|
(عبدالقادر حسن) ایک روایت سی بن گئی ہے کہ نئی آنیوالی حکومت کے ابتدائی سو دن دیکھے جاتے ہیں کہ اس نے اپنے پروگرام کو کس حد تک مکمل کیا یا اس کی تکمیل کی طرف کوئی پیشقدمی کی۔ ہماری وفاقی حکومت کے بھی سو دن پورے ہونے کو ہیں اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان ابتدائی سو دنوں میں حکومت کی کارکردگی کیا رہی۔ یہ ذہن میں رہے کہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ ایک مخلوط حکومت کہی جاتی ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) دوسری بڑی پارٹی کی حیثیت سے اس کی شریک ہے لیکن یہ شراکت برائے نام ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے وزیر مقرر کئے گئے۔ انہوں نے جناب پرویز مشرف سے حلف بھی لے لیا اور وزارتیں بھی سنبھال لیں لیکن کچھ اس بے دلی کے ساتھ کہ وہ ٹھیک سے اپنی وزارتوں کا چارج بھی نہ لے سکے اور جلد ہی حکومت سے علیحدہ ہوگئے۔ اختلافی مسئلہ معزول ججوں کی بحالی کا تھا جس پر اتفاق نہ ہوسکا۔ اس طرح ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جو بظاہر وزیراعظم گیلانی صاحب کی قیادت میں چل رہی ہے لیکن اس کے اصل نگران پارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری ہیں اور حکومت کی پالیسیوں کو وہی طے کرتے ہیں۔ اب پہلے سو دنوں کی کارکردگی پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ اس حکومت کو کسی سیاسی اختلاف کا سامنا نہیں تھا۔ اس کے حلیف اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے، ان کی دلی خواہش تھی اور ہے کہ یہ حکومت کامیاب رہے اور گزشتہ آٹھ ساڑھے آٹھ برس کی فوجی آمریت کی خرابیوں کا ازالہ کرسکے۔ نئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام سے روٹی، کپڑا، مکان کے وعدے پر ووٹ لیکر آئی ہے لیکن اس دوران حکومت نے اپنے ان تین نعروں میں سے کسی ایک نعرے کی تکمیل کی کوشش بھی نہیں کی بلکہ روٹی، کپڑے، مکان کی طرف کوئی پیشقدمی بھی نہیں کی۔ جہاں تک روٹی کا تعلق ہے وہ اس قوم کا بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ ملک میں گندم موجود ہے مگر انتظامی نااہلی کی وجہ سے وہ عوام تک پہنچ نہیں رہی اور بازار میں روٹی کی قیمت اتنی بڑھ چکی ہے اور بڑھتی چلی جا رہی ہے کہ عام پاکستانی دو وقت کی روٹی بھی اطمینان سے نہیں کھا سکتا۔ آٹے کا حصول اتنا ہی مشکل ہے جتنا اس حکومت کے آنے سے پہلے تھا۔ کپڑا تو پھٹا بھی پہنا جاسکتا ہے لیکن سر پر چھت نہ ہو تو گزر بسر مشکل ہوجاتی ہے۔ ہم پاکستانی کبھی بھارتی حکومت کا مذاق اڑاتے تھے کہ اس کے بڑے شہروں میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ یہ فٹ پاتھ ہی ان کا گھر ہیں جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں لیکن اب پاکستان میں لاکھوں تو نہیں لیکن ہزاروں لوگ راتیں فٹ پاتھوں اور کھلے میدانوں میں بسر کررہے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں تو رات گزر جاتی ہے لیکن سردیوں میں کیا ہوگا، اس کا اندازہ مشکل نہیں ہے۔ حکومت نے ان تینوں مشکلات کے ازالے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا سوائے اس کے کہ زرداری صاحب بار بار کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے ووٹ کس پروگرام کے تحت لئے تھے، یہ بھی وہ شاید اس لئے کہتے ہیں کہ یہ کہہ سکیں کہ انہوں نے ججوں کی بحالی کیلئے ووٹ نہیں لئے صرف روٹی، کپڑا، مکان کیلئے ووٹ لئے ہیں۔ مختصراً یہ کہیں کہ نئی حکومت نے اپنے ابتدائی سو دنوں میں ملک کی معاشی زندگی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ حکمرانوں کے اطوار وہی ہیں جو سابقہ فوجی حکومت کے تھے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم سعودی عرب تشریف لے گئے۔ گئے وہ تیل مانگنے کیلئے تھے لیکن اپنے ساتھ 80 سے زیادہ افراد لے گئے جبکہ تیل مانگنے کیلئے وہ خود اور چند افسر کافی تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئے حکمرانوں کے انداز بھی وہی ہیں جو ان کے پیشرو حکمرانوں کے تھے اور انہیں ملک کی معاشی حالت کی کوئی پروا نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے قومی سطح پر مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی ہے اور ان ابتدائی دنوں میں اس کی یہی قابل تعریف بات ہے۔ بلوچستان کے مسئلے پر زرداری صاحب نے بذاتِ خود بلوچوں سے معافی مانگی اور بلوچستان کیلئے بہتر پالیسی بنانے کی کوشش کی۔ اگرچہ بلوچستان کا مسئلہ آسان نہیں رہا اور اس میں بیرونی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں لیکن نئی حکومت بلوچوں میں پاکستان پر اعتماد بحال کرنے کی کوشش ضرور کررہی ہے۔ زرداری صاحب کا کہنا ہے کہ بلوچستان اپنے بے پناہ وسائل کے اعتبار سے پاکستان کا مستقبل ہے۔ پارٹی کی حکومت نے شمالی علاقوں میں بھی صورتحال کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دی ہے جس کا ایک خوشگوار نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات بہت کم ہوگئے ہیں۔ اسی طرح صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی کسی حد تک کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے اور وہ اس کی مستحق ہے لیکن اس سے کسی انقلابی تبدیلی کی توقع بے سود ہے۔ پارٹی کا بھی وہی طبقہ برسراقتدار ہے جو بالادست طبقہ کہا جاتا ہے اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ زرداری صاحب نے ایک طرف تو صوبوں کے ساتھ مفاہمت میں خاصی پیشقدمی کی ہے لیکن تعجب ہے کہ وہ اپنی اتحادی جماعت کے ساتھ وہ مفاہمت پیدا نہیں کرسکے جس کی ان سے توقع تھی۔ میاں محمد نوازشریف کے الیکشن کےخلاف فیصلے میں بھی یہ شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اس سے ناراض نہیں ہے۔ اگرچہ زبانی کلامی مذمت کی گئی ہے لیکن کوئی ایسی سرگرمی فوری طور پر ظاہر نہیں ہوئی جس سے اندازہ ہو کہ پارٹی نے اپنے سب سے بڑی اتحادی کے ساتھ اس زیادتی کو قبول نہیں کیا۔ جن حالات میں نئی حکومت قائم ہوئی تھی اس کے ساتھ عوام نے جو توقعات وابستہ کی تھیں، افسوس کہ پارٹی اپنے ووٹروں کو اپنے پہلے سو دنوں میں مطمئن نہیں کرسکی۔ ٭٭٭
عادل فاروقی
(adil@phony.com)
شکاگو
بہت اچھا آرٹیکل ہے۔
|
|