عباس اطہر
جمہوریت پھر کسی حادثے کی طرف بڑھ رہی ہے؟
پاکستان میں ایسا حادثہ ہر جمہوریت کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے لیکن ایسا پہلی بار ہو گا کہ نوزائیدہ جمہوریت کو ابھی اڑھائی ماہ بھی نہیں ہوئے اور اسے خطرات نے ہر طرف سے گھیر لیا ہے۔ نواز شریف کی نااہلی اپنی جگہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور لوگ حیرت سے پوچھ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ کو یہ کیا سوجھی۔ وفاقی حکومت کے وکیل (ڈپٹی اٹارنی جنرل) کے اس موقف کے باوجود کہ نواز شریف کی اہلیت کیخلاف درخواستیں قابل سماعت نہیں، اس نے ایک ایسا فیصلہ سنا دیا جس نے نہ صرف حکمران اتحاد میں دراڑیں ڈال دیں اور جمہوریت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا بلکہ خود اپنی ساکھ پر اس طرح پانی پھیر دیا کہ اب کوئی نہیں جو پی سی او عدلیہ کے حق میں کلمہ خیر کہنے پر آسانی سے آمادہ ہو سکے۔ بہرحال یہ قضیہ بھی ایک لمبی بحث کا محتاج ہے لیکن ایک اور بڑا خطرہ جو گھمبیر صورتحال اختیار کر رہا ہے، سرحد کی صورتحال ہے۔ حکمران اتحاد کے اہم رکن مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ طالبان صوبہ سرحد میں ہر طرف پھیل رہے ہیں لیکن حکومت ان کیخلاف کچھ نہیں کر رہی۔
یہ بیان صورتحال کی نامکمل تصویر کشی کرتا ہے۔ مکمل تصویر یہ ہے کہ سرحد میں صرف طالبان نہیں، اور بھی بہت سے انارکسٹ دندنا رہے ہیں اور حکومت انکو روکنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ کہیں ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ کہیں بریلوی دیوبندی تصادم ہے کہیں شیعہ سنی اور کہیں کوئی جرائم پیشہ گروہ لوگوں کو تاوان کیلئے اغوا کرتا پھر رہا ہے۔ ہر روز لاشیں گرتی ہیں، بارودی سرنگیں پھٹتی ہیں، فوجی قافلوں اور پولیس چوکیوں پر حملے ہوتے ہیں، ایک گاﺅں کے لوگ دوسرے گاﺅں پر حملہ کرتے ہیں۔ ساون کی گھٹا کی طرح ایک لشکر اچانک کہیں سے نمودار ہوتا ہے اور جنڈولہ پر قبضہ کر لیتا ہے۔ دوسرا لشکر ٹانک میں گھس جاتا ہے۔ ہر طرف ایک یلغار ہے، ہر طرف خوف و ہراس ہے۔ شہری پریشان ہیں اور سب سے بڑھ کر صحافی۔ وہ طالبان کی سرگرمیوں کو ان کی مرضی کے مطابق کور کرتے ہیں تو پولیس انہیں مارتی ہے اور پولیس یا حکومتی انتظامیہ کی مرضی کے مطابق رپورٹ بھیجتے ہیں تو طالبان نہیں چھوڑتے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لیڈروں اور کارکنوں کو گھروں میں گھس کر مارا جا رہا ہے اور کسی مقتول کے لواحقین کو علم نہیں کہ قاتل کون تھا اور اس نے قتل کیوں کیا۔ ایک نیا اور درد ناک پہلو تصویر میں یہ داخل ہوا ہے کہ لوگوں کو اغوا کرنے کے بعد بے رحمی سے اذیتیں دے دے کر ہلاک کیا جا رہا ہے۔ دو تین روز قبل ایک واقعے میں 29 افراد کو قتل کیا گیا جن میں سے 20 کو زندہ جلایا گیا۔ اسلام میں تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، صوبہ سرحد کی قبائلی روایات میں بھی کسی کو زندہ جلانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
بہت سی جہتوں والا یہ فساد دراصل ایک ہی چشمے سے پھوٹا ہے۔ وہ چشمہ جو جنرل مشرف نے اپنی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے نائن الیون کے بعد کھودا تھا۔ سرحد کے قبائل پر بلا امتیاز بمباری اور کریک ڈاﺅن کیخلاف ردعمل پھوٹا تو اسکا صرف ایک رخ تھا یعنی حکومت کیخلاف ردّعمل چاہے یہ خودکش حملوں کی صورت میں ہو یا سرکاری عمارتوں پر حملوں کی شکل میں۔ پھر اسکا رخ حکومت کے حامیوں کی طرف ہو گیا۔ جس قبائلی سردار یا قبیلے پر شک ہوا، ناراض عناصر نے اس پر حملہ کر دیا۔ متاثرہ قبیلے نے بدلہ لینے کی واردات کی اور اس طرح یہ جنگ دو قبیلوں کی جنگ بن گئی۔ اسی پھیلاﺅ میں ایک فرقے نے دوسرے فرقے پر بالادستی کیلئے مہم شروع کی اور جوابی مہم میں معاملے کی نوعیت فرقہ وارانہ فسادات میں بدل گئی۔ ناراض عناصر میں سے کچھ کو اپنی ”گن پاور“ کا پتہ چلا تو وہ اصل مقصد بھول کر مال کماﺅ مہم میں جت گیا۔ اسی لہر میں خالص جرائم پیشہ گروہ بھی کود پڑے۔ پھر پڑوسی ممالک کے کارندے بھی حرکت میں آ گئے۔
جو کچھ بھی ہے، یہ نائن الیون کے بعد سے جاری جنگ کے ثمرات ہیں۔ مشرف حکومت نے اس بحران کو حل کرنے کے بجائے مزید بمباریاں کیں اور ہر بمباری سے ایک نیا باغی دھڑا، ایک نیا دہشت گرد ٹولہ پیدا ہوا۔ ہر سرکاری کارروائی نے خودکش حملہ آوروں کی ایک نئی کھیپ کو جنم دیا یہاں تک کہ 18 فروری کے الیکشن کے بعد نئی حکومت قائم ہوئی جس نے ماضی کی ”بم مارو بم“ کی پالیسی بدلتے ہوئے مذاکرات سے امن قائم کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ یہ کوششیں شروع میں کامیاب رہیں لیکن پھر معاملات دوبارہ بگڑنے شروع ہو گئے جس کی صحیح وجوہات کا تعین کرنا آسان نہیں۔
ایک حلقے کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ یا تو مذاکرات اور نرمی کی وجہ سے کچھ مزاحمت کاروں کے حوصلے بلند ہو گئے اور انہوں نے نرمی کو حکومتی کمزوری سمجھ لیا اور دوسرا حلقہ یہ کہہ رہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب مذاکرات کو ناکام بنانے کیلئے ملکی اور غیر ملکی ایجنٹوں کی کارستانی ہے۔ حالات اس حد تک خراب ہو گئے ہیں یا ہوتے نظر آ رہے ہیں کہ ایک سرکاری عہدیدار کا یہ بیان بھی چھپا کہ پشاور پر طالبان کے قبضے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
نظریہ آ رہا ہے کہ حکومت ”ڈبل مائنڈڈ“ ہو رہی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ مذاکرات کا عمل جاری رکھے یا پھر سے ”بم مارو بم“ کی پالیسی اختیار کرے اور یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ وہ جو بھی پالیسی اختیار کرے، حالات مزید خراب ہوں گے۔ بہت سی “قوتیں“ آٹھ برسوں کے دوران بڑی ”محنت“ سے پیدا کی گئی ہیں اور اب انہیں ”کارڈ“ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکومت بنتے ہی ایک تجزیہ مقبول ہوا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اب آمریت بہت کمزور اور جمہوری حکومت بہت مضبوط ہے۔ لیکن آمریت پر بروقت مضبوط ہاتھ نہ ڈالا گیا تو وقت کے ساتھ ساتھ جمہوری حکومت کمزور اور آمریت پھر سے توانا ہوتی جائے گی۔
شاید یہ تجزیہ سچ ہی تھا!