|
(وکیل انصاری) جیسا کہ ان سطور میں پہلے بھی لکھا جاچکا ہے کہ 11 ستمبر کے سانحہ کے بعد جو کچھ امریکہ اور یورپ میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا اور ہورہا ہے، مسلمانوں نے ہر اس شخص یا تنظیم کو ”نجات دہندہ“ تسلیم کرلیا جو بھی صدر جارج بش کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، یہی کچھ بلکہ اس سے بہت کچھ باراک اوبامہ کو دنیا کے مسلمانوں نے تسلیم کرلیا ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے ”انصاف“ فراہم کراسکیں گے۔ اگر غور سے باراک اوبامہ کی انتخابی کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ باراک اوبامہ مسلمانوں کو کس طرح نظرانداز کرتے رہے ہیں اور مسلمان تنظیموں اور مسلمان طلبہ کے ساتھ کیسا برا امتیازی سلوک برت رہے ہیں۔ میں بہت افسوس کے ساتھ تمام انصاف پسند افراد کو ان حقائق سے روشناس کرانا چاہتا ہوں اور ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ باراک اوبامہ اور انکی انتخابی مہم ایک پلاٹ کے تحت اور ایک ایسی پالیسی کے تحت مسلمان یعنی امریکنز مسلم کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے اور یہ بات میں ہی نہیں بلکہ ر Active Amricans Muslim محسوس کررہا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی کانگریس کے سب سے پہلے مسلمان ممبر Keith Ellison نے بڑھ چڑھ کر اور شروع دن سے باراک اوبامہ کی انتخابی مہم کو جوائن کیا مگر بقول جناب Ellison کے باراک اوبامہ کی انتخابی مہم کے افراد نے خصوصی طور پر ان کو Compaign سے دور کیا اور ان کو دعوت نامہ دیکر واپس لے لیا۔ واضح طور پر ان کو بتایا کہ انکی تقریر یا شمولیت باراک اوبامہ کیلئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ دوسری امثال بہت ہیں مگر گزشتہ ڈیڑھ برس میں باراک اوبامہ مختلف چرچ اور سیناگوک اپنی انتخابی مہم لیکر گئے مگر وہ آج تک کسی مسجد میں نہیں گئے جبکہ جان میکین اور جارج بش اپنی انتخابی مہم میں ہر عبادت گاہ میں جاتے ہیں اور گئے ہیں۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ باراک اوبامہ ”اتحاد“ اور ”امت“ کا نعرہ لگا کر اس میدان میں داخل ہوئے ہیں مگر مسلمانوں کو اس ”اتحاد“ سے دور رکھ کر وہ کس طرح امریکی صدر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ ہر پلیٹ فارم سے Change یعنی تبدیلی کا دعویٰ کررہے ہیں اور اب ہم کو ان کے اس نعرے کا مقصد بھی سمجھ میں آرہا ہے۔ ہم سب کو یہ بھی معلوم ہے کہ ان پر ”مسلمان“ ہونے کا الزام ہے اور ان کے مخالف ان کو ہر حالت میں ”خفیہ مسلمان“ ثابت کرنے میں لگے ہیں اور اس الزام کے جواب میں وہ برملا کہہ رہے ہیں کہ ان پر ”غلاظت“ ملی جا رہی ہے۔ خواتین و حضرات مسلمان ہونا ”غلاظت“ نہیں ہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں میں مسلمان نہیں ہوں، گو کہ اسلام بھی مذاہب ابراہیمی میں سے ایک ہے۔ جارج بش بھی اپنی تقاریر میں کہہ چکے ہیں کہ اسلام امن پسند مذہب ہے مگر ان میں کچھ دہشت گرد بھی ہیں جیسا کہ دوسرے مذاہب میں بھی ہیں۔ کیا باراک اوبامہ مسلمانوں سے فاصلہ رکھ کر یہودیوں اور عیسائیوں کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ ان کو یا ان کی انتخابی مہم کو مسلمانوں کا مخالف ہونا کیونکر ثابت کرتا ہے۔ کیا وہ کسی دوسرے طریقے کو اپنا کر اپنے مسلمان ہونے کے الزام کو جھوٹ ثابت نہیں کرسکتے ہیں! یروشلم کو اسرائیل کا اٹوٹ انگ ثابت کرنا، حجاب میں لڑکیوں کو اور ان لڑکیوں کو جو کہ ان کی کامیابی کیلئے کام کررہی ہیں، کیمروں کے سامنے سے یوں ہٹا دینا کہ لوگ یا امریکی عوام یہ تاثر لیں گے کہ مسلمان بھی باراک اوبامہ کو سپورٹ کررہے ہیں، کتنا گھٹیا درجے کا کام ہے۔ اب بال مسلمان ووٹرز کے کورٹ میں ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم جذباتی ہو کر فیصلہ کرتے ہیں اور ہمارے لیڈرز اپنے فوٹوز بناکر فیصلہ کرتے ہیں۔ جو شخص آج سچ اور حقیقت کا سامنا کرنے سے ڈر رہا ہے، ہم اس سے کیا توقع لگائیں؟ کیا اور کیسے انصاف کی امید لگائیں، کس تبدیلی کی توقع کریں؟ ہوسکتا ہے کہ آج مسلمان ووٹرز کی اہمیت کا اندازہ باراک اوبامہ کی انتخابی مہم کو نہ ہو مگر کل ضرور ہوگی اور اس وقت ہوگی جب ہم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ثابت کرینگے کہ ہمیں Ignor کرنے والوں، ہمیں نظرانداز کرنے والوں دیکھو تمہارا کیا حشر ہوا۔ عزت حاصل کرنا مسلمانوں کیلئے یعنی امریکن مسلم کیلئے بہت ضروری ہے۔ ہمیں یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ امریکن مسلم ووٹرز کو ”For Granted“ نہ لیا جائے۔ دیکھتے ہیں کہ اس وقت مسلمان لیڈر کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ الیکشن کے دن ”ہم کو گھر میں بیٹھنا ہے یا ووٹ دینا ہے“ اور کس کو ووٹ دینا ہے؟ اس کو ووٹ دینا ہے جو کہ مسلمانوں سے تعصب Discrimination کررہا ہے یا جو جارج بش کی پالیسیوں کو مزید Extend کریگا۔ ایک طرف کنواں اور دوسری طرف کھائی اور فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس طرف گریں! ٭٭٭
|
|