(ملک سلیم اکبر)
نوازشریف کو ضمنی انتخاب میں نااہل قرار دیکر درحقیقت پی سی او ججوں نے نوازشریف پر ایک بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اب نوازشریف پی سی او ججوں کی برقراری کیخلاف بپھرے ہوئے شیر کی طرح ایک مضبوط اور ٹھوس موقف کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ججوں کی بحالی پر اپنے سابقہ موقف سے یوٹرن لینے والے نوازشریف درحقیقت زرداری کے ساتھ غیرمشروط محبت نبھانے کے چکر میں مخصمے کا شکار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بھوربن معاہدے کے باوجود ججوں کی بحالی کا سیدھا سادا مسئلہ حل کرنے کے بجائے عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے احمقانہ بیانات کی وجہ سے جگ ہنسائی کا ذریعہ بنتا جا رہا تھا۔ پی پی پی کے مرکزی رہنماءاٹھتے بیٹھتے برملا کہتے رہے ہیں کہ پی سی او ججوں کو قبول نہ کیا گیا تو معزول جج بھی بحال نہیں ہوں گے۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو پی پی پی نے تو پی سی او ججوں کے حوالے سے اپنے موقف پر جوں کی توں برقرار رہی ہے جبکہ نوازشریف بھی شعوری یا لاشعوری طور پر فنانس بل کے حوالے سے عملی طور پر پی سی او ججوں کو تسلیم کرکے اپنے انتخابی مقوف سے دن بدن ہٹتی جا رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اب جبکہ مسلم لیگ (ن) کے تعاون کے بعد عدالت عظمیٰ کے ججوں کی تعداد بڑھا کر 29 کرنے پر اتفاق بھی ہوچکا ہے تو پھر نوازشریف کی یہ دلیل ہی بے معنی ہے کہ تعداد بڑھانے پر تو اتفاق ہے لیکن پی سی او ججوں کی برقراری پر اتفاق نہیں ہے۔ نوازشریف کا بار بار میڈیا کے سامنے پاکستانی قوم سے یہ کہنا کہ آصف زرداری اور ہمارے درمیان ججوں کے معاملے پر تو مکمل اتفاق رائے ہے، بس طریقہ کار پر اختلاف ہے۔ نجانے عوام کو بیوقوف کیوں سمجھ کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ بھئی نوازشریف اور آصف زرداری یہ تو جانتے ہیں کہ منزل کہاں ہے، بس انہیں اس راستے کا علم نہیں ہے جس پر چل کر منزل تک پہنچنا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے ججوں کے مسئلے پر آصف زرداری کی سیاست کامیاب رہی ہے اور آج تک جن تنقیدی جملوں کا رخ پی پی پی کی طرف سے ہوا کرتا تھا اب وہ طعنہ بن کر نوازشریف پر حملہ آور ہے لیکن اللہ بھلا کرے ہائیکورٹ کے پی سی او ججوں کا جنہوں نے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دیکر نوازشریف کو ایک ایسی روشنی دکھائی ہے جو انہیں اب منزل کا پتہ بھی دیگی اور منزل تک پہنچنے کا راستے بھی دکھائے گی۔ ایک ایسا راستہ جو افتخار چودھری اور 60 معزول ججوں کی بحالی پر کسی بھی قسم کی سودے بازی یا ڈھیل یا ڈیل سے نوازشریف کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باز رکھے گا اور عین ممکن ہے کہ نااہل قرار پانے کے بعد نوازشریف کو یہ احساس بھی ہوگا کہ اب پی پی پی سے اتحاد کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ نوازشریف کو اپنے قابل اعتماد ساتھیوں پر بھی خاص الخاص نظر رکھنی ہوگی کہ مسلم لیگ (ن) میں بھی ایک ایسا گروہ پیدا ہورہا ہے جو ججوں کی بحالی کے مسئلے پر اختلافات کا شکار ہے۔ پی پی پی کے رہنماءمیڈیا پر تکلف اور احتیاط کے تقاضوں کے ساتھ اور نجی محفلوں میں کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ججوں کی تعداد 29 کرنے کی تجویز نوازشریف کے دست راست اسحاق ڈار ہی نے دی تھی جنہوں نے آج تک اس الزام کی تردید بھی نہیں کی۔ اقتصادی مبصرین بھی کھلے عام کررہے ہیں کہ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج کو کریش کرنے، روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی بھی اسحاق ڈار ہی کے بیان کی وجہ سے ہوئی تھی۔ نوازشریف کو ججوں کے حوالے سے اب ڈھیلے ڈھالے موقف کے بجائے ٹھوس ترین مو¿قف لیکر سامنے آنا ہوگا۔ 718-692-0700 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ کیا نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مشرف دوبارہ مضبوط اور مستحکم ہو کر سامنے آرہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کا وہ عنصر جو موجودہ سیٹ اپ ہی کو ختم کرنا چاہتا ہے وہ جمہوری سیاست پر حاوی ہو کر سامنے آرہا ہے۔ اندر کی خبر تو یہ ہے کہ آصف زرداری نئے اتحاد کی تیاریوں میں اندر ہی اندر مصروف ہیں اور پی پی پی کی حکومت اپنی ”کابینہ مکمل“ کرنے کیلئے نئے اتحادیوں کے ساتھ پیام محبت اور وعدہ الفت باندھ رہی ہے۔ شہبازشریف کو وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ہوا میں ”معلق“ کرنے کا فیصلہ بالآخر صوبہ پنجاب کی ساری انتظامیہ ہی کو مفلوج کرکے رکھ دیگا اور اگر شہبازشریف کو بھی بالآخر نااہل قرار دیدیا گیا تو پھر مسلم لیگ (ن) کو صوبہ پنجاب میں حکومت چھوڑنی ہوگی اور گورنر سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب مقرر کرنے کا آصف زرداری کا فیصلہ پیشگی سیاسی دانشمندانہ فیصلہ کہلائیگا۔ آصف زرداری کے بیرون ممالک کے دورے کی Timing بھی اب تو ہمیں بہت مناسب ہی دکھائی دے رہ یہے کہ ادھر شہبازشریف اور نوازشریف عدالتی فیصلے سے تلملا رہے ہیں اور ادھر آصف زرداری ایک لمبے بیرونی دورے پر لطف اٹھا رہے ہیں۔ آصف زرداری نے سیاست پر اپنی گرفت مکمل طور پر مضبوط کرنے کے بعد اب صوبہ پنجاب پر ہاتھ ڈالنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اگر ہماری خبر درست ہے تو پھر پی پی پی مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد کرلے گی جو آصف زرداری کو بالآخر جنرل مشرف کو گلے لگانے کا باعث بنے گا۔ نوازشریف کو ہمارا مشورہ یہی ہے کہ لوہار کو لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگانی چاہئے۔ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ نوازشریف کو ججوں کے مسئلے کو دوبارہ زندہ کرکے بپھرے ہوئے شیر کی طرح سامنے آنا ہوگا۔ بڑے فیصلے کرنے کیلئے بڑا دل گردہ ہونا چاہئے۔
پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد