|
ظہیرالدین بٹ اللہ نہ کرے کہ ہمارے ملک اور عوام پر ایسا موقع آئے کہ ہمیں پھر فوج کی چھتری تلے سانس لینا پڑے۔ اس سے پہلے بھی مارشل لاءلانے میں سیاستدانوں نے اپنا بھرپور کردار اور موقع فراہم کیا ہے۔ اب پھر الیکشن کے بعد اسمبلیوں میں آنے والی دو بڑی پارٹیوں کے رویے سے لگتا ہے کہ ان کے اتحاد اور باہمی فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کےلئے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ہم نے تو سوچا تھا کہ پاکستان کی آزادی کے بعد فوج نے آدھے سے زیادہ قوت حکومت کرکے ہی گزارا ہے اور اس سے ہمارے سیاستدان اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران سبق حاصل کریں گے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہم پھر ایسے دوراہے کی طرف رواں دواں ہیں جس کا راستہ کسی صحیح جگہ پر نہیں جاتا۔ اسلام دشمن طاقتوں کی تو کوشش ہے کہ مسلمانوں کو کبھی بھی ترقی یافتہ قوم نہ بننے دیا جائے اور خصوصاً پاکستان جو کہ ایک ایٹمی طاقت ہے کو اس سے محروم کرنے کے لیے منصوبہ بندیاں کی جا رہی ہیں۔ برطانوی فارمولے ”لڑاﺅ اور حکومت کرو“ کو اب پھر ہمارے ملک میں دوبارہ سے نافذ کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ دونوں بڑی پارٹیوں میں ایسی خلیج تیار کی جا رہی ہے جس کا نتیجہ کچھ اچھا نظر نہیں آ رہا۔ کہیں اعلان ہو رہا ہے کہ اب جلد ہی ایوان صدر میں بھی بھٹو کے نعرے گونجیں گے اور کہیں جمہوریت کا درس نہ دینے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بھی نہ جاری کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ صدر مشرف جھوٹا ہے اور اب جلد بھاگ نکلے گا لیکن اب اسے پھانسی پر لٹکانے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ان باتوں سے تو لگتا ہے کہ اب بھی ہم دست و گریبان ہی ہونے کے قریب جا رہے ہیں۔ بجٹ جو اسمبلی میں پیش ہوا ہے کہا جا رہا ہے کہ عوام اور غریب دوست بجٹ ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ لیکن ”اونٹ کے منہ میں زیرہ“ والی بات کہ 20 فیصد اضافہ کیا کرے گا جبکہ مہنگائی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ کیوں ہمارے سیاستدان ہوش کے ناخن نہیں لیتے اور ملک میں امن قائم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے یکجا نہیں ہوتے۔ اتحاد قائم کرکے بھی اگر مسائل حل نہیں کئے جا سکتے تو پھر اس کا کیا طریقہ ہوگا کہ ملک کو اور عوام کو مشکلات سے باہر نکالا جا سکے؟ ہمارے قبائلی علاقوں پر بمباری ہو رہی ہے اور ہمارے لیڈر صفائیاں پیش کر رہے ہیں کہ فلاں تاریخ کو امریکہ نے بارڈر پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ جن گھروں کے سپوت ملک کی خاطر جان قربان کر چکے ہیں کوئی ان سے تو پوچھے۔ پاکستانی فوجیوں کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ ہے اس کی جنتی بھی مذمت کی جائے کم ہے یہی نہیں اب تو مسٹر کرزئی بھی آنکھیں دکھانے کے قابل ہوگئے ہیں اور ادھر امریکی صدر بش بھی ان کی تائید کر رہے ہیں کہ جو وہ پاکستان کیخلاف زہر اگل رہے ہیں وہ درست ہے۔ اب تو وہ پاکستان میں گھس کر پاکستانیوں کو مارنے کی خیر سے باتیں بھی کرنے لگے ہیں۔ ہمارے ملک کی سرحدوں پر جو دگرگوں حالات ہیں اس بارے میں ہماری حکومت کو ضروری اقدامات اٹھانے ہوں گے اور جنگ سے بچنے اور امن کو قائم کرنے کے لیے سوچ بچار کرنا بھی نہایت ہی اہم ہے۔ اس کے لیے اندرون ملک کی سیاسی فضا کا پرامن ہونا لازمی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ملک کی خاطر مل بیٹھ کر مسائل کے حل کی کوشش کرنا ہوگی۔ آپسی لڑائی اور ملک میں افراتفری کا نتیجہ جو بالآخر نکلتا ہے وہ پوری قوم جانتی ہے۔ کبھی بھی اس کے نتائج مثبت نہیں آئے۔ ویسے تو ہمارے چیف آف آرمی سٹاف اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ فوج کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہتے لیکن وقت کے بدلتے اور انسان کی سوچ تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔ شاید وہ پھر وقت کی ضرورت بھی بن جاتی ہے۔ ملک کو ایک اور مارشل لاءکی طرف دھکیلنا کوئی درست اقدام نہیں ہوگا اس سے ملک پر اور عالمی سطح پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا مزہ ہم کئی بار چکھ چکے ہیں۔ یہی نہیں ہمیں فلسطین میں گزشتہ سالوں میں ہونے والے واقعات کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ لبنان میں اسرائیل کی شکست کے بعد ان کی پالیسیوں میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے دو بڑی پارٹیوں ”الفتح“ اور ”حماس“ کو آپس میں ایسے لڑوایا ہے کہ اب مسلمان کا مسلمان دشمن ہو چکا ہے اور دونوں پارٹیاں آپس میں دست و گریبان ہیں اور ایک دوسرے مسلمان کو قتل کر رہے ہیں۔ اس سے اسرائیل کا کام بھی ہم مسلمانوں نے آسان کردیا ہے۔ اب انہیں زیادہ تکلیف اٹھانے کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ ہم خود ہی ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے سبق آموز بات ہے جس کے بارے میں ہماری بڑی سیاسی پارٹیوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے سیاسی اختلاف اور مسائل کے حل نہ کرنے کے اقدامات سے جو فضا تیار ہوگی وہ عوام کی آپسی دشمنی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے اور پھر آگ لگنے سے پہلے جو دھواں اٹھتا ہے شاید اس کو روکنا ناممکن ہو جائے۔ اس لیے سیاستدانوں کو دوراندیشی کی فکر کرنے کے ساتھ ساتھ ملک اور عوام کو کسی ایسی مشکل میں دھکیلنے سے پہلے ہی ایسے اقدامات کر لینے چاہئیں کہ ملک خانہ جنگی کی طرف قدم بڑھانے شروع کر دے۔ ملک کو درپیش خطرات اور عوام کی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسی سوچ اور عمل کو اجاگر کریں جس سے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں نہ کہ سیاسی دشمنیوں اور مخالفتوں کا شکار ہو جائیں۔ سیاسی ذمہ داران کو سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے ملک کو خانہ جنگی یا پھر مارشل لاءکی طرف لیجانے سے روک سکتے ہیں۔ اس کے لیے وعدہ وفائی اور عوامی بھلائی کو مدنظر رکھنا ہوگا کو ہر اس عمل سے بچنا ہوگا جس کا راستہ ان دو مقامات کی طرف جاتا ہے۔
|
|