوگا۔ ویسے بھی صدر صاحب آپ پر کافی داغ لگے ہوئے ہیں۔ کوئی کرپٹ کہتا ہے تو کوئی ٹن پرسنٹ‘ انہیں اب اپنے اچھے عملوں‘ اقدامات سے دھونا ہوگا اور ثابت کرنا ہوگا کہ خالی خولی الزامات سے انسان بے عزت نہیں ہوتا۔ ان داغوں کو دھونے کے لیے اب بہترین موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
|
|