|
(ملک سلیم اکبر) زیادہ عرصہ نہیں گزرا، صرف چند سال ہی پہلے کی بات ہے ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2015ءتک پاکستان نام کا کوئی ملک دنیا کے نقشے پر موجود نہیں رہیگا جس پر ہم نے جذبات سے بھرپور ایک کالم لکھا تھا جس کے جواب میں امریکہ بھر میں رہنے والے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں محب وطن اور پاکستان سے پیار کرنے والے پاکستانیوں نے ہمیں زاروقطار روتے ہوئے فون کرکے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی تھی کہ پاکستان ہمیشہ آباد و قائم رہے گا اور کسی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے فون کرکے ہمیں حوصلہ دیا تھا اور ہم سب نے بھی خود کو تسلی دے لی تھی کہ واقعی ایسا نہیں ہوسکتا لیکن یہ شاید ہماری طفل تسلی تھی اور ہم بھول گئے تھے کہ امریکی تھنک ٹینک درحقیقت امریکی حکومت کی رہبری و رہنمائی کیا کرتے ہیں اور ان کے تجزئیوں کی بنیاد دراصل امریکی حکومت کی پالیسیوں پر رکھی جاتی ہے لہٰذا حکومت وقت دوسرے ممالک کیلئے جو پالیسیاں وضع کرتی ہے اور اپنی پالیسیوں کی بنیادوں پر جن متوقع نتائج کی امید کرتی ہے یہ امریکی تھنک ٹینک ان ہی تجزئیوں کی بنیاد پر رپورٹ بناتے ہیں۔ آج وطن عزیز کی موجودہ صورتحال کو اگر زمینی حقائق کی روشنی میں ایمانداری کے ساتھ دیکھا جائے تو امریکی تھنک ٹینک کے تجزئیے کی اہمیت بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کو عملی جامہ پہنانے میں ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے جان ڈال کر رکھ دی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں نے جہاں پاکستان میں خودکش حملوں کا بازار گرم کردیا وہیں جس خوبصورتی کے ساتھ ملکی معیشت کو تباہ و برباد کرکے اور قومی مالیاتی اداروں کا جنازہ نکال کر شوکت عزیز کا پاکستان سے بھاگ جانا سب ایک لمبی سازش کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس طرح جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر آپریشن سے پہلے چینی باشندوں کا بہانہ بناکر تباہی پھیلائی گئی تو بالکل ایس طرح عیسائی باشندوں کے اغوا کا بہانہ بناکر اور یہ بتا کر کہ طالبان پشاور شہر کو فتح کرنے والے ہیں، قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کردیا گیا اور پارلیمنٹ تو درکنار کابینہ کے اراکین کو بھی اس معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ٹیلیویژن اور اخبارات اور میڈیا کے گنے چنے افراد نے ایک عجیب و غریب قسم کے ڈر اور خوف کی فضا پیدا کرنی شروع کردی کہ دہشت گرد طالبان پشاور میں داخل ہونے والے ہیں۔ اخبارات نے جلی حروف میں ہیڈ لائنز لگائیں: ”Talban at the gates“ ایسی فضا بنا دی گئی کہ ڈھاکہ فال کی طرح پشاور بھی فال ہونے لگا ہے لیکن کسی اخبار کسی ٹیلیویژن کے رپورٹر نے عیسائی باشندوں کے اغوا کی کہانی کا دوسرا رخ بیان کرنے سے گریز کیا جس کے مطابق علاقے کے باشندوں کا بیان تھا کہ غیرملکی افراد ہونے کے ناطے عیسائی باشندوں نے علاقے میں شراب فروشی کا دھندا شروع کررکھا تھا جس سے ان کی نسل تباہ ہورہی تھی۔ قبائلی علاقوں میں لشکر کی موجودگی کا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان کے ہاتھ واضح ثبوت لگے ہیں کہ چند غیرممالک اور خصوصاً بھارت ان لشکروں کو مالی امداد کے علاوہ اسلحہ اور جدید Weapons بھی باقاعدگی کے ساتھ دے رہا ہے لیکن بھارت پر انگلی اٹھانے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت کی مذمت کے بجائے بھارتی جاسوس چھوڑے جا رہے ہیں۔ 18 فروری کے انتخابات کے بعد سینہ ٹھونک کر کہا گیا تھا کہ اب تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہوں گے اور فردِ واحد کے ہاتھ میں کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔ لیکن صاحبو! یہ خوب جمہوریت ہے کہ وزیراعظم گیلاین بالکل ہی بے اختیار ہے اور تمام تر اختیارات آصف زرداری کے پاس ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے کسی بھی حکومتی معاملے میں بالکل ہی مشورہ نہیں کیا جاتا۔ جمہوریت تو افہام و تفہیم اور ڈائیلاگ کا نام ہوتی ہے۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ ہمارے حکمران پاکستان کو غیرمستحکم اور کھوکھلا کرکے پاکستان کی کیا خدمت کررہے ہیں؟ ہمیں بتائیں کہ ایک مستحکم اور مضبوط پاکستان ہی ایک بہتر افغانستان اور مستحکم افغانستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔ پھر ہمارے حکمران کس سوچ، کس منصوبے کے تحت پاکستان کو کھوکھلا اور کمزور کرنے کے مشن پر گامزن ہیں؟ بھائی کو بھائی سے لڑوایا جا رہا ہے۔ مذہبی منافرت پھیلا کر پاکستان کے عوام کو گروہ بندیوں اور گروپوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ہم اگر ایک مضبوط اکائی بننے کے بجائے خود کو تقسیم کرتے چلے گئے تو پھر خدانخواستہ 2015ءتک پاکستان کی تقسیم کے منصوبے کو تقویت ملے گی۔ آج رچرڈ باﺅچر صاحب نوازشریف سے کہہ رہے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے مواخذے کی کارروائی سمیت جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کیا جائے اور جنرل پرویز مشرف کے بارے میں سخت رویہ اختیار نہ کیا جائے۔ عوام یقیناً جاننا چاہتے ہیں کہ فردِ واحد جنرل پرویز مشرف کی پہریداری کیوں کی جا رہی ہے؟ کیا جنرل پرویز مشرف ہی امریکہ کے مفادات کی نگہبانی کرنیوالا پاکستان میں آخری شخص ہے؟ یا ابھی دوسرے جنرل پرویز مشرف کی خریداری کا سودا مکمل نہیں ہوا؟ ہماری اطلاعات کے مطابق ایک نیا شخص دوسرا مشرف بننے کی حامی بھر چکا ہے اور 14 اگست تک جنرل پرویز مشرف کی باعزت یا بے عزت واپسی ممکن ہے۔ باقی رہی 2015ءتک والی بات تو اللہ ہی پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد ٭٭٭
|
|