اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 03 Jul 2008 13:27:00

اٹھنی سی زندگی

اٹھنی سی زندگی

وجلہت علی عباسی
میرا نام محمد طفیل ہے۔ میں کراچی کا رہنے والا ہوں۔ دو منٹ بعد میری زندگی ختم ہونیوالی ہے۔ کسی بھی انسان کیلئے سب سے قیمتی ”وقت“ ہے وہ وقت جو اب میرے پاس نہیں ہے۔ سوچا یہ زندگی کے سب سے قیمتی دو منٹ آپ کے ساتھ گزاروں۔ مجھے کچھ دیر کیلئے اکیلا چھوڑ دیں۔ ابھی ابھی میں اپنے والد سے یہ کہتا اپنے کمرے کا دروازہ بند کر آیا ہوں۔ وہ کچھ دیر جس کے بعد میں اپنے والد کو اس دنیا میں ہمیشہ کیلئے اکیلا چھوڑ دوں گا۔ یہ سستی سی رسی کچھ لمحوں میں گردن میں پھندا بن کر میری قیمتی زندگی کو ایک جھٹکے میں ختم کردیگی....
میں خودکشی کررہا ہوں....
بچپن سے سنا تھا ہمارے ملک کے سیاستدان کروڑوں روپے کا غبن کرتے ہیں۔ اربوں روپے بینک سے قرضہ لیتے ہیں اور پھر یہ ملک چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں یا پھر اس قرضے کو معاف کروالیتے ہیں۔ میں بھی دوستوں کے بیچ کبھی یہ موضوع چھیڑتا تو میں بڑھ چڑھ کے بولا کرتا، ”کسی بھی ملک کا آگے بڑھنا مشکل ہے، اگر اس کے ذخیرے اس کے خزانے کو اس طرح لوٹا جائے۔ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور مجھے ہر وہ شخص اپنے ملک کا دشمن لگتا ہے جو میرے ملک میں چوری کرے، چاہے وہ ہزار روپے کی ہو یا پھر ایک ارب کی“ میرے دوست میرا مذاق اڑاتے اور کہتے ”بیٹا موقع ملنے پر ہر آدمی کی نیت خراب ہوجاتی ہے“
ایک نسل ابھی پوری طرح نہیں گزری پاکستان بنے‘ تو کیسے بھول جاﺅں کہ میں اس قوم کا بیٹا ہوں جس نے اس پاکستان کیلئے اپنے بسے بسائے گھر، دولت، جائیداد سب چھوڑ دئیے۔ ان 1947ءکے نوجوانوں کا خون آج بھی میرے اندر اسی گرمی سے دوڑتا ہے، نہیں میں اپنے ملک میں ایسا کوئی کام کبھی نہیں کروں گا جس سے میرے دل کے ذریعے میرے خون کو یہ پتہ چل جائے کہ میں نے اپنے خون سے غداری کی، انسان اپنے گھر کو محنت سے بہتر بناتا ہے، اسے خود لوٹتا نہیں۔
چوبیس سال کی عمر میں گھر والوں کی پسند سے میں نے شادی کرلی۔ اللہ میاں نے بیٹے کی شکل میں دنیا کا سب سے اچھا تحفہ دیا۔ گھر میں ماں باپ، بیوی بچے، چھوٹی بہن سب کی ذمہ داریاں مجھ پر تھیں۔ والد کی جمع پونجی اور اپنی محنت سے کچھ پیسے جمع کرکے ایل پی جی کا چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ ہم لوگ گیس کے سلنڈر بھرا کرتے۔ شروع میں کاروبار بہت اچھا چل رہا تھا۔ پھر یہ بجلی کی نذر ہوگیا۔ شہر میں آٹھ سے دس گھنٹے بجلی جانا عام سی بات تھی۔ روز میں کام پر جاتا اور سارا دن اس آس میں گزارتا کہ کاش تھوڑی دیر کو بجلی آجائے۔
ترقی یافتہ ملکوں میں محنتی لوگوں کو حکومت اور بینک موقع فراہم کرتے ہیں، زیادہ تو نہیں جانتا تھا لیکن یہ سنا تھا کہ بینک پاکستان میں محنتی لوگوں کو قرضہ دے رہے ہیں جسے آسان قسطوں میں واپس کیا جاسکتا ہے۔ مجھے قرضہ لینا اس لئے غلط نہیں لگا کیونکہ میں وہ پیسے اپنے ملک کی قوم و بہبود پر ہی لگانے والا تھا۔ کاروبار چاہے جتنی بھی چھوٹی سطح پر کیوں نہ تھا، میں نے ایک لوکل بینک سے 35 ہزار کا قرضہ لیا جس سے میں اپنی دکان کیلئے ایک استعمال شدہ جنریٹر لے سکوں۔ چھ مہینے کی وارنٹی کے ساتھ آنے والا جنریٹر چھ ہفتے میں ہی خراب ہوگیا۔
جس کمپنی سے جنریٹر لیا تھا اس نے کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے انکار کردیا۔ شہر میں بجلی کا بحران مزید بڑھ رہا تھا۔ میرے لئے بینک کی ماہانہ قسط دینا مشکل ہوگیا۔ میں نے بینک جاکر اس آفیسر سے گزارش کی جس نے قرضہ دیتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بینک میری ہر طرح کی مدد کریگا۔ آفیسر کا اب رویہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ میں بار بار بینک جاتا، یہ معلوم کرنے کیلئے کہ کیا کچھ دن کی مہلت مل سکتی ہے لیکن قرضہ دینے سے پہلے جس آفیسر کے پاس میرے لئے بہت وقت تھا وہ اب ہر وقت مصروف رہنے لگا۔
پہلی قسط نہ دینے پر میرے گھر اس بینک کے قرضے پر وصولی کرنے والوں نے آنا شروع کردیا، یعنی چار سے پانچ غنڈے جو گھر میں گھس جاتے اور گھر والوں کو گالیاں دیتے، دھمکاتے کہ میں نے اگر جلدی پیسے نہ دئیے تو میرے لئے مزید مصیبت پیدا کردیں گے۔ ہر دوسرے یا تیسرے دن وہ لوگ ہمارے گھر آجاتے اور ہمیں ذلیل کرتے۔ میں ہر بار انکے سلوک پر خود کو اندر سے مرتا ہوا محسوس کرتا۔ آج وہ لوگ پھر میرے گھر آئے۔ میری بہن کے دروازہ کھولتے ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیچ گلی میں لے آئے۔ چیخ چیخ کر مجھے باہر بلانے لگے۔ پورا محلہ جمع ہوگیا۔ میں، میرے والدین، میری بہن سب کا تماشہ بنتے پورا محلہ دیکھ رہا تھا۔ وہ چار پانچ لوگ زور زور سے مجھے گالیاں دے رہے تھے۔ پورے محلے کو بتا رہے تھے کہ میں نے انکے بینک سے پیسے لئے تھے اور اب میں بھاگنے کی کوشش کررہا ہوں، میں چور ہوں اور وہ سب کو دکھا دیں گے کہ ایک چور کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ہر طرح کی گری ہوئی بات جو میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، وہ میرے گھر والوں کے بارے میں کررہے تھے۔ وہ الفاظ نہیں تھے گولیاں تھیں جو میرے سینے کو چھلنی کرتی جا رہی تھیں۔
میری موت کچھ لمحوں پہلے باہر محلے میں سب کے سامنے ہوچکی تھی۔ بس صرف اس جسم سے جان نکلنا باقی تھی۔ میں نے ایک سچی نیت سے قرضہ لیا تھا لیکن اس زندگی کی سب لہریں میری قسمت کی کشتی کیخلاف چل رہی تھیں۔ میرے دو منٹ ختم ہوگئے۔ میرے جانے کا وقت آگیا ہے۔ میں اتنی شرمندگی کے بعد دنیا کے سامنے نہیں رہ سکتا۔ آپ سے صرف ایک گزارش ہے اگر میری خبر اخبار میں پڑھیں تو یہ مت سوچئے گا کہ میں نے چوری کی تھی.... میں چور نہیں تھا....!
٭٭٭


 


5 / 5 (1 Votes)








© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier