|
رچرڈ باﺅچر پاکستان خود آئے ہیں یا بلائے گئے ہیں؟ امریکی معاون وزیر خارجہ رچرڈ باﺅچر آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے مختلف رہنماﺅں اور حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ خصوصی طور پر وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف‘ میاں محمد نوازشریف کے علاوہ ان کی ملاقات پنجاب کے گورنر سلیمان تاثیر سے بھی ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وہ کوئی خاص پیغام لیکر نہیں آئے ہیں بلکہ ان کی میاں نوازشریف سے ملاقات کے دوران قومی امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ ادھر میاں نوازشریف نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے واضح کردیا ہے کہ صدر پرویزمشرف پاکستان میں آزاد اور خودمختار جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کیخلاف صدر مشرف کی پالیسی میں تبدیلی لانی ضروری ہے۔ یہ منظوری پارلیمنٹ سے حاصل کرنا ضروری ہے۔ ادھر قبائلی علاقوں میں آپریشن اور بندوق کے زور پر امن قائم کرنے کی کوشش بالکل غلط ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان پر اتحادی فوج کے حملوں پر امریکہ سے احتجاج بھی کیا ہے۔ ادھر رچرڈ باﺅچر نے جواباً صاف صاف کہہ دیا ہے کہ صدر مشرف اقتدار سے غیرمتعلق ہو چکے ہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں زیادہ فکر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ رچرڈ باﺅچر نے نوازشریف پر یہ بھی زور دیا ہے کہ وہ صدر مشرف کے خلاف سخت رویے میں لچک پیدا کریں اور ان کیخلاف مواخذے سمیت کسی بھی قسم کی کارروائی کو کرنے سے گریز کریں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ان کے اوپر چھوڑ دیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا رچرڈ باﺅچر نے ایسا کرنے کا میاں نوازشریف کو مشورہ دیا ہے یا پھر انہیں ایسا نہ کرنے کی انہیں دھمکی ہے؟ کیونکہ پہلے بھی ذوالفقار علی بھٹو کو دھمکیاں ملی تھیں اور وہ بھی وزیرخارجہ کی طرف سے اور اس کا انجام سب کے سامنے ہے۔ جمہوریت میں کہتے ہیں کہ کچھ بھی حرف کل نہیں ہوتا۔ سیاسی پارٹیاں ذاتی مفادات یا پھر ملکی مفاد کا ڈھونگ رچا کر کچھ کام ایسے بھی کر جاتی ہیں جسے کرنا تو کیا کبھی کبھی اس بارے سوچنا بھی مناسب خیال نہیں کرتیں۔ وزیراعظم گیلانی نے جب اقتدار سنبھالا تو اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو قائم کریں گے اور ملک کے ہر فیصلے کو پارلیمنٹ کے ذریعے ہی کروائیں گے۔ ادھر میاں نوازشریف بھی ہر مسئلے کو پارلیمنٹ میں ڈسکس کرنا اور اس بارے فیصلہ کروانے کے خواہشمند ہیں لیکن عملاً کیا ہو رہا ہے ساری دنیا جانتی ہے۔ سو دن کا پروگرام دینے کے بعد پارلیمنٹ اور حکومت نے عوام کے لیے آج تک کچھ بھی نہیں کیا۔ سوائے مہنگائی بڑھانے‘ تیل کی قیمتوں کو آسمانوں پر لے جانے‘ سبسڈیز کو ختم کرنے اور مسائل کو کم کرنے کے بجائے اور زیادہ کرنے کی طرف زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ کالاباغ ڈیم کا مسئلہ کئی دہائیوں سے لٹک رہا ہے۔ صوبے اس پر اختلافات کا شکار ہیں ہر آنے والے لیڈر نے اس کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا لیکن پھر ہمیشہ کی طرح ہینڈز اپ کردیا۔ گزشتہ سال بجٹ میں اس کے لیے فنڈز بھی رکھے گئے تھے لیکن مسلم لیگ ن کے وزیر نے بیک جنبش قلم اس پراجیکٹ کو ختم کرنے کا اعلان کردیا نہ ہی یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں لایا گیا اور نہ ہی اس پر کوئی بحث و مباحثہ کیا گیا۔ یہی نہیں قبائلی علاقوں‘ سوات اور پشاور جیسے شہروں میں آپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس کو بھی پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا بلکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بنفس نفیس چیف آف آرمی سٹاف کو یہ پاور دے دی ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں کسی بھی آپریشن کے بارے میں خود ہی فیصلہ کرکے کارروائی کریں تو یہ ہے ہمارا عمل!!! کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ ابھی تک پارلیمنٹ میں کسی قسم کی کوئی بھی قانون سازی نہیں ہوئی بلکہ آج کل تو ایک دوسرے کیخلاف خفیہ خفیہ کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ ایک پارٹی جو کہتی ہے اتحادی جماعت اس کے مخالف بیان داغ دیتی ہے۔ یوں ملک کس سمت جائے گا؟ اس کا کیوں خیال نہیں رکھا جا رہا۔ قبائلی علاقوں میں مقیم طالبان سے سرحد حکومت نے معاہدے کئے ہیں اور بار بار یہ بات دھرائی جا رہی ہے کہ معاہدوں پر سختی سے عمل ہو رہا ہے پھر دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ کبھی حکومت کی طرف سے کہ طالبان کو ملک کے اندر دوسری متوازی حکومت قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ادھر طالبان اعلان کرتے ہیں کہ اگر قبائلی علاقوں میں فوجی اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن بند نہ کیا گیا تو معاہدے ختم کر دیئے جائیں گے۔ ادھر امریکی حکومت بھی ان معاہدوں کی شروع سے مخالف ہے اور چاہتی ہے کہ ان کے خلاف طاقت کا بھی استعمال کیا جائے جو اب موجودہ حکومت بھی کر رہی ہے۔ یہ کام کئی سالوں سے صدر پرویزمشرف کرتے آئے ہیں اور اب یہ کام نئی حکومت کرنے لگی ہے پہلے کہا جاتا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز ایک ربڑسٹیمپ وزیراعظم تھے اور وہ صدر مشرف اور امریکہ کے ایجنڈے کو پورا کرنے آئے ہیں لیکن اگر اب نظر دوڑائی جائے تو کچھ مختلف نہیں کیونکہ موجودہ وزیراعظم ہر کام پارلیمنٹ اور وزراءیا کابینہ کی مشاورت سے نہیں بلکہ پارٹی کا احترام کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین کی مرضی اور ہدایات کے مطابق کر رہے ہیں اگر وہ ملک سے باہر ہوں تو ہر کام رک جاتا ہے اور ان کی واپسی کا منتظر ہوتا ہے۔ یہ کیسی حکومت ہے جو پارلیمنٹ کو بالادست تو بنانا چاہتی ہے لیکن فیصلے باہر رہ کر ہی کرتی ہے۔ ادھر ہمارے ہر مسئلے کے حل کے لیے ہمارے لیڈران ہمدرد یا برادر ملک اتنے پریشان نہیں ہوتے جتنے کہ امریکہ کہ اہلکار پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ ججز کا معاملہ ہو قبائلی علاقوں میں آپریشن یا پھر صلح صفائی کروانا مقصود ہو ذمہ داران ملاقاتوں کی چھتری کے اندر ہمارے سیاستدانوں‘ حکمرانوں اور دیگر لیڈران پر اپنا دباﺅ ڈالتے رہتے ہیں۔ آج کل بھی رچرڈ باﺅچر کا پاکستان میں آنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو اپنے مسئلے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور غیروں کو اس میں دخل اندازی کی دعوت دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ عزت و احترام انسان کے اپنے بس کی بات ہے۔ دوسروں کی عزت کرنا اور اپنی کروانا یہ اپنے اوپر ہی منحصر ہوتا ہے۔ رچرڈ باﺅچر پاکستان خود آئے ہیں یا بلائے گئے ہیں یہ عوام خوب جانتی ہے؟؟؟
|
|