|
(گریبان.... منو بھائی) آزادی اظہار کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے والے ہمارے بیشتر ساتھی نہیں جانتے ہوں گے کہ آزادی صحافت کی جدوجہد میں قید و بند کی آزمائشوں سے گزرنے والے ہمارے ایک شاعر اور صحافی دوست حسن عابدی مرحوم نے کہا تھا کہ کچھ عجب بوئے نفس آتی ہے دیواروں سے ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے زندانوں کے علاوہ اقتدار کے ایوانوں کی دیواروں سے بھی کچھ ہم عصروں کو ایک دوسرے سے شناسا اور مانوس قسم کی بوئے نفس آسکتی ہے۔ مثال کے طور پر 33 سالوں کے مارشل لاﺅں اور ”ایمرجنسی در ایمرجنسی“ کے تجربات سے گزرنے والے ہم پاکستانیوں کو ”ایک اور دریا کا سامنا“ کرتے وقت اور فوجی وردی کے اندر کی فوجی وردی کے اترنے کا انتظار کرتے وقت سابق رہوڈیشیا حال زمبابوے کے ایوان صدر سے کچھ ایسی ہی مانوس اور شناسا قسم کی بوئے نفس آسکتی ہے کہ جہاں کے صدر رابرٹ موگابے اپنے ملک کا صدارتی انتخاب ہار جانے کے بعد بھی ایوان صدر اور صدارت کا منصب چھوڑنے سے انکاری ہیں اور وہاں کے بالغ رائے دہندگان ”صدارتی انتخاب“ کے ایک اور دریا سے پار اترنے والے ہیں اور اس موقع پر صدر رابرٹ موگابے فرماتے ہیں کہ ”وہ جو میرے خلاف ووٹ دیگا اس کے بیلٹ کو بلٹ کے ذریعے مسترد کردیا جائیگا“ امریکی صدر آنجہانی رونالڈ ریگن کے نائب وزیر خزانہ پال کریگ رابرٹس وہ زمانہ یاد دلاتے ہیں جب برطانیہ اور امریکہ سمیت پوری مغربی دنیا نے رہوڈیشیا کو رابرٹ موگابے کی تحویل میں دینے کی ضرورت سے زیادہ عجلت دکھائی تھی کہ انہیں رہوڈیشیا پر نسل پرست ایان سمتھ جیسے لوگوں کے دوبارہ طاقت پکڑ لینے کا اندیشہ تھا۔ یہاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بڑے لوگوں کی سوچ ایک جیسی ہوتی ہے اور احمقوں میں اختلاف رائے نہیں ہوتا۔ ایک تازہ ترین عالمی سروے رپورٹ میں امریکہ کے صدر بش، پاکستان کے صدر مشرف اور ایران کے صدر احمدی نژاد کو دنیا کے تین سب سے زیادہ ناقابل اعتبار (Least Trusted) سیاستدان قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سرفہرست بتایا گیا ہے۔ پال کریگ رابرٹس کے مطابق ایران کے صدر احمدی نژاد ”امریکی یورپی کارپوریٹ کنٹرولڈ میڈیا“ کی جانب سے اچھالے جانیوالے کیچڑ اور مخالفت کے زہر کی زد میں ہیں۔ یہ میڈیا پورے یورپ اور امریکہ بلکہ پوری مغربی دنیا کی اطلاعات ونشریات، الزام تراشی، افواہ سازی، پروپیگنڈہ، گمراہی اور بے راہ روی کی تمام وزارتوں اور محکموں کے مشترکہ ترجمان کا فریضہ ادا کررہا ہے۔ رابرٹس نے اپنے صدر بش کو امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ جھوٹے صدر قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اکیسویں صدی عیسوی میں امریکی حکومت کو دنیا کی سب سے زیادہ غیرقانونی یا قانون سے ماوراء(Lawless) حکومت بنا دیا ہے مگر امریکہ کے سابق وزیر خزانہ نے یہ نہیں بتایا کہ پاکستان کو دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک ملک کس نے اور صدر پرویز مشرف کو دنیا کا سب سے زیادہ ناقابل اعتبار حکمران کس نے بنایا؟ بلاشبہ ”کج سانوں مرن دا شوق وی سی“ مگر شہر کے لوگ بھی تو اپنے مظالم کا اعتراف کریں۔ رابرٹس بتاتے ہیں کہ پوری دنیا جان چکی ہے کہ صدر بش اور ان کے ساتھیوں نے افغانستان اور عراق پر حملہ کرنے کی عجلت کو جائز قرار دینے کیلئے پے در پے جھوٹ بولے اور اپنی پوری قوم کو گمراہ کیا اور اب ایران پر حملہ کرنے کیلئے بھی وہی کچھ کررہا ہے۔ صدر بش کے پہلے وزیر خزانہ پال اونیل دعویٰ کرتے ہیں کہ صدر بش ٹوئن ٹاور پر حملہ سے بہت پہلے افغانستان اور عراق پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ برٹش انٹیلی جنس نے برطانوی وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو بتا دیا تھا کہ امریکہ عراق پر حملے کا فیصلہ کرچکا ہے اور اب اس حملے کیلئے معقول بہانوں کی تلاش میں ہے۔ ایوان صدر کے 2003ءسے 2006ءتک کے ترجمان سکاٹ میکلینن نے بھی اعتراف کیا ہے کہ صدر بش نے عراق پر حملے کیلئے بے پناہ جھوٹ بولے اور محض فرضی الزامات کے ذریعے دنیا کی سب سے مہنگی جنگ شروع کی۔ ان غلط بیانیوں کے نتیجے میں لاکھوں عراقیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ 4100 امریکی فوجی مارے گئے۔ کچھ اندازہ نہیں کہ افغانستان میں کتنے لوگوں کا خون ہوا۔ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین کے لوگوں کا قتل عام اور لبنان کی سڑکوں پر بہنے والا خون اس کے علاوہ ہے۔ پال کریگ رابرٹس کو 11 ستمبر 2001ءکے بعد افغانستان اور عراق، فلسطین اور لبنان میں بہنے والے خون کے علاوہ عالمی دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ کے ہراوّل دستے اور فرنٹ لائن کے ملک پاکستان میں بہنے والے خون اور ضائع ہونیوالی ہزاروں زندگیوں کو کسی شمار قطار میں رکھنا چاہئے تھا مگر وہ رونالڈ ریگن کے نائب وزیر خزانہ تھے اور رونالڈ ریگن نے جن دوست ملکوں کو 1 ڈالر بطور قرضہ دیا اس سے کم از کم 11 ڈالر وصول کئے اور قرضے کا حجم وہی رہا جو پہلے تھا۔ ان کے نزدیک کالی چمڑی سے نکلنے والا خون کچھ زیادہ قیمتی نہیں ہوتا....ع یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا ٭٭٭
|
|