اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 26 Jun 2008 15:04:00

پاکستان توڑنے کی امریکی سازش

پاکستان توڑنے کی امریکی سازش
(عبدالقادر حسن)
گزشتہ عام انتخابات کے نتیجے میں ملک کے اندر جس جمہوری دور کا آغاز ہوا تھا، شکر ہے کہ وہ دور بخوبی چل رہا ہے اور جمہوری حکمران اپنے اپنے انداز میں عوام کے مسائل پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ بات ہر پاکستانی کو معلوم ہے کہ اس کے ووٹ سے کوئی انقلابی قیادت سامنے نہیں آئی ہے، وہی پرانے لوگ ہیں جو اس بار بھی اقتدار میں آئے ہیں لیکن ان میں یہ احساس ہے کہ انہیں کچھ کرنا پڑیگا کیونکہ بس اتنا کافی نہیں کہ ملک پر اب کوئی فوجی حکومت نہیں ہے بلکہ لازم ہے کہ جمہوری حکومت گزشتہ ساڑھے آٹھ سال کی حکومت سے مختلف ثابت ہو۔ گزشتہ حکومت کی ناکامی کا اعتراف اب خود حکمران کرنے لگے ہیں اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں ان کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں بلکہ سابقہ حکومت ہے اور وزیراعظم شوکت عزیز اس کا اصل سبب ہیں لیکن ان سے یہ کسی نے نہیں پوچھا کہ شوکت عزیز کو کون لایا اور کس نے ان کو زبردستی اقتدار دلایا۔ بہرکیف جمہوری دور کے حکمرانوں کو اس تباہ شدہ ملک کو آباد کرنا ہے۔ بیرونی دباﺅ پہلے سے بڑھ رہا ہے، امریکہ کی نگرانی میں نیٹو افواج پاکستان پر حملہ آور ہیں اور ایک اطلاع کے مطابق یہ افواج خود پاکستان کے اندر ہیں جس کی اجازت پرویز مشرف نے دے رکھی ہے۔
امریکی افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہمارے شمالی علاقے ہر وقت حملوں کی زد میں ہیں اور وزارت داخلہ کے مشیر اور موجودہ حکومت کی ایک اہم شخصیت رحمان ملک نے یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکہ شمالی علاقوں کو ایک آزاد ملک کی شکل دینا چاہتا ہے۔ اخبار نویسوں کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے کہا کہ غیرملکی طاقتیں پاکستان کے شمالی علاقوں پر مشتمل ایک نیا ملک قائم کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ حکومت کو اس خطرے کا پوری طرح احساس ہے اور وہ اس کے مقابلے کیلئے تیار ہے۔ یہ بیرونی طاقتیں ان علاقوں میں اس قدر بدامنی پیدا کرنا چاہتی ہیں کہ وہ اسے پاکستان سے الگ کریں تو مزاحمت کم سے کم ہو۔ بعض پاکستانی دانستہ یا نادانستہ طور پر اس سازش کا شکار ہورہے ہیں۔ حکومت فوج نہیں بلکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ذریعے ان کی بیخ کنی کا پروگرام بنا رہی ہے۔ رحمان ملک نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ حکومت سرحد نے وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر اس خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ امریکہ نے 9/11 کے بعد پاکستان کیخلاف جس کارروائی کا آغاز کیا تھا یہ سازش اس کی ایک انتہا ہے اور حکومت کے ایک نہایت ہی ذمہ دار شخص نے میڈیا کو اس سے آگاہ کیا ہے۔ شمالی علاقوں کے علاوہ امریکہ، بھارت کے ذریعے بلوچستان میں بھی بدامنی پھیلا رہا ہے اور یہاں کے سرداروں کو پاکستان کیخلاف مشتعل کررہا ہے۔ بلوچستان کے بعض سرداروں کی طرف سے بغاوت کے اعلان ہورہے ہیں اور حکمران پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے لاہور ہی میں صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا ہے کہ وہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ہر قربانی دیں گے۔ پہلے انہوں نے بلوچوں سے غیرمشروط معافی مانگی تھی، اب وہ ان کے مطالبات پورے کرنے میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے۔ اس کے وسائل کے استعمال سے ملک کی ترقی کے امکانات واضح ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ عجیب بات کہی کہ شمالی علاقے پاکستان کی معاشی ترقی میں اتنے معاون نہیں جس قدر بلوچستان ہے۔ شمالی علاقوں کو ایک آزاد ملک بنانے کی سازش کا انکشاف اگرچہ میڈیا کے سامنے اس سے دوسرے روز ہوا لیکن ظاہر ہے کہ آصف زرداری کو اس کا پہلے سے علم ہوگا اور ان کے پاس وہ تفصیلات موجود ہوں گی جو میڈیا کو نہیں بتائی گئیں چنانچہ اسی سازش کے پیش نظر ان کا یہ کہنا کہ شمالی علاقے پاکستان کی ترقی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرسکتے، عجیب لگتا ہے۔ کیا ہم اپنے ملک کی کسی ایسی سرزمین سے دستبردار ہوسکتے ہیں جہاں سے ہمیں مالی یافت نہ ہوتی ہو۔ یہ تو وہی بات ہے جو ایوب خان مشرقی پاکستان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ملک کا یہ حصہ ہم پر بوجھ ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ یحییٰ خان کے زمانے میں جب یہ بوجھ اتارا جا رہا تھا تو پیپلز پارٹی کا بانی یحییٰ خان کا سب سے زیادہ اہم سیاسی معاون تھا جس نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کا خیرمقدم کیا تھا کہ ”شکر ہے پاکستان بچ گیا ہے“ ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنیوالوں کی ٹانگیں توڑنے کا ارادہ کیا تھا۔ بہرکیف حالات اب وہ نہیں رہے اور پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت باقیماندہ پاکستان کے ہر حصے کو ملک کا برابر کا اہم حصہ سمجھے گی اور کسی حصے کو بوجھ تصور نہیں کریگی۔
پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں ان کی وسعت اور گہرائی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے حکمران ایسے بالغ نظر دکھائی نہیں دیتے جو ان مسائل کا مقابلہ کرسکیں۔ وفاقی حد تک حکمرانی کے انداز نہیں بدلے۔ گزشتہ دنوں ہمارے وزیراعظم کوئی 80 کے قریب لوگوں کو سعودی عرب لے گئے تھے جبکہ ضرورت چند متعلقہ افسروں کی تھی کیونکہ ہم ان سے تیل مانگنے گئے تھے۔ ملک کے معاشی مسائل جوں کے توں ہیں لیکن حکمرانوں کے انداز خسروانہ بھی جوں کے توں ہیں جبکہ قومی سطح پر ہمیں انقلابی نہ سہی نیم انقلابی رہنماﺅں کی ضرورت ہے۔
٭٭٭










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier