ڈاکٹر شبیر احمد
اجی ایک دن ایسا آئے گا جب ماٹی میں سب مل جائیگا
ماٹی ہی اوڑھن ماٹی بچھاون ماٹی کا تن بن جائیگا
ماٹی میں سب مل جائیگا
صاحبو! بچپن میں محمد رفیع کا یہ ”بنجارا نامہ“ جیسا گیت صرف ایک بار سنا تھا اور دل پر نقش ہو کر رہ گیا۔ اس کا پہلا بند تو آج تک ہمیں یاد ہے، باقی ذہن کے دریچوں سے آزاد کردہ پنچھی کی مانند اڑ چکا ہے۔ کوئی محترم بہن بھائی یاد دلا سکیں تو نوازش ہوگی۔ برصغیر میں جتنے عبرتناک فلمی گیت لکھے گئے ان میں شاید سب سے پہلا نمبر اسی گیت کا ہو۔کون ہے جو ”زن، زر، زمین“ کے جھمیلے نہ سن چکا ہو! لیکن ہم نے جتنی تاریخ پڑھی ہے اور حالات حاضرہ کا جتنا مشاہدہ کیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ کرسی کا پھیر سب سے ظالم شے ہے۔ صاحبو! نشہ¿ اقتدار ایسا زہر ہے جو انسانی دماغ کو ماﺅف کردیتا ہے۔ اس کی عقل پر پردے ڈال دیتا ہے۔ صاحب اقتدار کو وہ کچھ بھی نظر نہیں آتا جو ایک عام سیدھا سادا آدمی دیکھ لیتا ہے۔ اسے سجھائی دیتا ہے تو بس اتنا کہ ”سب اچھا ہے“ جو کچھ ہم نے عرض کیا اس کا تانا بنا آپ وطن عزیز کی سیاست میں ازراہ کرم خود ملا لیجئے۔
راہ چلتے چلتے ایک دو حکایتیں سن لیجئے۔ ایک صاحب ہوائی غبارے میں فضاﺅں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ یکایک انہیں خیال آیا کہ وہ گم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی بلندی کم کی۔ سب سے پہلی نظر ایک خاتون پر پڑی۔ بولے، محترم خاتون میں گم ہوگیا ہوں، نہیں جانتا کہ کہاں ہوں۔ کیا آپ مدد کرسکتی ہیں؟ خاتون اعتماد سے بولیں، آپ ہوائی غبارے میں ہیں جو زمین سے تقریباً تیس فٹ بلندی پر ہے۔ پچاس ڈگری طول البلد شمالی اور 115 ڈگری عرض البلد مغربی۔ وہ صاحب حیران ہو کر کہنے لگے، آپ یقیناً خلائی انجینئر ہیں۔ خاتون نے کہا جی ہاں! لیکن آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ غبار ے والے صاحب بولے، جو کچھ آپ نے فرمایا تیکنیکی طور پر درست معلوم ہوتا ہے لیکن میں پھر بھی گمشدہ ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کی فراہم کردہ اطلاع کو کیا کروں؟ سچ تو یہ ہے کہ آپ نے میری کوئی مدد نہیں کی اور میرے لئے تاخیر کا باعث بنیں۔ خاتون بولیں، آپ یقیناً ایک لیڈر ہیں۔ وہ صاحب بولے، وہ تو میں ہوں لیکن آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ اب سوالوں کے جوابات ذرا توجہ سے سنئے:
....اول تو یہ کہ آپ نہیں جانتے آپ کہاں ہیں اور کدھر جا رہے ہیں؟
....آپ بلندی پر محض اس لئے پہنچ گئے ہیں کہ آپ میں ہوا بھری ہوئی ہے۔
....آپ نے شام کو کسی سے ملنے کا وعدہ کیا ہوگا اور آپ وعدہ نبھانا نہیں جانتے۔
....آپ اپنے نیچے والوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ آپ کے مسائل حل کریں۔
.... آپ بالکل وہیں ہیں جہاں کافی دیر پہلے تھے۔
....لیکن اب آپ کے ہاتھ ایک بہانہ آگیا ہے تاخیر کا۔
....اور اس بات کا کہ اپنا الزام کسی اور کے سر پر دھریں۔
صاحبو! سیاست میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے نا؟
اب غربت کے بارے میں ایک حکایت سن لیجئے۔ ایک نہایت دولتمند گھرانے کے والد صاحب اپنے بیٹے کو دیہات کی سیر کروانے لے گئے۔ مقصد یہ تھا کہ اسے دکھائیں کہ لوگ کتنی غربت میں جیتے ہیں۔ انہوں نے دو دن دو راتیں ایک کسان فیملی کے ساتھ گزاریں جو انتہائی غریب سمجھے جاتے تھے۔ واپس آئے تو ابا جان نے پوچھا بیٹے! دورہ کیسا لگا؟ بیٹے نے جواب دیا بہت زبردست۔ والد نے پوچھا، بیٹے! تم نے دیکھا کہ غریب لوگ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں؟ ”جی ابو! میں نے بہت خوب دیکھا“ ابا نے پوچھا تم نے اس دورے سے کیا سیکھا؟ ”میں نے دیکھا کہ ہمارے پاس ایک پالتو جانور ہے اور ان کے پاس 40، ہمارے پاس تیراکی کا ایک تالاب ہے اور ان کے پاس ایک نہر جس کی انتہا نظر نہیں آتی۔ ہمارے پاس باغیچے میں درآمد کردہ لالٹینیں ہیں اور انکے پاس رات میں چمکتے دمکتے ستارے۔ ہمارا دالان جالی سے ڈھکا ہوا ہے اور ان کے پاس کھلا آسمان ہے۔ ہمارے پاس زمین کا ایک قطعہ ہے جس پر ہم رہتے ہیں اور ان کے پاس لہلہاتے ہوئے کھیت تاحد نظر تک۔ ہمارے پاس خدمت کیلئے نوکر چاکر ہیں لیکن وہ لوگ دوسروں کی خدمت کرتے ہیں۔ ہم اپنا کھانے پینے کا سامان سٹور سے خرید کر لاتے ہیں مگر وہ خود اسے اگا لیتے ہیں۔ ہم نے حفاظت کیلئے اپنے گھر کے گرد اونچی دیوار کھڑی کررکھی ہے لیکن ان کے پاس حفاظت کیلئے دوست ہیں“۔
والد صاحب گم صم ہو کر رہ گئے تو بیٹے نے کہا ”ابو آپ کا بہت شکریہ، آپ نے مجھے دکھا دیا کہ ہم غریب ہیں“
صاحبو! دور سے کسی بھٹیارے کی صدا ابھری ”اللہ بس اور باقی ہوس، سچی تونگری تو دل کی تونگری ہے، رہے نام اللہ کا“
صاحبو! کالم کے شروع میں ہم نے آپ سے ایک معمولی سا سوال پوچھا ہے۔ آپ کا بھی حق ہے کہ آپ بھی ہم سے سوال پوچھیں لہٰذا آپ کے جوابات حاضر ہیں۔
محمد صائم صاحب کا سوال ہے کہ دنیا میں طویل ترین اقتدار کس کا تھا؟
جواب:۔ فرانس کے لوئی (14) 1643ءتا 1715ءیعنی 72 برس فرانس کے بادشاہ رہے۔ دوسرے نمبر پر غالباً مصر کا فرعون رعمیس ثانی 70 برس تک اقتدار میں رہا۔
محترمہ نگہت افشاں نے دو سوال پوچھے ہیں۔ ایک تو کلیم عاجز صاحب کا مشہور ترین شعر ان کے ذہن سے نکل گیا ہے اور وہ دوسرا مصرعہ پوچھتی ہیں۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
محترمہ، آپ نے دوسرا مصرعہ ہی لکھا ہے، پہلا مصرعہ ہے
آنسو دل کا درد بتائے
ماجد عبدالستار پوچھتے ہیں کہ کولمبس جیسا مشہور ملاح عالم کسمپرسی میں کیوں مرا؟
جواب: کولمبس اپنی زندگی میں اتنا مشہور نہیں ہوا تھا۔ نئی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ 1492ءمیں نئی دنیا دریافت کرنے والا کولمبس نہایت سنگدل، ظالم اور بے حس شخص تھا جس کی گردن پر سینکڑوں بے گناہوں کا خون ہے۔ 1506ءمیں اپنی وفات سے پہلے کولمبس یہ انکشاف بھی سن چکا تھا کہ عرب ملاح اس سے صدیوں پیشتر امریکہ پہنچ چکے تھے۔ کولمبس تو جزائر غرب الہند کو نئی دنیا بتا کر واپس لوٹ گیا تھا۔
حوالدار محمد سولنگی پوچھتے ہیں کہ عام آدمی زندگی میں کتنے میل پیدل چلتا ہوگا؟
جواب: محترم ہر چند کہ یہ بات جغرافیائی خطوں اور سماجی عادات پر موقوف ہے لیکن تحقیق کا سودا سر میں سما جائے تو انسان سروے، انٹرویو، حالات کا جائزہ لیکر اندازہ ضرور لگا سکتا ہے۔ تھامس مائلز کی ”Walk the talk“ کی ریسرچ کے مطابق ایک عام صحتمند آدمی 60 برس کی عمر تک ایک لاکھ میل پیدل چل چکا ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کا اوسط بھی یہی ہے یعنی ایک لاکھ میل۔
بیگم اور جناب مرزا کا سوال ہے کہ ان کے ڈاکٹر نے ہارٹ اٹیک سے بچنے کیلئے انہیں روزانہ ایک اسپرین کھانے کا مشورہ دیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسپرین خنزیر سے حاصل کی جاتی ہے؟
جواب: جنہوں نے کہا ،غلط کہا۔ اسپرین تو Willow ”ولو“ نامی درخت کی چھال سے حاصل ہوتی ہے۔ آپ اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کیجئے
چراغِ صبح یہ کہتا ہے آفتاب کو دیکھ
یہ بزم تم کو مبارک ہو تو چلتے ہیں
٭٭٭