اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 03 Jul 2008 13:36:00

طوطے توپ چلاتے ہیں

طوطے توپ چلاتے ہیں
(منو بھائی)
یہ کوئی عجیب اور غیرقدرتی بات بھی نہیں کہ پاکستان کی قومی زندگی کے 61 سالوں میں سے 33 سالوں پر پھیلی ہوئی براہ راست فوجی حکومتوں کے 12 ہزار 45 دنوں اور اتنی ہی راتوں کو برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ رکھنے والے ہمارے دانشور فروری 2008ءکے عام انتخابات کے بعد کے 90 دنوں میں بہت ہی بے چین، بے قرار اور اتنے ہی رنجیدہ، آزردہ اور کسی حد تک مایوس بھی ہوگئے ہیں۔ یہ حالت قدرتی اور نارمل اس لئے ہے کہ دو بار انگلستان کو تیر کر عبور کرنے کی عالمی شہرت رکھنے والے بروجن داس کا کہنا ہے کہ جس فاصلے سے ساحل دکھائی دے رہا ہو اس کو تیر کر عبور کرنا سب سے مشکل ہوتا ہے اور دادا امیر حیدر کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر عمر قید گزارنے والے قیدی کیلئے سب سے زیادہ لمبا دن وہ ہوتا ہے جس کی شام کو اسے رہائی پانے کی توقع ہوتی ہے۔
ہمارے دانشوروں کو یہ شکایت ہے کہ 18 فروری 2008ءکے عام انتخابات کے ذریعے وجود میں آنیوالی حکومت ان کی خواہشات کے عین مطابق معزول ججوں کو بحال نہیں کررہی اور صدر پرویز مشرف کو ایوان صدر سے اڈیالہ جیل لے جانے کی جلدی نہیں دکھا رہی۔ کچھ عزیزوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ محض ووٹ شماری سے اسمبلیاں قائم کرکے یہ کہنا کہ جمہوریت بحال ہوگئی ہے، خودفریبی کے سوا کچھ نہیں اور یہ بھی محض خوش فہمی ہے کہ آمریت کا جنازہ نکل گیا ہے، اب کوئی آمریت نافذ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق 1999ءمیں بھی کچھ نوخیز جوشیلے جمہوریت پسندوں نے میاں نوازشریف کو فوج سے ٹکرا جانے پر اکسایا تھا جس کا نتیجہ انہوں نے پانچ سالوں کی جبری جلاوطنی کی صورت میں بھگتا۔ یہی دوست پھر یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”ہمارے سیاستدان عوام کے ووٹ لینے کے بعد بھی غیرجمہوری قوانین ختم کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ اگر وہ بزدل نہیں تو نااہل ضرور ہیں۔ انہیں یہ پتہ نہیں کہ عوام نے انہیں آئین سازی کا اختیار دیا ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق عدلیہ اور فوج کے قوانین بنا سکتے ہیں“ ہمارے ان دوستوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ یہ کام جتنا آسان دکھائی دیتا ہے، اتنا آسان ہے نہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ کام اتنا آسان کیوں نہیں ہے۔ ملک پر مسلط کی گئی 33 سالوں کی فوجی حکومتیں غیرملکی حملہ آوروں کی نہیں تھیں، ہمارے اندر کی، ہمارے اندر کی کمزوریوں سے ابھرنے والے حالات میں ہمارے اپنے فوجی افسروں پر مشتمل تھیں اور ان کی جڑیں ہماری سیاسی زندگی کے اندر بہت گہرائی تک اتر چکی ہیں اور قومی معیشت کے ایک وسیع علاقے پر اثرانداز ہیں۔ ان تمام فوجی حکومتوں کو وطن عزیز کی اعلیٰ ترین عدالتوں کا تعاون حاصل تھا۔ ان عدالتوں نے ان فوجی حکومتوں کو آئین تبدل کرنے کیلئے وہ اختیارات بھی دیدئیے تھے جو خود ان عدالتوں کے پاس بھی نہیں تھے ان تمام اثرات کو کسی ایک قرارداد یا ایگزیکٹو آرڈر سے معدوم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ہماری قومی تاریخ کے وہ دھبے ہیں جو پے در پے بارشوں سے بھی دھوئے نہیں جاسکیں گے۔ یہ چیتے کی کھال کے دھبے بن چکے ہیں۔
اپنی خواہشات بلکہ خوابوں کو خبروں کی صورت دیکھنے کی بے چینی میں بہت سے طوطوں نے اپنی توپوں کے رخ آصف علی زرداری کی طرف کردئیے ہیں جو ابھی کل کو ”مردِ حُر“ کہلاتے تھے۔ بلاشبہ آصف علی زرداری ہمارے قومی سیاستدانوں میں سب سے زیادہ طویل اور اتنی ہی ناجائز قید و بند کی سختیاں برداشت کرنے والے سیاستدان ہیں جن پر انتقامی سیاست کے تحت جھوٹے مقدمے دائر کئے گئے۔ یہ مقدمے دائر کرنے والے بھی ان کو جھوٹے قرار دیتے ہیں۔ قید و بند کی ان آزمائشوں سے گزرتے ہوئے آصف علی زرداری نے انصاف اور عدلیہ کے اصل چہرے بھی دیکھے ہوں گے اور ان کی اصل شناخت اور طاقت کا اندازہ بھی کیا ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان پر اعتراض کرنے والوں اور شکوک و شبہات ظاہر کرنے والے دانشوروں کو اس نوعیت کے تجربات حاصل ہیں یا نہیں۔ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ آصف علی زرداری اگر پیپلز پارٹی کے عبوری عرصے کے شریک چیئرمین ہیں تو اس عرصے کی معیاد کتنی ہے؟ ایسا نہ ہو کہ زرداری لائف چیئرمین کے منصب پر فائز ہوجائیں۔ 21 ویں صدی کی ایک جمہوری پارٹی میں تو ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن پوچھنے والے جانتے ہیں کہ اس جمہوری پارٹی کے بانی چیئرمین اور ان کی چیئرپرسن بیٹی دونوں نے اپنی جانوں کی قربانی دیکر لائف چیئرپرسن کا منصب حاصل کیا ہے۔ اگر آصف علی زرداری بھی ان کی تقلید کرنا چاہیں تو انہیں کیا اور کیوں اعتراض ہوگا؟
ہمارے ایک ساتھی جو دل کی گہرائیوں سے صحیح سمجھتے ہیں کہ ”اگر شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر دو تین سال بھی برقرار رہے تو ظلم، ناانصافی اور کرپشن کے تمام دروازے مقفل کردیں گے“ ملک اور قوم کو آصف علی زرداری سے نجات دلانے کیلئے چاہتے ہیں کہ ”کاش پیپلز پارٹی، اعتزاز احسن اور رضا ربانی ایسے رہنماﺅں کو آگے لائے“ یقینی بات ہے کہ ہمارے اس دوست نے اپنے دوستوں سے پوچھ لیا ہوگا کہ انہیں اعتزاز احسن سے اس نوعیت کا کوئی اندیشہ تو لاحق نہیں ہوگا کہ وہ حکومت کے بعض پوشیدہ کاغذات یا فہرستیں کسی دشمن ملک کے حوالے کردیں گے۔ ہمارے دوست ایاز امیر، رانا بھگوان داس یا پھر جسٹس وجیہہ الدین کو صدارتی کرسی پر بٹھانا چاہتے ہیں اور برادر شفقت محمود پورے وثوق سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ”یہ بھی حقیقت ہے کہ آصف علی زرداری کی درپردہ ریشہ دوانیوں اور ہتھکنڈوں کے نتیجے میں ضمنی انتخابات کیلئے میاں نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا ہے“ سیانے ایسے ہی مواقع پر طیش کی حالت میں خوفِ خدا کو اپنے قریب رکھنے کا مشورہ دیا کرتے ہیں۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications