اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 19 Jun 2008 12:08:00

کیا کھویا کیا پایا؟یا کچھ پا کر بھی سب کچھ ہی کھو دیا....؟

کیا کھویا کیا پایا؟یا کچھ پا کر بھی سب کچھ ہی کھو دیا....؟
ملک سلیم اکبر
عوام کی زبان کے چٹخارے کو تبدیل کرنے کیلئے لانگ مارچ کی کامیابی سے شرمندگی چھپانے کیلئے آمریت کے بت سے کاری ضرب ہٹانے کیلئے ججوں کی بحالی کو گورکھ دھندا بنانے کیئے عوامی جذبات پر نمک پاشی کرنے کے لیے عدلیہ اور ججوں کی تذلیل کرنے کے لیے مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے لیے فوجی آمر کو مواخذے سے بچانے کیلئے مصلحتوں اور مجبوریوں کی راہ ہموار کرنے کیلئے اب مشرف کے ہمنوا اور زرداری کے زر خرید کالم نویس اور سیاستدانوں نے عوام کو ایک نئی بحث میں الجھا کر رکھ دیا ہے کہ لانگ مارچ میں عوام کی تعداد بیس ہزار تھی یا پانچ لاکھ کی تعداد تھی؟ ہم سے کوئی پوچھے تو ہم کہیں گے کہ تعداد میں کیا رکھا ہے۔ تعداد تقدیریں نہیں بدلتی۔ ارادے تقدیریں بدلتے ہیں.... تعداد قسمتوں کے فیصلے نہیں کرتے بلکہ مصمم ارادے قوموں کی زندگیاں بدلتی ہیں۔ اس ظالم ترین گرمی میں کہ جب سڑک کا کارکول بھی پگھلنے لگتی ہے ایسے بدترین موسم میں کراچی‘ کوئٹہ‘ بلوچستان‘ سرحد‘ سندھ کے اندرونی علاقوں اور پنجاب کے نواحی علاقوں سے گرمی‘ حبس اور لو کے تھپڑ کھاتے ہوئے لاکھوں جوانوں‘ عورتوں‘ بوڑھوں اور بچوں نے پانچ دنوں کا قافلہ طے کرکے جب اسلام آباد میں پڑاﺅ ڈالا تو اعتزاز احسن اور ان کے ساتھی بھی حیران پریشان ہو کر رہ گئے کہ انہوں نے بھی لاکھوں کا مجمع اسلام آباد میں جمع ہونے کی توقع نہیں کی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں تو بینظیر کی قیادت میں صرف اور صرف پی پی پی ہی عوام کو سڑکوں پر لانے کی اہلیت وصلاحیت رکھتی تھی۔ اب وہ اپنی یہ منفرد حیثیت شاید کھو بیٹھی ہے۔ مصلحتوں اور مجبوریوں کی زنجیر میں جکڑے ہوئے آصف زرداری قومی مفاہمتی آرڈیننس نبھانے کے چکر میں پرویزمشرف کا بارگراں اور بھاری بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھانے کے چکر میں عوامی حمایت کھوتے چلے جا رہے ہیں۔ پی پی پی کا مخلص ترین جیالہ بھی اپنی قیادت سے ناخوش ہے کہ عوامی جماعت ہونے کے دعویدار عوامی جذبات کیخلاف کام کیوں کر رہی ہے۔ اگر آج بینظیر زندہ ہوتیں تو وہ اپنی ہی حکومت کے خلاف لاکھوں کے ہجوم کو اسلام آباد میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہونے دیتیں‘ بینظیر قائدانہ صلاحیت کی حامل سیاسی بصیرت رکھنے والی ایک ایسی عورت تھیں جو عوام کی نبض پر اپنا ہاتھ ہمیشہ رکھتی تھیں وہ لازمی طور پر ججوں‘ وکیلوں سے براہ راست مذاکرات کرتیں اور مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے بجائے افتخار چودھری کو محفوظ راستہ دیتیں۔ آصف زرداری کو قدرت نے بینظیر کی قبر کا مجاور بنا دیا ہے۔ قبروں کے مجاور قبروں میں آرام کرنے والوں کے وارث ہوتے ہیں وہ ان کے جذبات و خواہشات کا احترام کرتے ہیں۔ بینظیر نے اپنی زندگی میں افتخار چودھری کو چیف جسٹس تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم دوبارہ انہیں چیف جسٹس بنائیں گے۔ افتخار چودھری کے گھر پر پاکستانی پرچم لہرائیں گے۔ پھر آصف زرداری بینظیر کی خواہشات اور سیاسی وعدوں کوکیوں وفا نہیں کر رہے۔ وہ کیوں عوامی جذبات کیخلاف بات کر رہے ہیں۔ لانگ مارچ میں عوام نے ثابت کردیا کہ روٹی‘ کپڑا اور مکان ان کا بنیادی مسئلہ ضرور ہوگا لیکن اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ عدلیہ کی آزادی ہے۔ مشرف کی واپسی ہے۔ افتخار چودھری کی بحالی ہے بی بی سی اور عالمی اداروں نے لانگ مارچ میں Hundreds of Thousands عوام کی شمولیت کی رپورٹ دی ہے۔ لیکن عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ رکھنے والی جماعت لانگ مارچ میں عوام کی تعداد پر بحث و مباحثے میں پڑ کر اصل مسئلے سے عوام کی توقع ہٹانے کی کوشش کرکے اپنے دامن میں مزید شرمندگی جمع کرنے کی گناہگار ہو رہی ہے۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ بجے سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ روشن خیال اور پڑھے لکھے نوجوانوں اور فیشن ایبل خواتین نے بھی لانگ مارچ میں شرکت کرکے جو انگریزی کے مشرف کیخلاف بینرز اٹھا رکھے تھے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب روشن خیال لوگ بھی مشرف کیخلاف صف آراءہو چکے ہیں۔ وکیلوں نے کامیاب ترین لانگ مارچ شو کرکے پی پی پی کی حکومت کو ججوں کی بحالی کے معاملے میں اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے؟ ہم سجھتے ہیں کہ لانگ مارچ مزید زیادہ موثر ہو سکتا تھا اگر اعتزاز احسن پی پی پی سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے اور نوازشریف غیر مشروط محبت پی پی پی سے ختم کرتے ہوئے اعلان کرتے کہ آج ہم اسلام آباد میں اس وقت تک دھرنا دے کر بیٹھے رہیں گے جب تک مشرف ایوان صدر نہیں چھوڑ دیتا اور افتخار چودھری کو لے جا کر سپریم کورٹ چیف جسٹس کی کرسی پر بٹھا دیتے تو لانگ مارچ میں شامل ہزاروں افراد دن رات چیف جسٹس کی کرسی کا دفاع کرتے اور ایوان صدر کا گھیراﺅ کرکے مشرف کو مجبور کر دیتے کہ وہ صدارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں غیر ضروری مصلحتوں نے ایک بار پھر سنہری موقع گنوا دیا۔ شاید اب ایسا موقع ایسا لانگ مارچ کبھی بھی نہ ہو سکے۔
پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد









© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier