|
(قمر علی عباسی) ہمیں بریجٹ باروڈت سے گلہ ہے کیونکہ ایک زمانے میں انہیں پسند کرتے تھے۔ یہ نوجوانی کا زمانہ تھا، ایک دن کسی نے کہا سینما گھر میں ایسی فلم لگی ہے جو ہوش اڑا دیگی۔ ان دنوں ہم وہ کچھ تلاش کرتے تھے جو ہوش اڑا دے۔ اس فلم کا نام ”لاپیریسن“ تھا۔ سنسر بورڈ نے تقریباً ہر منظر پر قینچی چلائی تھی لیکن پھر بھی ”کچھ“ رہ گیا تھا۔ اسی فلم نے ہر نوجوان کو بریجٹ باروڈت کے نزدیک آنے کا موقع دیا۔ یہ نصف صدی کی بات ہے لیکن آج بی بی نے بہت آزردہ کیا ہے جس کا انہیں حق نہیں تھا۔ فرانس کی یہ بے باک فلمی ادکارہ بریجٹ باروڈت عرف عام میں ”بی بی“ کہلاتی ہیں لیکن ان دنوں وہ جو کچھ کررہی ہیں، معافی کے قابل نہیں ہے۔ موصوفہ ایک عرصے سے فرانس میں رہنے والے مسلمانوں پر شدید تنقید کرتی ہیں، برا بھلا کہتی ہیں، اتنی زیادہ مخالفت کرتی ہیں کہ خود متعصب فرانسیسی بھی اسے برداشت نہیں کر پا رہے۔ بی بی پر وہاں کی ایک انجمن ”ایم آر اے پی“ نے کئی بار مقدمات کئے، اب تک انہیں فرانس کی عدالت نے چار بار مسلمانوں کو برا کہنے پر سزا سنائی ہے۔ ایک بار 23,325 ڈالر کا جرمانہ کیا، دوسری بار 1,555 ڈالر ایم آر اے پی انجمن کو دلوائے لیکن بی بی باز نہیں آئی۔ حال ہی میں انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے ”کرائی اِن سائلنس“ یعنی ”خاموشی میں چیخ“ جس میں مسلمانوں کیخلاف جتنا زہر وہ اگل سکتی تھیں، اگل دیا۔ ان کا کہنا ہے مسلمان بیس سال سے ہم پر اپنے رسم و رواج ٹھونس رہے ہیں۔ امریکہ میں 11ستمبر کا سانحہ مسلمانوں کی وجہ سے ہوا۔ فرانس کی انجمن ایم آر اے پی ان پر ایک مقدمہ اس کتاب کے حوالے سے کررہی ہے۔ بی بی کا خیال ہے کہ فرانس میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے، اس کیخلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ وہ مسلمانوں کے علاوہ جدید آرٹ، ٹریش ٹی وی پروگرام، سیاستدان اور غالباً ہر وہ چیز ناپسند کرتی ہیں جو انہیں سنائی دیتی ہے اور نظر آتی ہے۔ بی بی ماشاءاللہ 73 سال کی ہیں اور اپنی جوانی میں انتہائی گھٹیا اخلاقی کام کیا اور اب اپنی حرکتوں کی وجہ سے گنٹھیا کی مریضہ ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ان کا نزلہ زیادہ تر مسلمانوں پر گرتا ہے۔ بی بی نے ایک فلم ”ہیلن آف ٹرائے“ میں بھی کام کیا تھا۔ اس کہانی میں ہیلن کی وجہ سے ٹرائے برباد ہوا تھا اور ہزاروں انسان بھی مارے گئے تھے۔ فرانس کی موجودہ ہیلن یعنی گنٹھیا زدہ تقریباً پاگل بریجٹ باروڈت اپنے ملک کو برباد کرنے پر تلی ہے۔ بریجٹ باروڈت جانوروں سے ہمدردی رکھتی ہے، ان کیلئے کام بھی کرتی ہے، اس حد تک متاثر ہے کہ ان کی حالیہ تصویر بھی کسی جانور کے ہی مشابہ ہے۔ بزرگ کہتے ہیں صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے، ان پر بھی یہ اثر ہوا ہے۔ بعض ایسے جانور ہوتے ہیں جو بغیر کسی سبب چیختے رہتے ہیں، بریجٹ باروڈت تو اپنی بیماری کی وجہ سے بھی اول فول بکتی رہتی ہیں جس میں مسلمان ان کا نشانہ زیادہ بنتے ہیں؟ ”خاموشی میں چیخ“ کی وجہ سے وہ زیادہ تنقید کا نشانہ ہیں اور ممکن ہے اس بار انہیں زیادہ جرمانہ ادا کرنا پڑے۔ بریجٹ باروڈت اپنے زمانے میں فلموں کی وجہ سے انتہائی بے باک اور بیہودگی میں مثال سمجھی جاتی تھیں، ان کا چہرہ نہ جانے کتنے دلوں میں گرمی پیدا کرتا تھا۔ آج یہ کہانی پرانی ہوئی لیکن ابھی اس میں وہ آتش باقی ہے جو دلوں کو گرماتی نہیں جلاتی ہے۔ فرانس کی انتظامیہ کو بریجٹ باروڈت کیلئے لگام تیار کرنی چاہئے ممکن ہو تو پٹہ ڈال دیں، ایسے جانور جو پاگل ہوجاتے ہیں ان کا علاج توجہ سے کیا جاتا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ بریجٹ باروڈت جسے نوجوانی میں پسند کیا ،وہ اب آزردہ کررہی ہے۔ ایم آر اے پی انجمن کو کوئی ایسا سخت قدم اٹھانا چاہئے کہ یہ محترمہ جانوروں کے علاوہ انسانوں سے بھی ہمدردی کا رویہ رکھیں۔ ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ وہ شہرت قائم رکھنے کیلئے ایسی حرکتیں کررہی ہیں۔ اس زمانے میں جس کا جی چاہتا ہے مسلمانوں کیخلاف زبان کھول دیتا ہے۔ وہ ہوش مند ہو یا دیوانہ ہو، مسلمانوں کیلئے ایک ہی تیر استعمال کرتا ہے۔ بریجٹ باروڈت بھی مسلمانوں کو اور خاص طور سے جو فرانس میں رہتے ہیں، دکھ پہنچا رہی ہیں۔ اگر انہیں جسمانی طور پر گنٹھیا ہے، دماغی فتور ہے، طبیعت میں چڑچڑاہٹ ہے، تو اس میں کسی مسلمان کا کیا قصور؟ پھر اگر وہ چیخ مارنا ہی چاہتی ہیں تو ایسا ضرور کریں لیکن مسلمانوں کا کان استعمال نہ کریں۔ ہر خاص وعام کو اطلاع ہو کہ ہم نے نوجوانی میں جس بریجٹ باروڈت کی فلموں کو پسند کیا تھا، وہ کوئی اور تھی اور خاموشی میں چیخنے والی کوئی اور ہے اور اگر یہ دونوں ایک ہیں تو ان پر ہزار لعنت۔ ٭٭٭
|
|