اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 19 Jun 2008 12:13:00

ایک دن کا باپ

ایک دن کا باپ

وجاہت علی عباسی

ٹھیک ہے مان لیا امریکہ ہم سے بہت آگے ہے۔ ہمیں نفرت ہے ”تیری دنیا“ اور پیار سے ”ترقی پذیر“ کہتے ہیں یاد کیجئے فلم ”دیوار“ کا وہ سین جس میں امیتابھ بچن چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میرے پاس بلڈنگیں ہیں، پراپرٹی ہے، بینک بیلنس ہے، تمہارے پاس کیا ہے؟ تو انکے سامنے کھڑے انکے کمزور سے بھائی ایک آہ بھر کر کہتے ہیں میرے پاس ماں ہے، بس اسی طرح سے ہمارے پاس باپ ہے۔ آج امریکن یقیناً ہم پر کچھ بھی جتا سکتے ہیں لیکن ہمارے اس جملے پر امریکنز کے منہ پر بھی ”دیوار“ کے امیتابھ کی طرح Pause لگ جائیگا۔ ہمارے پاس وہ باپ ہے تو امریکہ کے پاس نہیں ہے۔
امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کو پوری دنیا کا باپ بننے کا شوق ہے لیکن امریکہ کے اندر رہنے والے اپنے صدر کو تو دور اپنے خود کے گھر میں رہنے والے باپ کو مشکل سے باپ سمجھتے ہیں‘ جیسے پاکستانی بچے پیدا ہوتے ساتھ ہی سیکھ لیتے ہیں کہ والد اگر ڈانٹے تو فوراً خاموش ہوجانا چاہئے، ویسے ہی امریکن بچے پیدا ہوتے ہی باپ کے ڈانٹنے پر 911 ملانا سیکھ جاتے ہیں۔ گیارہ سال کی عمر جس میں پاکستانی بچے گھر سے باہر بغیر اجازت کھیلنے بھی نہیں جاسکتے، اس عمر میں امریکن بچے اپنے باپوں کو یہ اچھی طرح سمجھا چکے ہوتے ہیں کہ اگر انکے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی تو وہ ایک درجن مختلف جگہوں پر فون کرکے مدد حاصل کرکے فوراً گھر چھوڑ سکتے ہیں۔
پاکستانی بچوں کے دلوں میں اپنے والد کے دوستوں کیلئے بھی اتنی ہی عزت ہوتی ہے جتنی اپنے خود کے والد کیلئے، اسی لئے پاکستانی بچے انہیں زیادہ نہ جاننے کے باوجود انکل کہہ کر پکارتے ہیں لیکن امریکن بچے جس دن سے چلنا شروع کرتے ہیں، اپنے باپوں کے سر پر چڑھ کر ناچنا شروع کردیتے ہیں، باپ اپنی عزت بچاتے پھرتے ہیں تو پھر انکے دوستوں کی کیا مجال، امریکن بچوں کے باپوں کے دوست انکل نہیں ہوتے، وہ صرف مائیکل یا پیٹر ہوتے ہیں۔
چلئے فرض کرلیں کہ لڑکپن کے زمانے میں پاکستانی نوجوان کو کوئی پسند آجاتا ہے تو یہ بات سب سے زیادہ وہ اپنے والد سے چھپاتا ہے۔ وہ شخص جس نے اسے بچپن سے دنیا کی ہر اچھی بری بات سمجھائی، کہیں وہ کسی بات پر خفا نہ ہوجائے۔ اس ڈر سے پاکستانی نوجوان ہمیشہ اپنے والد سے شرم کا پردہ رکھتا ہے لیکن امریکن بچے دودھ کے دانت ٹوٹنے سے پہلے ہی اپنے باپوں کو اپنے درجن بھر بوائے فرینڈز یا گرل فرینڈز سے ملوا چکے ہوتے ہیں۔
اسکول میں وقت گزار کر کالج جاتے جاتے بچے بڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ وقت جب اکثر بیٹوں کے قد اپنے والد سے اوپر نکل جاتے ہیں جو گھر میں بھاری رکھی چیزیں اپنے والد کی جگہ بیٹھے ہلاتے ہیں، بیٹیاں صرف کچن میں تجربے ہی نہیں کرتیں بلکہ پوری پوری دعوتوں کے کھانے بناکر جب کھانے کی تعریف ہوتی ہے تو اپنے والد کی مسکان کا باعث بنتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پاکستانی بچے اپنے والد سے صرف ”سیکھ“ نہیں لیتے بلکہ کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں۔ جی ہاں وہی وقت جب امریکن بچے اپنے باپوں سے ذہنی طور پر پوری طرح کٹ چکے ہوتے ہیں اور اپنے کالج کے پاس اپارٹمنٹ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں جہاں وہ اپنے روم میٹ کے ساتھ موو ہوسکیں۔ وہ پہلی پارٹ ٹائم نوکری جس سے ملنے والا معاوضہ بہت کم اور خوشی بہت زیادہ ہوتی تھی، ہر پاکستانی بچے کو اس لئے ضرور یاد رہ جاتی ہے وہ مشکل سی دنیا کی ہر بات سمجھنے والے پاکستانی والد جو اپنے بچوں کی آسان سی پہلی نوکری کے قصے سنتے ہیں، جی ہاں وہی زمانہ جب امریکن باپ کی پریشانی یہ کہ بچہ کب نوکری کرنا شروع کریگا اور کب اپنے بل دینا شروع کریگا؟
چھٹی کے دن جلدی سو کر اٹھنا ورنہ والد ناراض ہوجائیں گے اور رات کو جلدی گھر آنا، زندگی کے ہر قدم پر ہمیشہ ہمارے ذہن پر رہتا ہے کہ میرے والد کیا سوچیں گے یا وہ اگر میری جگہ ہوتے اس وقت تو کیا کرتے۔ ہم ان کا نام اپنے نام کے پیچھے ضرور لگاتے ہیں لیکن انکی شخصیت، مہارت، سوچ ہم سے آگے ہوتی ہے۔ پاکستانی گھروں میں ہر دن ”فادرز ڈے“ ہوتا ہے اور جو چیز آپ کے پاس ہر وقت ہو اس کو منایا نہیں جاتا۔ امریکن جو اپنے باپوں کیلئے دن مناتے ہیں لیکن سال میں صرف ایک دن۔ یہ ایک دن کے باپ والے جب اپنے پیار کرنے والے کی اہمیت کو نہیں سمجھ پائے تو ہم کو کیا سمجھیں گے۔ اگر ہم اپنے بڑوں کو عزت دیکر ہر ”دن فادرز ڈے“ منا کر تیسری دنیا ہوجاتے ہیں تو پھر ہمیں تیسری دنیا رہنا ہی پسند ہے۔
٭٭٭


 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications