|
(اور پھر بیاں اپنا.... قمر علی عباسی) ہمارا پہلا پڑاﺅ دبئی میں تھا ان دنوں ہم ریڈیو پاکستان میں پروگرام منیجر تھے، ریڈیو ابوظہبی سے اردو سروس ہوتی تھی جس کے انچارج کی حیثیت سے ہمارے ادارے کی جانب سے ہمارا انتخاب ہوا، ڈاکٹر اشرف ہمارے ایک مہربان تھے ان دنوں دبئی کا ویزا امریکہ کے گرین کارڈ کی طرح تھا۔ ڈاکٹر اشرف یو اے ای میڈیکل سنٹر کے انچارج تھے۔ انہوں نے ہمارے پاسپورٹ پر دبئی کا ویزا لگوا دیا۔ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل نے مشورہ دیا ریڈیو ابوظہبی سے ہماری تعیناتی کے ٹرم اور کنڈیشن نہیں آئے ہیں بہتر ہو گا ہم خود جا کر حاصل کر لیں۔ یہ 1976ءتھا۔ دبئی میں ہمارا قیام حاجی عبدالکریم کے گھر ہوا۔ انہوں نے ایک شام دبئی میں ان پاکستانیوں کو مدعو کیا جن کا تعلق اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے تھا ان میں ایک صاحب ارشد عثمانی بھی تھے۔ بینک میں ملازم تھے لیکن شوقیہ ٹیلی ویژن پر پروگرام کرتے، ریڈیو بھی جاتے اور اخبار میں مضامین بھی لکھتے، یہ مختصر سی ملاقات تھی اور شاید ہم یہ بھول جاتے لیکن ایسا نہ ہوا، ہم ابوظہبی گئے وہاں ریڈیو سے اور اس سے منسلک پاکستانیوں سے کوئی ربط ضبط نہ ہو سکا یہ ملازمت ہمیں بھائی نہیں اور اس سے پہلے کہ ”ٹرمز اینڈ کنڈیشن“ قبول کرتے واپس دبئی آ گئے یہاں دوبارہ ارشد عثمانی سے ملاقات ہوئی وہ ضِد کرنے لگے ابوظہبی جانے دیں دبئی میں ٹھہر جائیں یہاں کچھ کر لیں بڑے مواقع ہیں۔ ہم نے کہا کچھ تو پاکستان میں بھی کر رہے ہیں وہاں مواقع بھی بہت ہیں اور کوئی رفیق مسکین بھی نہیں سمجھتا ان دنوں دبئی اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا نہ ہم پاکستان سے فرار ہوئے تھے نہ ”بھائی“ تھے اس لئے وطن واپس آ گئے اور پھر ستم ہائے روزگار میں گرفتار ہو گئے ہم پر ریڈیو کا محکمہ مہربان تھا۔ اس لئے پاکستان کے بیشتر شہر دکھا دئیے کبھی پنڈی، کبھی کوئٹہ، حیدرآباد، خضدار ٹرانسفرز اور یوں دبئی بھول گئے۔ ہم ریڈیو پاکستان کراچی میں تھے کہ ایک دن ہمارے سٹینو نے بتایا کہ ایک صاحب ملنے آئے ہیں نام ارشد عثمانی بتاتے ہیں۔ اچانک دبئی لوٹ آیا۔ ارشد عثمانی ہمارے کمرے میں ہمارے سامنے تھے وہ بالکل نہیں بدلے تھے اور ہم بھی اتنی جلدی بدلنے کے قائل نہیں۔ دبئی کی باتیں ہونے لگیں وہ مافیا جو اس وقت ریڈیو ابوظہبی پر قابض تھا ابھی تک ڈٹا ہوا تھا۔ دبئی نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر لی تھی۔ ارشد عثمانی دبئی کا بینک چھوڑ کر کینیڈا مستقل رہائش کیلئے چلے گئے اور ہم ریڈیو اسلام آباد ٹرانسفر ہو گئے۔ پھر درمیان میں ایک لمبا عرصہ گزر گیا ارشد عثمانی سے کوئی رابطہ نہیں تھا ہم کئی سال بعد جب ریڈیو پاکستان کراچی کے اسٹیشن ڈائریکٹر تعینات تھے کہ ایک دن فون آیا ”میں ارشد عثمانی بول رہا ہوں“ ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ دبئی سے بول رہے ہیں یا کینیڈا سے لیکن وہ کراچی میں تھے۔ ہم نے ملاقات کیلئے اصرار کیا وہ آ گئے ہم نے کہا یہ اچھا لگتا ہے کہ آپ چار پانچ سال بعد مل لیتے ہیں۔ وہ ہنس کر بولے قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا ملنا جلنا ریڈیو پاکستان کراچی میں ہمارے دفتر میں ہر دوپہر کھانے کا خاص اہتمام ہوتا اور اللہ کا شکر ہے کہ نہ صرف احباب بلکہ ملاقات کرنے والے بھی دستر خوان پر موجود ہوتے۔ ارشد عثمانی جب تک کراچی میں رہے دوپہر ہمارے ساتھ ہوتے اور کھانے میں ارر کی دال ضرور ہوتی یہ ان کی پسندیدہ ڈش تھی۔ کینٹین والا بڑے اہتمام سے بناتا گرم گرم پراٹھوں سے یہ بڑا لطف دیتی ارشد عثمانی کے جانے کے بعد بھی ہم اس دال سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ارشد عثمانی ضرورتاً شعر بھی کہتے کراچی میں انہوں نے اپنا مجموعہ ”محبتوں کا قرض“ بھی دیا اور ایک شام بہت سے احباب کو جمع کیا اور ایک ادبی انجمن کی جانب سے ہمیں ایک شیلڈ بھی دی جو ان کی محبت کی علامت تھی۔ ریڈیو پاکستان کراچی سے ہم نے ان کے کئی پروگرام کروائے۔ مقبول گلوکار مجیب عالم کے ساتھ ایک شاندار شام کی کمپیئرنگ بھی ارشد عثمانی نے کی جسے قومی نشریاتی رابطے پر تمام ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر کیا اور ان کی نظامت بہت سراہی گئی یہ 1997ءکی بات ہے۔ ہم امریکہ آ گئے جس کا ہمسایہ کینیڈا ہے یوں ارشد عثمانی بھی ہمسایے ہو گئے وہ ہم سے ملنے امریکہ آئے اور کینیڈا آنے کی دعوت دی۔ انہی دنوں ممتاز کالم نگار نصیر رانا کی کتاب کا افتتاح ٹورنٹو میں تھا۔ ہم، نصیر رانا اور مسرور جاوید ٹورنٹو پہنچے۔ ہماری بیگم نیلوفر عباسی بھی ساتھ تھیں۔ اس تقریب کی نظامت انہیں کرنی تھی۔ ٹورنٹو کے ایک ہال میں پروگرام شروع ہوا اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ نیلوفر کی نظامت کے دوران جب جی چاہتا ارشد عثمانی کوئی شعر پڑھ دیتے کوئی لطیفہ سناتے یا کسی کا تعارف کروانے لگتے یوں محفل کو محظوظ کرتے۔ ہمارے میزبان اردو اخبار کے ایڈیٹر اقبال صاحب تھے لیکن تقریب کے ختم ہونے کے بعد اور نیویارک واپسی تک ہم لوگوں کی میزبانی ارشد عثمانی نے کی۔ مٹھائی، کھانے اور پھلوں کی دکانوں پر لے جاتے۔ ٹورنٹو کا ہر گلی کوچہ دکھا دیا جس صبح سویرے ہمیں نیویارک کیلئے نکلنا تھا ارشد عثمانی نے وعدہ کیا وہ ہمیں ہوائی اڈے چھوڑ دیں گے میزبان سے زیادہ یہ مستعد تھے ہم نے ازراہِ احتیاط اپنے ساتھ ہی رکنے کیلئے کہا وہ ٹھہر گئے صبح سے بہت پہلے ہم نے جا کر دیکھا۔ ارشد عثمانی جاگ رہے تھے ہم نے پوچھا بہت جلدی اٹھ گئے؟ کہنے لگے میں سو نہیں سکا اس کی وجہ میزبان کے وہ خراٹے تھے جو کسی کو پل بھر نہیں سونے دے سکتے تھے، ہم نیویارک لوٹ آئے۔ اردو کے ممتاز شاعر اور نثر نگار اشفاق حسین نے ایک تقریب منعقد کی۔ ٹورنٹو ہمیں تقریر کیلئے مدعو کیا۔ میزبان تو اشفاق حسین تھے لیکن ارشد عثمانی نے ہماری ازخود میزبانی کی۔ صبح سویرے آ جاتے انہوں نے اپنی گاڑی میں کئی طرح کی شیروانیاں اور ٹوپیاں رکھی تھیں ایک ٹی وی چینل پر مذہبی پروگرام کرتے تھے یہ اسی کیلئے تھیں۔ سلطان جمیل نسیم اردو کے ممتاز افسانہ نگار ہیں ان کے ساتھ ایک شام ٹورنٹو میں منائی گئی ہمیں خصوصیت سے مدعو کیا گیا یہ 2005ءکی بات ہے۔ اشفاق حسین ہمارے میزبان تھے خیال تھا ہمیشہ کی طرح ارشد عثمانی ہمارے پہنچتے ہی آ جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا کئی دن تک انتظار کیا احباب سے دریافت کیا ان کا کوئی پتہ نہیں تھا سلطان جمیل نسیم کے اعزاز میں یہ تقریب آرٹس کونسل مِسی ساگا میں تھی۔ اس دوران اچانک ارشد عثمانی آ گئے چہرے پر نقاہت تھی اور ہاتھ پر ہسپتال کا بینڈ۔ ہم نے حیرت اور خوشی سے ان کو دیکھا۔ معلوم ہوا وہ ہسپتال میں داخل ہیں اور اس وقت کوئی بہانہ کر کے نکل آئے ہیں اپنے دوست کے ساتھ صرف ہم سے ملنے اور ایک گھنٹے میں واپس چلے جائیں گے اس تقریب کا ایک حصہ مشاعرے پر بھی مبنی تھا۔ انہوں نے بالکل شروع میں پڑھا۔ خیال تھا وہ کسی ضرورت سے باہر گئے ہیں ابھی لوٹ آئیں گے تقریب ختم ہوئی وہ نہیں آئے ہم نے اس چٹ پر دیکھا فون نمبر اور پتہ تھا۔ دوسرے دن فون کیا وہاں گھنٹیاں بجتی رہیں ہمیں ان کے ہسپتال کا نام معلوم نہیں تھا۔ ارشد عثمانی کے سسرالی رشتے دار مولانا آصف قاسمی کو بھی علم نہیں تھا۔ اشفاق حسین کو بھی پتہ نہیں تھا۔ سلطان جمیل بھی نہیں جانتے تھے ہم نیویارک لوٹ آئے۔ بہت سا وقت گزر گیا۔ ارشد عثمانی کے بارے میں کئی احباب نے پوچھا پاکستان سے بھی فون آئے ہم نے ان کے پتے پر خط بھیجا وہ واپس آ گیا۔ خیال تھا وہ اکثر چار پانچ سال بعد اچانک سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں اب بھی یہی ہو گا لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ ہم نے کینیڈا میں دبئی میں پاکستان میں تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ کل اخبار میں خبر تھی ارشد عثمانی نہ کینیڈا میں ہیں نہ دبئی میں نہ پاکستان میں ان کا پتہ بدل گیا ہے اس پتے پر خط نہیں لکھا جا سکتا وہاں ٹیلی فون بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اب وہ ایسی جگہ ہیں جہاں صرف جانے کا راستہ ہے اور جو وہاں جاتا ہے بس وہیں کا ہو رہتا ہے۔ ٭٭٭
|
|