اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Mon, 30 Jun 2008 06:51:00

المشرقی ؒ(1888ءتا 1963ئ)

المشرقی ؒ(1888ءتا 1963ئ)

شبیر احمد
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انساں نکلتا ہے
صاحبو! آپ کسی شخص کو جانتے ہیں جو 25 برس کی عمر میں ایک مشہور کالج کا پرنسپل رہا ہو؟ یا ایسا کوئی شخص جسے 33 برس کی عمر میں برطانیہ کا مشہور زمانہ خطاب ”سر“ پیش کیا گیا ہو؟ اور اس نے یہ خطاب لینے سے انکار کردیا ہو۔
قرآن کریم کے ترجمے کتنے ہی لوگوں نے کئے ہیں (ہم نے بھی توفیق خداوندی کے مطابق انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ اردو ترجمہ راہ میں ہے) گزشتہ دو صدیوں میں تقریباً پچاس افراد نے کتاب عظیم کا ترجمہ فرمایا ہے۔ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کی یہ کاوش نوبل پرائز کیلئے پیش کی گئی ہو؟ یا کوئی ایسا شخص بتائیے جسے 32 برس کی عمر میں برطانوی حکومتِ ہند سے وزارت و سفارت کے عہدوں کی پیشکش کی گئی ہو اور اس نے شان قلندری کے ساتھ انکار کردیا ہو۔
صاحبو! یہ تمام باتیں اس ہستی پر صادق آتی ہیں جنہیں دنیا آج بھی علامہ مشرقی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ آپ کا پورا اسم گرامی تھا خان عنایت اللہ خان المشرقی ولد خان عطا محمد خان۔ علامہ مشرقی 25 اگست 1888ءکو امرتسر میں پیدا ہوئے اور عمر عزیز کے 75 برس پورے کرکے 1963ءمیں 27 اگست کو لاہور میں وفات پاگئے۔ آج ہم علامہ مشرقی کی سیاست اور ”خاکسار تحریک“ پر قلم نہیں اٹھائیں گے۔ بنیادی طور پر ان کی علمی قابلیت کا کچھ ذکر ہوجائے۔
صاحبو! وہ مجسم قابلیت تھے۔ اگر وہ یورپ میں پیدا ہوئے ہوتے تو البرٹ آئن سٹائن سے زیادہ اونچا نام و اکرام پاتے۔ اوپر جو شعر ہم نے درج کیا ہے وہ میر تقی میر کا ہے۔ ایک عام آدمی پر بھی صادق آتا ہے لیکن بڑے لوگوں پر خصوصاً سچا ٹھہرتا ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ہر صاحب علم سے بڑھ کر کوئی صاحب علم ہوا کرتا ہے۔ علامہ مشرقی علمی قابلیت میں اس مقام کو چھو چکے تھے جہاں شاید ہی کسی کی رسائی ہوسکے
حفظ اسرار کا قدرت کو ہے سودا ایسا
رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا
یعنی قدرت کو اپنے رموز کی حفاظت کرنی خوب آتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے یہ شعر ولیم شیکسپیئر کیلئے کہا تھا لیکن یہ علامہ مشرقی پر بھی خوب صادق آتا ہے۔ غالباً یہ حقیقت آپ پر پہلے ہی پیراگراف میں عیاں ہوگئی ہوگی۔ آئیے اب ہمارے ساتھ میدان علم کی سیر کو چلئے۔
بس ذرا سی دیر کو اور دیکھئے چند مناظر:
.... علامہ مشرقی نے پنجاب یونیورسٹی سے حساب کے مضمون میں ایم اے کیا۔ ٹھیک ہے کیا ہوگا بہت لوگ کرتے ہیں لیکن آپ نے کبھی ایسا شخص سنا ہے جس نے صرف 18 برس کی عمر میں نہ صرف حساب میں ایم اے کیا ہو بلکہ ہندوستان بھر کے تمام ریکارڈ اس قوت سے توڑے ہوں کہ ایک زمانہ ششدر رہ جائے؟ یہ تھے المشرقی۔
.... 1907ءمیں وہ کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور صرف پانچ برسوں میں حساب، فزکس، مکینیکل فزکس، عربی اور فارسی اس شان سے پاس کئے کہ برطانیہ نے انہیں ”رینگلر“ (Wrangler) یعنی ناقابل شکست سکالر کا خطاب دیا۔
.... علاوہ ازیں کیمبرج یونیورسٹی نے انہیں نمبر ایک بیچلر سکالر اور فاﺅنڈیشن سکالر کے سرٹیفکیٹ دئیے۔
.... ہندوستان واپس آنے پر انہوں نے شعبہ تعلیم میں شمولیت اختیار کی اور 1923ءمیں ”فیلو آف رائل سوسائٹی آف آرٹس“ بن گئے۔
.... ان کی شہرت چہار دانگِ عالم میں پھیل گئی۔
.... پیرس، فرانس نے انہیں فیلو آپ سوسائٹی آف آرٹس کے اعزاز سے نوازا۔
.... پھر پیرس ہی سے انہیں جغرافیائی سوسائٹی کا فیلو قرار دیا گیا۔
.... بین الاقوامی علمی اداروں نے انہیں مستشرقین (ماہرین علوم مشرقیات) کی انٹرنیشنل سوسائٹی کا ممبر بنایا۔
.... پھر وہ بین الاقوامی میتھمیٹیکل سوسائٹی کے صدر مقرر کئے گئے۔
اب ذرا کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے کہ علامہ مشرقی کے بارے میں ان کے ہمعصر لوگوں اور اداروں نے کیا کہا ہے؟
.... برطانیہ اور فرانس کی مقتدر چھ یونیورسٹیوں نے لکھا کہ کسی فرد کا بائیو ڈیٹا یعنی علمی زندگی کا خلاصہ جناب عنایت اللہ مشرقی سے بہتر نہ ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔
.... ہم جناب عنایت اللہ مشرقی کو تہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کرتے ہوئے جو عظیم کامیابی حاصل کی اور ریکارڈ توڑے وہ بے مثال ہیں۔ ان کا وجود صرف ہندوستان کیلئے نہیں ہمارے لئے بھی قابل فخر ہے۔ (دی ٹریبیون، آکسفورڈ 14 اپریل 1907ئ)
.... کیمبرج یونیورسٹی کے عنایت اللہ مشرقی نے نہ صرف مشرقی لسانیات میں اول پوزیشن حاصل کی بلکہ قدرتی سائنس کے تین شعبوں میں آنرز سمیٹے۔ وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے محض دو سال میں رینگلر WRANGLER کا خطاب حاصل کیا۔ (دی ٹائمز، لندن 17 جون 1911ئ)
انگلینڈ میں کم ہی طلبا نے علم کے دائرے میں وہ امتیازات حاصل کئے ہوں گے جو جناب عنایت اللہ کے حصے میں آئے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ان کی غیرمعمولی صلاحیتیں شان شایاں مواقع حاصل کر سکیں تاکہ وہ اپنے ملک ہی کی نہیں بلکہ اپنے خدا کی عظمت کو بحسن و خوبی ظاہر کر سکیں۔ (رسالہ انڈین سٹوڈنٹ، لندن 30 جون 1911ئ)
آج تک یہ بات کیمبرج میں ناممکن سمجھی جاتی تھی کہ کوئی شخص چار بڑے مضامین میں آنرز حاصل کر سکے۔ لیکن عنایت اللہ خان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ (دی سٹار، لندن 1912ئ)
آج صبح ایک نئی فہرست شائع کی گئی ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے عنایت اللہ خان کی کارکردگی کو خصوصی دلچسپی سے دیکھا گیا۔ انہوں نے خود کو کیمبرج کا بہترین آل راﺅنڈ طالب علم ثابت کیا۔ ان کی کامیابیوں نے اس سے پہلے کے تمام ریکارڈز کو گہنا دیا ہے۔ وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والے واحد نوجوان ہیں جنہوں نے چار مختلف مضامین میں آنرز حاصل کئے۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے جو انعامات حاصل کئے ہیں ان کی فہرست ہی بہت طویل ہو گی۔ (دی کیمبرج ڈیلی، 12 جون 1912ئ)
ایک نہایت روشن دماغ انڈین سکالر عنایت اللہ خان جنہوں نے آج ایک اور اہم مضمون آنرز کے ساتھ پاس کیا۔ ہندوستان کی تاریخ میں وہ سب سے زیادہ ممتاز علمی شخصیت ہیں۔ (ویسٹ منسٹر گزٹ، 12 جون 1912ئ)
بالکل یہی بات ”دی یارک شائر“ پوسٹ نے 13 جون 1912ءکو لکھی ہے۔
علامہ مشرقی دور حاضر کی عظیم شخصیت ہیں۔ انہوں نے انڈیا کو ایک نئی روشن راہ دکھائی ہے اور ایک نیا طرز حیات دیا ہے۔ (دی ریڈی اینس، علی گڑھ)
صاحبو! ہمارے سامنے اس دور کی عالمی شخصیات اور اداروں اور ملکوں کے خراج تحسین کا انبار لگا ہے۔ اتنا ضخیم کہ
سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لئے
ہماری ذاتی رائے میں علامہ مشرقی اگر سیاست کے خارزار میں قدم نہ رکھتے تو شاید بہتر ہوتا۔ اس بات میں ذرا شک نہیں کہ خاکسار تحریک بے انتہا منظم اور جاں نثار تحریک تھی۔ لیکن مسلم لیگ کی روز افزوں مقبولیت اور قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت کی راہ میں کسی کو حائل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ہرچند کہ علامہ مشرقی اوچھی حرکتوں سے بہت دور تھے لیکن رفیق خاکسار کے قائداعظمؒ پر قاتلانہ حملے نے علامہ مشرقی کی شخصیت کو کافی گہنا دیا تھا۔ علامہ کا اس میں کچھ دخل نہ تھا۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
فی امان اللہ!

 

 


5 / 5 (1 Votes)








© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier