شبیر احمد
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
صاحبو! یہ مشہور شعر تو آج سے ڈیڑھ سو برس پہلے کہا گیا۔ اس عرصے میں سائنس اور خصوصی میڈیکل سائنس جتنی تیزی سے اور جس حد تک آئے بڑھی ہے وہ یقینا حیران کن ہے۔ البتہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج 21ویں صدی میں بھی بے شمار امراض لاعلاج ہیں۔
ارسطو نے اڑھائی ہزار برس پہلے کہا تھا کہ بیمار ڈاکٹر دنیا کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اس کے باوجود اکثر لوگ ڈاکٹر کو ماورائی مخلوق سمجھتے ہیں۔ 1960ءاور 1970ءکی دہائی میں حیدرآباد سندھ کے ڈاکٹر صالح میمن ذوالفقار علی بھٹو کے ذاتی معالج تھے۔ لیاقت میڈیکل کالج جام شورو میں انٹرنل میڈیسن کا مضمون انہوں نے ہمیں بھی پڑھایا۔ بہترین پروفیسر تھے اور پاکستان بھر میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا ڈنکا بجتا تھا۔ ایک دن یہ ہوا کہ ہمارے 19 سالہ کلاس فیلو عبدالرشید نے پانی پینے کے لیے ہسپتال کے ایک وارڈ کا ریفریجریٹر کھولا۔ وہاں شیشے کی ایک بڑی بوتل میں ایٹروپین Atropine بھری تھی۔ یہ دوا نہایت احتیاط سے استعمال کی جاتی ہے۔ ورنہ زہر قاتل بن جاتی ہے۔ نرس کی غلطی سے اس بوتل پر نہ دوا کا نام لکھا تھا اور نہ ہی خطرے کا نشان بنا ہوا تھا۔ عبدالرشید نے پانی سمجھ کر وہ دوا غٹا غٹ پینے کی کوشش کی۔ ایٹروپین نہایت ہی کڑوی ہوتی ہے لہٰذا بمشکل ایک گھونٹ اس کے شکم میں اترا ہوگا۔ چند منٹ میں وہ چکرا کر گرا اور تیز بخار کے ساتھ بے ہوش ہوگیا۔ ایک ہونہار نوجوان کی زندگی پر موت کے سائے منڈلانے لگے۔ اسی وارڈ میں ہم دوستوں نے اسے مریضوں کے بستر پر لٹا دیا۔ ہم سب اس وقت طالبعلم تھے۔ ایسی ایمرجنسی کو سنبھالنا ہمارے بس سے باہر کی بات تھی۔ حالی نے کہا ہے۔
فرشتے سے بہتر ہے انسان ہونا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
ہمارے محترم پروفیسر صالح میمن صاحب اس نصیحت پر عمل کرکے ایک نفیس انسان بن چکے تھے۔ اس وقت وہ جائے وقوع سے 25 میل دور تھے لیکن ان کا ڈرائیور ہر طرح کی رکاوٹ عبور کرتا ہوا آدھے گھنٹے میں انہیں عبدالرشید کے پاس پہنچا گیا جو بھائی بہنیں میڈیکل کالج کے ہمالہ کو عبور کر چکے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ میڈیسن اور سرجری کے پروفیسر اپنے طلباءکے لیے گویا زمین پر خدا ہوتے ہیں۔ طلباءسوچ ہی نہیں سکتے کہ ان عظیم الشان خواتین و حضرات کے سامنے دنیا کا کوئی مرض بھی لاعلاج ہو سکتا ہے۔ اس دوران ڈیوٹی پر موجود تین چھوٹے ڈاکٹر عبدالرشید کا معائنہ کر چکے تھے۔ کچھ دواﺅں کے ساتھ گلوکوز کی بوتل اس کی نس میں لگا دی گئی تھی۔ ہم طلباءان ڈاکٹروں کے احکام کی تعمیل کر رہے تھے جنہوں نے متفقہ طور پر کہہ دیا تھا کہ آپ کے دوست کا بچنا محال ہے۔
ایں خیال است و محال است و جنوں
ڈاکٹر صالح میمن صاحب خوبصورت سوٹ میں ملبوس سیٹتھو سکوپ (جسے عرف عام میں ٹوٹی کہا جاتا ہے) ہاتھ میں تھامے آتے نظر آئے تو ہم طلباءنے والہانہ انداز سے ان کا استقبال کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ انہوں نے عبدالرشید کا معائنہ کیا اور پھر وہ بات کہی جو ہمارے لیے ایٹم بم سے کم نہ تھی۔ نہایت شفقت لیکن پیشہ ورانہ انداز میں بولے‘ اب خدا ہی اسے بچا سکتا ہے۔ عبدالرشید کی عام نگہداشت پر پوری توجہ رکھیئے۔ خدا کو منظور ہوا تو 48 گھنٹوں میں آنکھیں کھول دے گا۔ پروفیسر صاحب کے پورے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ہمارا زمینی خدا گویا آناً فاناً ہمالہ کی بلندی سے زمین پر آ پڑا۔ جی ہاں! ہمارے علم کے مطابق آج بھی ایٹروپین کے دھر کا کوئی تریاق نہیں۔ سچے خدا کا کرم ہوا۔ ہمارے دوست نے دو دن بعد آنکھیں کھول دیں۔ آج وہ لیبیا میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش گوار زندگی گزار رہا ہے۔
ڈاکٹروں کی بے بسی کی ایک داستان اور سن لیجئے جو پہلی داستان سے کہیں زیادہ مہیب ہے۔ نئی نسل کو شاید یہ سن کر حیرت ہو کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب پورے پاکستان کو صرف ایک نیورو سرجن (عرف عام میں دماغ کا سرجن) میسر تھا۔ عمر کے اعتبار سے ہم سے دس بیس برس آگے پیچھے کے پاکستانی خواتین و حضرات کو خوب یاد ہوگا کہ یہ ڈاکٹر صاحب ملک بھر میں ڈاکٹر جمعہ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے دفاتر اور سفید گاﺅن پر ڈاکٹر ”او وی جمعہ“ لکھا ہوتا تھا۔ پورا نام شاید ہی کچھ لوگ جانتے ہوں۔ یہ تھے نہایت لائق احترام ڈاکٹر پروفیسر عثمان ولی بھائی جمعہ!
صاحبو! خوبصورت سا شعر سنیے۔
نزاکت نازنینوں کے بنائے سے نہیں بنتی
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
بات صرف حسنوں پر موقوف نہیں۔ خدا علم و ہنر جسے عطا کرے اس کی شخصیت میں عجب وقار‘ طنطبہ اور خود اعتمادی آ جاتی ہے۔ ہماری زندگی ڈاکٹری کے میدانوں‘ ریگزاروں‘ دریاﺅں‘ گلزاروں اور سنگلاخ پہاڑیوں میں گزری ہے۔ صاحبو! ہماری آنکھ سے آج تک عثمان ولی بھائی جمعہ جیسی رعب دار اور باوقار شخصیت کا انسان نہیں دیکھا۔ وہ اس زمانے میں بھی جناح ہسپتال کراچی سے وابستہ تھے جب ہم 1969ءمیں وہاں ہاﺅس جاب کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ دماغ اور حرام مغز کے کئی آپریشنز میں اسسٹنٹ ہونے کا اعزاز ہمیں محض 22 برس کی عمر میں حاصل ہو چکا تھا۔ 1970ءمیں جب ہم پارسی جنرل ہسپتال صدر کراچی میں کام کرتے تھے تو ڈاکٹر جمعہ اپنے مریض دیکھنے وہاں بھی آیا کرتے تھے۔ وہ بہت کم بولتے اور ڈاکٹروں اور نرسوں کے ساتھ ہمیشہ انگریزی میں ایک دو جملے کہہ جاتے۔ آپریشن تھیٹر میں پورا سٹاف ان کی آنکھوں کے اشارے سمجھتا تھا۔ وہ آئے دن پاکستان کے مختلف شہروں میں دماغی آپریشن کرنے کے لیے پی آئی اے پر سفر کرتے رہتے۔ غور فرمائیے۔ آٹھ کروڑ آبادی کا ملک‘ روزانہ کتنے ہی حادثے ہوتے تھے اور خصوصاً ٹریفک کے حادثوں میں سر پر چوٹ لگ ہی جاتی تھی کہ اس دور میں سیٹ بیلٹ کا رواج عام نہیں ہوا تھا۔ دماغ کے کینسر اور دیگر امراض کا فضیہ ایکسیڈنٹ کے علاوہ آپریشن کرنے والا ڈاکٹر صرف ایک ڈاکٹر جمعہ کے غیر معمولی وقار‘ تمکنت اور شان و شوکت کو اکثر لوگ تکبر سمجھتے تھے لیکن صاحبو! وہ ایک مرد مومن تھے۔ ہم نے انہیں بارہا آپریشن کے دوران مریض کی وفات ہو جانے پر آنسو بہاتے دیکھا۔ ٹھیٹھ انگریزی بولنے والے او وی جمعہ بسم اللہ کہہ کر آپریشن شروع کرتے اور الحمدللہ کہہ کر ختم کرتے۔
بات اتنی پرانی ہوگئی ہے کہ تاریخ یاد نہیں رہی۔ غالباً 1970ءکا سال تھا۔ ہم ان کے ساتھ ایک آپریشن سے فارغ ہوئے تھے۔ آج کی ایم اے جناح روڈ اس زمانے میں بند روڈ کہلاتی تھی۔ اسی سڑک پر ڈاکٹر جمعہ کا نوجوان بیٹا تیزرفتاری سے موٹرسائیکل چلاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ اگلا مریض جو آپریشن تھیٹر میں لایا گیا وہ یہی نوجوان تھا۔ اس کے سر پر اتنی گہری چوٹ آئی تھی کہ ایک طبی نگاہ ڈال لینا‘ ڈاکٹر جمعہ تو کیا ہم جیسے نئے ڈاکٹر کے لیے کافی تھا کہ یہ پیارا نوجوان جانبر نہ ہو سکے گا۔ تمکنت والے عثمان ولی بھائی ایک شفیق باپ تھے۔ پہلی بار ہم نے ان کے صبر و ضبط کے بندھن ٹوٹتے دیکھے۔ بولے‘ کاش! کوئی ڈاکٹر ہوتا جو میرے بیٹے کا آپریشن کر سکتا۔ سب جانتے تھے کہ ان کی خواہش حسرت ناتمام کے سوا کچھ نہ تھی۔ یہ منظر دیکھ کر شبیر کے دل سے بھی آہ نکلی۔
اے خدا شکوہ ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
ڈاکٹر جمعہ نے دستانے بدلے بسم اللہ پڑھی اور آپریشن شروع کیا۔ محترم و مرحوم ڈاکٹر صاحب ان کے ماہر سٹاف اور جدید ترین مشینیں رضائے الٰہی کے سامنے سب بے بس ہو کر رہ گئے۔ آپریشن شروع ہوئے پون گھنٹہ ہوا تو 22 سالہ احسان ولی بھائی آخری سانسیں لے رہا تھا۔
صاحبو! ان دونوں داستانوں نے آپ کے دلوں کو چھوا ہو تو یاد کر لیجئے وہ سبق جو ہمیں بچپن سے پڑھایا جاتا ہے۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے اور جسے اللہ نہ رکھے اسے کون بسے!۔