|
(غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن) اس وقت جب میں جمعرات کی سہ پہر کو یہ سطریں لکھ رہا ہوں وکلاءکا قافلہ¿ سخت جاں لاہور میں جمع ہو رہا ہے جہاں سے وہ اسلام آباد اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گا۔ ان دنوں پنجاب کے ان علاقوں میں غیر معمولی حبس ہے جہاں سے اس قافلے کو گزرنا ہے۔ خود لاہور میں شدید حبس ہے لیکن کالے کوٹوں میں ملبوس وکلاءاس قدر سخت جان ثابت ہوئے ہیں کہ موسم کی سختیاں ان کے سامنے بے بس ہو گئی ہیں اور وہ بڑے جوش کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ ملتان کی بے پناہ گرمی جھیل کر وہ لاہور پہنچے ہیں۔ یہاں ان کے ساتھ مزید سیاسی رہنما اور کارکن بھی شامل ہو گئے ہیں جن میں مسلم لیگ ن کے لیڈر اور کارکن سرفہرست ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں حصہ نہ لے کر پشیماں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بھی سرگرم ہو چکی ہے اور سیاست میں واپس آنے میں کوشاں ہے۔ وکلاءکی حکمت عملی میں ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اس کا رخ اب آرمی ہاﺅس کی طرف نہیں جہاں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف قیام پذیر ہیں بلکہ قومی اسمبلی کی طرف ہے جہاں بجٹ زیر بحث ہے۔ وکلاءکی حکمت عملی میں یہ تبدیلی کیوں آتی ہے وکلاءنے ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے اس کی ایک وجہ ظاہر ہے کہ آرمی ہاﺅس فوج کا ایک ایسا گھر ہے جہاں اس کا سربراہ قیام کرتا ہے۔ جنرل مشرف یہاں بطور آرمی چیف قیام پذیر تھے لیکن اسی گھر میں رہائش کے دوران وہ فوج سے ریٹائر ہو گئے اور فوج سے ان کا رسمی تعلق ختم ہو گیا مگر انہوں نے یہ گھر خالی نہیں کیا جبکہ ایوان صدر اسلام آباد میں موجود ہے۔ بہانہ یہ بنایا گیا ہے کہ ایوان صدر کے اس حصے کی آرائش وغیرہ ہو رہی ہے جہاں صدر قیام کرتا ہے حالانکہ اسی ایوان میں کئی صدر قیام کر چکے ہیں اور انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی جبکہ وہ سب غیر فوجی اور آرام و آسائش کے عادی تھے لیکن ایک سخت جان فوجی جو کمانڈو بھی ہے اس ایوان کو موجودہ حالت میں اپنی رہائش کے لئے آرام دہ نہیں سمجھتا۔ ایک اطلاع کے مطابق فوج کی یہ خواہش ہے کہ وہ آرمی ہاﺅس خالی کر دیں اور سول کے گھر میں چلے جائیں تاکہ ان کی حفاظت وغیرہ کی فوج کی ذمہ داریاں ختم ہو سکیں اور پھر وہ جانیں اور پارلیمنٹ لیکن پرویز مشرف بہرحال آرمی ہاﺅس میں موجود ہیں اور وکلاءاگر آرمی ہاﺅس کا رخ کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ فوج ان کو اپنے علاقے میں آنے سے روکے گی جس سے بہت زیادہ بدمزگی پیدا ہو سکتی ہے اس لئے وکلاءنے اپنی منزل بدل لی ہے اور یہ اچھا ہی ہوا ہے۔ ملک اس وقت کسی بڑے ہنگامے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وکلاءاپنے اعلان کے مطابق اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے جو کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ پہلے تو وکلاءکو روکنے کے لئے اسمبلی کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ لیکن آصف زرداری نے سیاسی عقلمندی سے کام لے کر ان رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا ہے اور اب وکلاءکے سامنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اس طرح پولیس اور وکلاءکے درمیان کسی قسم کے تصادم کا خطرہ فی الوقت ٹل گیا ہے لیکن ایسے جلسے جلوسوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ان میں زور پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی تصادم ہو۔ یہ تصادم اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ اگر کسی تحریک اور جلسے جلوس کو ختم کرنا ہو تو پھر یہ تصادم ہی اسے ختم کرتا ہے۔ پکڑ دھکڑ ہوتی ہے لاٹھی گیس چلتی ہے اور ظاہر ہے کہ سویلین کا جلوس ہی پسپا ہوتا ہے خواہ اس میں چند جانیں بھی کیوں نہ چلی جائیں کوئی ایسا پرجوش جلوس یا تو مطالبات پورے ہونے پر خودبخود ختم ہوتا ہے یا دوسری صورت میں انتظامی طاقت سے ختم کیا جاتا ہے۔ بہرحال یا کوئی جلوس جلسہ اور دھرنا غیر معینہ وقت تک جاری نہیں رہ سکتا۔ وکلاءکا مطالبہ ہے کہ معزول ججوں کو بحال کیا جائے۔ حکومت کہتی ہے کہ وہ اس کے لئے تیار ہے لیکن اس کا ایک آئینی طریقہ کار ہے جو پارلیمنٹ کے ذریعہ ہی اختیار کیا جا سکتا ہے اس کے لئے حکومت نے ایک پیکیج بھی تیار کر رکھا ہے جسے قبولیت نہیں مل رہی۔ حکومت کی ایک اتحادی پارٹی مسلم لیگ ن نے یہ پیکیج نامنظور کر دیا ہے اور اس میں کئی ترمیمات تجویز کی ہیں جو حکومت کو قبول نہیں ہیں۔ اس طرح وکلاءکا یہ مطالبہ ابھی تک صرف مطالبہ ہی ہے اس کی قبولیت کی کوئی صورت سامنے نہیں آ رہی۔ حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ ہر کالم میں ملک کا بڑا مسئلہ معلق ہوتا ہے اور اس کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں ہو سکتی۔ اس وقت بھی جب ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سڑکوں پر رواں دواں ہے اس کے نتیجے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا سوائے واللہ اعلم بالصواب کے۔ وکلا کے اس لانگ مارچ کے قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت خطرے میں ہے۔ مسلم لیگ عملاً حکومت سے الگ ہو چکی ہے اور یہ کہہ رہی ہے کہ حکومت میں اس کی واپسی کا انحصار ججوں کی بحالی پر ہے اگر جج بحال نہ ہوں تو پھر وہ حکومت سے باہر رہے گی۔ مسلم لیگ (ن)کا باہر رہنا صرف اتنا ہی نہیں کہ اس کے وزیر واپس نہیں جائیں گے بلکہ ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ اس اتحاد سے ہی الگ ہو جائے لیکن آصف زرداری پوری کوشش کریں گے کہ وہ اس اتحاد کو کسی نہ کسی صورت میں قائم رکھیں۔ وفاقی حکومت کا اتحاد نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے مثلاً اس لانگ مارچ میں پیپلز پارٹی شامل نہیں ہے لیکن پنجاب میں حکومت مارچ کے ساتھ ہے اور اس کے لئے سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ یہ یاد رہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی حکومت میں شامل ہے مگر لانگ مارچ میں شامل نہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا سیاسی اور حکومتی اتحاد ایک پہیلی بن چکا ہے۔ دونوں کے پاﺅں ایک ہی رسی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں مگر دونوں مخالف سمت میں دوڑ رہے ہیں۔ دیکھئے یہ مصنوعی اتحاد کب تک قائم رہتا ہے کیونکہ دونوں جماعتوں میں کچھ بھی تو مشترک نہیں ہے اور اب جب یہ کالم بھیج رہا ہوں تو لانگ مارچ صلح پر ختم ہو چکا ہے۔ نہ دھرنا ہے نہ کوئی محاصرہ سب گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔
|
|