اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 19 Jun 2008 12:14:00

لانگ مارچ اور درمیانی وقفہ

لانگ مارچ اور درمیانی وقفہ

عباس اطہر
وکلا کا لانگ مارچ خیریت سے ختم ہو گیا لیکن اعتزاز احسن کو پریشانی میں مبتلا چھوڑ گیا۔ وہ ابھی تک صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی سودے بازی نہیں کی۔
اعتزاز پر سودے بازی کا الزام بدظنی ہو گا لیکن یہ تاثر پیدا کیوں ہوا؟ لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سے ہی وکلاءرہنما اور خود اعتزاز بلکہ ایک موقع پر نواز شریف نے بھی یہ بیان دیا کہ لانگ مارچ کے آخر میں دھرنا ہو گا اور یہ دھرنا غیر معینہ عرصے تک جاری رہے گا۔ کئی رہنماﺅں کے یہ بیانات تسلسل سے آئے کہ جب تک جج بحال نہیں ہوں گے، دھرنا جاری رہے گا۔ اعتزاز نے ایک موقع پر یہ بیان دیا کہ دھرنے کا فیصلہ نہیں ہوا لیکن جو بھی حکمت عملی ہے، اس کا اعلان لانگ مارچ کے اختتام پر ہی کیا جائے گا۔
چنانچہ لانگ مارچ سے بے شمار لوگوں نے یہ توقعات وابستہ کر لیں کہ یہ ایک فیصلہ کن ایونٹ ہو گا اور اگر پارلیمنٹ نے بحالی کا فیصلہ نہ کیا پتہ نہیں کیا ہو جائے گا لیکن ہوا یہ کہ ہوا کچھ بھی نہیں۔ پرجوش نعرے اور طوفانی تقریریں تو ہوئیں لیکن دھرنا ہوا نہ آئندہ حکمت عملی کا اعلان۔ نواز شریف کی تقریر نے ماحول بہت ہیجان خیز بنا دیا تھا اور ایسے میں اگر سٹیج پر موجود قیادت ”بزن“ کا حکم دے دیتی تو خطرناک صورتحال پیدا ہو جاتی لیکن خوش قسمتی سے لانگ مارچ کے شرکا اپنے جوش و خروش کے باوجود زمینی حقائق کا ادراک رکھتے تھے چنانچہ سو ڈیڑھ سو جوانوں کی طرف سے ”ایڈونچر“ کی ناکام کوشش کے سوا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ واحد ناخوشگوار واقعہ یہی تھا کہ جوش و خروش کے ساتھ اسلام آباد آنے والے جب واپس ہوئے تو مایوسی اور صدمہ ان کے چہروں سے عیاں تھا۔ اگر لانگ مارچ کا اعلان کرنے کے بعد سے لے کر مارچ شروع کرتے وقت تک دھرنوں اور آر یا پار کے نعرے نہ لگائے جاتے تو یہ مایوسی نہ ہوتی اور اس لانگ مارچ کو طاقت کا کامیاب مظاہرہ قرار دیا جا سکتا تھا۔
بظاہر لگتا ہے کہ نواز شریف دھرنے کے حق میں نہیں تھے اور انہی کی مداخلت پر آئندہ کی حکمت عملی، کا اعلان نہیں ہو سکا۔ نواز شریف نے اس لانگ مارچ سے اپنے دو مقاصد حاصل کر لئے۔ ایک یہ کہ اپنے کارکنوں کو متحرک کر دیا اور دوسرے یہ کہ متعلقہ حلقوں کو اپنا ماضی الضمیر پہنچا دیا۔ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ دھرنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ حالات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ اندر ہی اندر کوئی ایسا حل نکالا جا چکا ہے جو سب کیلئے کچھ نہ کچھ قابل قبول ہو۔ مثلاً یہ کہ معزول ججوں بحال ہو جائیں اور پی سی او جج بھی برقرار رہیں۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ اس درمیان حل سے مسئلہ سلجھ جائے گا یا مزید الجھے گا۔ ابھی واضح نہیں ہے کہ معزول چیف جسٹس کے مقدر کا کیا فیصلہ ہو گا۔ انہیں بحال کرتے ہی سبکدوش کر دیا جائے گا یا کچھ عرصے کیلئے چیف جسٹس رہنے دیا جائے گا۔ امکان ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو کسی حد تک مطمئن کرنے کیلئے ججوں کی بحالی آئینی پیکیج سے شاید الگ کر دی جائے اور اسے فنانس بل میں ججوں کی تعداد بڑھا کر خودکار طور پر لاگو کر دیا جائے۔ کیونکہ ایک خطرہ موجود ہے کہ پی سی او ججوں کی اکثریت والی عدلیہ کو مشرف اپنے فائدے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اگرچہ آصف زرداری نے کہا ہے کہ وہ مشرف کو گھر بھجوائیں گے اور اس کے وقت کا تعین بھی خود ہی کریں گے لیکن اس واضح عزم کے باوجود خدشات برقرار ہیں۔ خاص طور سے چودھری شجاعت کے اس بیان کے بعد کہ مشرف کا مستقبل تو روشن ہے، موجودہ حکومت کا نہیں، یہ خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مشرف کو گھر بھجوانے کے وقت کا تعین کرنے میں اگر دیر ہو گئی تو صدر کو اپنا مستقبل روشن کرنے کا وہ موقع مل سکتا ہے جس کی خواہش چودھری شجاعت نے کی ہے یا شاید اسکی اطلاع دی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی مشرف کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ ان سے ورکنگ ریلیشن شپ جاری رکھنے اور ان سے مصالحت کے اشارے صرف اس لئے دئیے جا رہے ہیں کہ فوری طور پر انہیں گھر بھیجنا ممکن ہے اور نہ مواخذے کیلئے مطلوبہ تعداد موجود ہے۔ بالکل دوٹوک انداز میں یہ تعداد تو اگلے برس مارچ ہی میں پوری ہو گی۔ جب سینٹ کی آدھی نشستوں پر الیکشن کے بعد وہاں بھی حکومتی پارٹیوں کو واضح اکثریت حاصل ہو جائے گی لیکن بعض سیاسی نجومیوں کا خیال ہے کہ کچھ آزاد سنیٹروں کے علاوہ سابق حکمران جماعت کے ارکان کی ایک تعداد بھی مناسب وقت پر مواخذے کی حمایت کیلئے تیار ہو جائے گی اور یہ مناسب وقت شاید اب زیادہ دور نہیں۔ مناسب وقت آنے کے درمیانی وقفے میں مشرف خاموش نہیں بیٹھے رہیں گے، ان سے جو ہو سکے گا، وہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ اطلاعات تو اب عام ہیں کہ چند ہفتے قبل مشرف نے قومی اسمبلی کو گھر بھیجنے کیلئے کمر کس لی تھی لیکن ”مقتدر طاقتوں“ نے ان کا ہاتھ روک لیا۔ یہ وہی دن تھا جب پورا ملک مشرف کی رخصتی کی افواہوں سے ”جھوم“ اٹھا تھا۔ ان افواہوں کی واحد وجہ مشرف کا ہاتھ روکا جانا تھا۔ مقتدر ہاتھ حرکت میں نہ آئے تو مشرف وار کر چکے تھے۔ یہ الگ بات تھی کہ مشرف کے احکامات پر عمل ہوتا یا نہیں لیکن انہوں نے اپنے طور پر ملک کو تباہ کن بحران میں دھکیلنے کی پوری تیاری کر لی تھی۔ اپنی طبیعت اور ذہنی ساخت کی وجہ سے اس ”شہ مات“ کے بعد بھی ان سے ”باز رہنے“ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ شجاعت نے شاید اپنے انداز میں حکومت کو ”خبردار“ کیا ہے۔
مشرف باز رہیں یا نہ رہیں، انہیں اس حقیقت کا علم ہونا چاہئے کہ اس مرتبہ نہ تو عوام ان کے کسی ایڈونچر کو برداشت کریں گے نہ وہ پاک فوج جس کی غیر جانبداری اور سیاست میں عدم مداخلت کی پالیسی کی بدولت بڑی حد تک منصفانہ انتخابات ہوئے اور آٹھ برسوں کے وقفے کے بعد جمہوری نظام دوبارہ قائم ہوا۔


 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier