وجاہت علی عباسی
کچھ سال پہلے ہم پاکستان میں رہا کرتے تھے۔ انجینئرنگ ختم کرتے ہی لگا جیسے وہ سب کچھ سیکھ لیا ہے جس سے ہمیں کم سے کم ایک نوکری تو ضرور مل جائے گی۔ کوئی چیز پہلی بار کرنے سے پہلے بہتر ہوتا ہے کسی اپنے جیسے انسان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے اسی لیے ہم نے اپنے اس دوست کو فون کیا جس نے ہمارے ہی ساتھ کچھ عرصے پہلے کالج ختم کیا تھا اور پچھلے دو مہینے سے پاکستان کی بڑی کمپنی میں نوکری کر رہا تھا۔
فون اٹھاتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی Yes may I help you آواز تو شاید وہی تھی یعنی ہمارے دوست کی لیکن انداز اور زبان کچھ بدلی بدلی۔ آج سے پہلے جب بھی شاہد کو فون کیا تھا وہ ہمارا ہیلو سنتے ہی پہلے تو سلام کرتا اور پھر اردو میں ہمارے حال احوال پوچھتا تھا لیکن آج وہ فون اٹھاتے ہی نجانے کیوں ایک Five Star ہوٹل کے ریسپشنسٹ کی طرح ہم سے مخاطب ہو رہا تھا۔ یہ ایک دم سے بدلاﺅ کیوں؟ سمجھ نہیں آیا.... ہم نے دریافت کیا شاہد تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔ شاہد نے ہم کو بہت مشکل سی انگلش میں لمبا سا جواب دیا جس کا اردو میں آسان ترجمہ یہ ہے کہ وہ صحیح ہے ۔ہمیں اندازہ ہوا کہ مسئلہ اس کی طبیعت کا نہیں ہے مسئلہ اس کی اردو کا ہے۔ اسی لیے ہم نے سوال بدلا اور پوچھا شاہد تمہاری اردو کو کیا ہوا ہے؟
بہت دیر تک سامنے سے آتی شاہد کی انگلش کا ہم اپنی اردو سے مقابلہ کرتے رہے اسی حملے اور بچاﺅ کی جدوجہد کے دوران ہمیں اندازہ ہوا کہ شاہد کی نوکری کی وجہ سے اس کی زبان انگلش ہو چکی تھی اسی لیے اس کی کہانی ہم آپ کو اپنی زبانی سنا دیتے ہیں۔ شاہد کالج کے سب سے ذہین لڑکوں میں سے ایک تھا۔ کالج ختم ہوتے ہی اس نے نوکری کی عرضی پاکستان کی ہر بڑی کمپنی میں بھیجنا شروع کردی۔ شاہد بہت اعتماد کے ساتھ پہلے انٹرویو پر گیا ایک ایسی نوکری جس کے لیے اس کی تعلیم اور قابلیت پوری تھی لیکن پتہ چلا انٹرویو لینے والے کو صرف ایک چیز میں دلچسپی تھی کہ شاہد کتنی انگلش بول سکتا ہے۔ انٹرویو میں ہر سوال انگریزی زبان میں انگریزی زبان کے متعلق ہو رہا تھا۔مکینیکل انجینئرنگ میں فرسٹ کلاس لا کر شاہد انٹرویو میں بیٹھا ”کیا آپ پانچویں پاس سے تیز ہیں“ کھیل رہا تھا یعنی What is Your? Name سے شروع ہونے والا انٹرویو صرف یہ معلوم کرنے کے لیے تھا کہ عرضی دینے والا کتنی اچھی انگریزی بول سکتا ہے۔
جاپان میں کوئی انگریزی نہیں بولتا اس کے باوجود جاپان کی ترقی کی مثال پوری دنیا دیتی ہے۔ جاپان میں کوئی نوکری کے انٹرویو کے لیے جاتا ہے تو اس کی ذہانت کا امتحان لیا جاتا ہے۔ اس کی ”زبانیت“ کا نہیں ‘وہ جانتے ہیں کہ چھبیس حروف والی زبان انگریزی سیکھ لینے سے کوئی ذہین نہیں ہو جاتا۔ مگر افسوس پاکستان میں انگریزی زبان کلچر کا نام ہے۔ آج لوگوں کو انگریزی بولنے والے ماڈرن پڑھے لکھے بہتر کلاس کے ذہین لوگ لگتے ہیں۔
شاہد بیچارے کو میکینکل انجینئرنگ کے بارے میں سب کچھ پتہ تھا مگر انگریزی کے بارے میں کچھ کچھ یعنی شاہد کی انگریزی کا حال پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بلے بازوں کی طرح تھا کہیں کہیں صحیح ورنہ زیادہ تر گول آدھے سوال سمجھ نہیں آئے اور جو سمجھ آئے ان کے انگریزی میں جواب سمجھ نہیں آئے کئی انٹرویو زمیں دھکے کھانے کے بعد بلآخر شاہد کی انگریزی اتنی درست ہوگئی کہ اس کو ایک نوکری مل جائے‘ وہ سینکڑوں سال کا سفر کرکے اپنے اندر کئی نسلوں کی تہذیب اور تمدن لیکر جب یہ اردو آج کے شاہد کے پاس پہنچی تو اسے اپنے ہی پاکستان میں انگریزی زبان کی ” بلی چڑھنا “ پڑا۔
آج شاہد صرف انگریزی میں بات کر رہا تھا تاکہ وہ اپنے دفتر میں آگے بڑھ سکے‘ بڑی پوزیشن کے لیے اسے انگریزی کا سہارا درکار تھا۔ شاہد سے ہم نے جو بھی پوچھا اس کا جواب ایک ہی تھا کہ انٹرویو میں انگریزی میں جواب دیا تو نوکری کو پکی سمجھئے۔
ہمیں لگا جب انگریزی بول کر نوکری کرنی ہے تو پھر انگریزوں کے ساتھ ہی نوکری کیوں نہ کی جائے.... ہم امریکہ آگئے۔
آج مجھ سے اکثر لوگ یہ کہتے ہیں امریکہ سے اردو ختم ہو رہی ہے یہاں کے پاکستانی بچے صرف انگریزی بولتے ہیں ہم اردو کو بچانے کے لیے کیا کریں؟ اسی وجہ سے ہم امریکہ کینیڈا میں اردو کی کتابوں کے فنکشن کرتے ہیں۔ جن میں اردو کو فروغ دیا جاتا ہے۔ انگریزوں کے ملک میں رہ کر بھی ہم اپنی زبان اردو کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔ ایک دن دل کیا پاکستان میں اردو کا کیا حال ہے پتہ کیا جائے شاہد کو پاکستان فون کیا دوسری طرف سے آواز آئی Yes may I help you ۔