عالم تمام.... ظہیر الدین بٹ
لاہور میں کل مظاہرے اس لئے کئے گئے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نوازشریف کو ضمنی الیکشن لڑنے سے روک دیا ہے کیا حسن اتفاق ہے کہ ایک بھائی نے مقابلے کے بغیر ہی میدان مار لیا ہے یہی نہیں ان کے بھتیجے بھی خیر سے اسمبلی میں پہنچ کر حلف اٹھا چکے ہیں اور دوسرے بھائی کو اکھاڑے میں اترنے کی اجازت ہی نہیں دی جا رہی۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ کیا ایوان گورنر (گورنرپنجاب) ایوان وزیراعظم یا پھر ایوان صدر کے دباﺅ کا نتیجہ ہے؟ اس کا پتہ لگانے کے لئے کافی وقت درکار ہو گا۔ پاکستان میں سیاسی کھچڑی خوب پک رہی ہے۔ ہر پارٹی ہر لیڈر اپنے اپنے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ عوام جنہوں نے انہیں کامیاب کروا کر اسمبلیو ں میں اس امید پر روانہ کیا ہے کہ وہ ان کے مسائل کے حل کے بارے میں سوچیں گے لیکن وہ سب کچھ الٹ ہو گیا ہے۔ اب تو لوگوں میں بھی پریشانی پھیلنے لگی ہے کہ انہوںنے جس مقصد کے لئے ووٹ کا استعمال کیا تھا کیا وہ مقصد پورا ہو سکے گا۔ ناامیدی گناہ ہے لیکن فطرتی چیز کو کوئی کیسے درگزر کر سکتا ہے۔ادھر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ پی سی او ججوں کا گھیراﺅ کریں گے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے حالات کسی اچھی سمت نہیں جا رہے۔ ویسے بھی مسلم لیگ ن پر پہلے سے ہی الزام ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا اب پھر کھلم کھلا یہ اعلان ملک کی خدمت کے جذبوں کے منافی ہے۔ ایسے اعلانات کرنے والے تو شاید فائدہ نہ حاصل کر پائیں لیکن ملک اور عوام دشمن طاقتیں ضرور مستفید ہو جاتی ہیں۔ اعلان کرنے والے اعلانوں تک ہی محدود رہتے ہیں لیکن دشمن اپنا کام عمل کے ذریعے کر گزرتے ہیں اور بدنامی اعلان کرنے والوں کے حصے میں آتی ہے۔ اس لئے ایسی منفی سوچ کو بدلنا ہوگا۔
ایک طرف نااہلی کے آرڈر کروائے جارہے ہیں دوسری طرف ہمدردیوں کا سلسلہ بھی شروع ہے۔کیسی کیسی سیاسی چالیں چلی جا رہی ہیں۔ ہمارا ملک بجائے ترقی کے تباہی کی طرف زیادہ جا رہا ہے۔ ہمارے سیاسی ذمہ داران کو سوچنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ دنیا میں کیا واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں اور ان حالات میں ہمیں کیا اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ حکومت اور فوج کو بھی ہمسایہ ممالک کے حالات پر گہری نظر رکھنی ہو گی۔ ایران کو ہی لے لیں اس پر حملے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں حملوں کے لئے ایکسر سائزز بھی کی جا رہی ہیں۔ زبانی کلامی بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ عراق کی طرح لگتا ہے کہ ایران پر بھی کھلی جارحیت کر دی جائے گی اور اس کے ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن ہم ہیں کہ 57 ملک جو مسلمان حکومتیں ہیں میں کسی کو بھی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کیونکہ ہم لوگ اپنی کرسیوں کی حفاظت اور عہدوں کو بچانے کے لئے سرگرداں ہیں۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ معیشت زوال پذیر ہے اور تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ ملک پاکستان جو زرعی ملک کہلاتا ہے آٹا دالیں سبزیاں جو لوکل پیداوار ہیں کی قیمتیں آسمانوں کو چھوڑ رہی ہیں پہلے کہتے تھے کہ غریب آدمی دال روٹی کھا کر گزارہ کر لیتا ہے لیکن اب تو امیر کے گھر بھی دال پکنی مشکل ہو گئی ہے۔ عوام کو ججوں کے کھیل میں پھنسا دیا گیا ہے جبکہ ان کی ضروریات کچھ اور ہیں پہلے پیٹ بھرنے کے انتظامات ضروری ہیں۔ عوام کو وہ سہولیات اور ضروریات پہنچانا ضروری ہیں جس سے ان کی زندگی کاگزر بسر آسان ہو جائے۔ اسلامی حکومت میں تو جانور بھی بھوکا ہو گا تو اس کی جوابدہی ملک کے سربراہ کو کرنی ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں تو لاکھوں لوگ ایک وقت کی روٹی کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے ہیں۔ وارداتیں کون کرتا ہے جو بھوکا ہو گا یا نشئی؟.... پہلے پیٹ بھرنے کے انتظام ہونے چاہئیں پھر جا کر انصاف کی طرف جانا ہو گا۔
عوام کو ضروریات کی بہم رسائی کے بغیر انصاف دینا ناممکن ہے۔ چور کے ہاتھ تو اس وقت ہی کاٹنے اچھے لگتے ہیں کہ چور بننے کی وجوع کو ختم کیا جائے۔ اس لئے ہمارے سیاست دانوں کو پہلے عوام کی ضروریات اور مسائل کے حل کی طرف توجہ دینا چاہئے جب ہمارا معاشرہ اس قابل ہو جائے گا تو پھر انصاف اور وہ بھی اصل انصاف کی توقع اور مطالبہ خود بخود کرے گا۔ بھوکے اور خالی پیٹ انسان کے لئے انصاف کی کوئی اہمیت اور معنی نہیں رکھتی کیونکہ اس کی ضرورت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو عوام نے ٹھیک ہے اس لئے مینڈیٹ دیا ہے کہ وہ ججز کی بحالی کا اہتمام کروائیں لیکن مسلم لیگ ن اس میں ناکام رہی ہے کیونکہ ان کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے ان سے کئے گئے معاہدوں اور اعلانات کی پاسداری نہیں کی۔ اس سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اتحاد ایک طرف سے صدرپرویز مشرف کو ہٹانا اور دوسری طرف سے انہیں بچانا پر ہی ہوا تھا۔
اس کے لئے دونوں نے ایک دوسرے کو اندھیرے میں رکھا ہے۔ کس کا ایجنڈہ پورا ہو رہا ہے یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ عوام سے ملے مینڈیٹ کو اپنے پاس رکھنے کا حق کیونکر باقی رہتا ہے جبکہ ان سے کئے گئے وعدے پورے نہ کئے جا سکیں۔ اس لئے اب پاکستان مسلم لیگ (ن) کو خواب اور امیدوں کے سہارے رہنے کی بجائے کوئی ٹھوس فیصلے کرنے ہوں گے۔ ”شاید یا ہو جائے“ والی سوچ سے اب باہر نکلنا ہو گا۔ کیا اب بھی امید ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ ملکر کچھ کیا جا سکتا ہے؟ لگتا ہے کہ جو دل میں بات ہے وہ منہ اور زبان پر آنے سے ہچکچا رہی ہے۔ ہماری تو خواہش ہے کہ تمام پارٹیاں ملکر ملک کی خدمت کریں اور عوام کے مسائل کو حل کریں لیکن اس میں جو اتحادی پارٹیوں میں بداعتمادی کی فضا پھیل چکی ہے۔ اس کو دوبارہ سے درست سمت لانا ضروری ہے۔ پارٹیوں کو پہلے تو لو پھر بولو پر عمل کرنا چاہئے۔ خالی خولی اعلانات سے کچھ نہیں ہوتا۔ کیونکہ پورا نہ ہونے پر شرمندگی ہی ملتی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ تمام پارٹیاں اپنی سوچ میں ضرور تبدیلی لائیں گی۔