ڈاکٹر شبیر احمد
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
صاحبو! بات ہے 1788ءکی، مغلیہ سلطنت زوال پذیر تھی۔ 29 سالہ بادشاہ شاہ عالم ثانی کی حکومت شاہی محلات کے اندر ہی چل رہی تھی۔ دہلی کے ایک معمولی سے قبائلی سردار غلام قادر روہیلہ نے محل میں گھس کر اپنے خنجر کی نوک سے بے چارے بادشاہ کی آنکھیں نکال دیں۔ پھر حرم کی عورتوں کو رقص کرنے کا حکم دیا۔ یہ وہ نوجوان لڑکیاں اور خواتین تھیں جن پر کسی غیر کی نظر تک نہ پڑی تھی۔ اکیلے غلام قادر کے آگے گیارہ شاہی حسینائیں رقص کررہی تھیں۔ پابہ زنجیر تو نہ تھیں لیکن
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
کیا گزری ہوگی ان معصوموں کے دلوں پر! روہیلہ نہایت چالاک شخص تھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ عظیم سلطنتیں بلاسبب زوال کی کھائی میں نہیں گرتیں۔ نہ جانے اس نے اپنی سوچ کا امتحان لیا یا حرم شاہی کا؟ عین رقص کے بیچ وہ بادشاہ کی شاہی مسند پر آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔ چند منٹ بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور ان محمل نشینوں سے بولا، میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تیمور اور بابر کی کسی بیٹی میں ابھی اتنی غیرت باقی ہے کہ مجھے سوتا جان کر میرا یہ خنجر میرے سینے میں اتار دے
یہ مقصد تھا مرا اس سے کوئی تیمور کی بیٹی
مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے میرے خنجر سے
صاحبو! روہیل کھنڈ کا ایک قبائلی اتنی فصیح زبان نہیں بول سکتا تھا۔ علامہ اقبال نے نہایت خوبصورتی سے اس درد انگیز منظر کو اشعار کا روپ دیا ہے، بانگ درا میں۔
اس دور کی تاریخ انتہائی دردناک ہے صاحبو! بے چارہ بادشاہ 19 برس تک اپنی بے کسی کے آنسو اپنی نابینا آنکھوں سے بہاتا رہا اور پھر 1807ءمیں دنیا کے دکھ درد سے آزاد ہوگیا۔
صاحبو! جب بادشاہ کی کسمپرسی کا یہ عالم ہو تو عوام نے کیسے کیسے مصائب و آلام نہ سہے ہوں گے۔ اردو کے بے نظیر شاعر ولی محمد نظیر اکبر آبادی اس غم میں دہلی چھوڑ کر آگرہ چلے گئے۔ زندگی بھر ٹیچر رہے اور 1830ءمیں آگرہ ہی میں انتقال فرما گئے۔ انہوں نے اپنی ایک دل چھو لینے والی نظم ”شہر آشوب“ میں 1800ءکے گرد حالات کا نقشہ نہایت پرسوز انداز میں بیان فرمایا۔ دیکھئے ذرا معاشی ڈپریشن کا ایک نقشہ۔ نظم ان کی نثر ہماری، بدقسمتی سے آج دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک معاشی ڈپریشن کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پوری دنیا شہر آشوب بنتی جاتی ہے۔ نظیر کہہ رہے ہیں: ”اب تو میرے شعر و سخن کی دکان بھی بند ہورہی ہے۔ طبیعت دن رات فکرمند رہتی ہے۔ آگرہ کی خلقت کا روزگار بند ہوگیا ہے
دشمن کا بھی خدا نہ کرے کاروبار بند
بےروزگاری نے وہ مفلسی دکھائی ہے کہ گھروں کی چھتیں مرمت کروانے کی بھی حیثیت نہیں۔ دنیا کا نظام مال و زر پر چلتا آیا تھا۔ بے زری میں گھر کا بندوبست کون کرے اور باہر کا کون؟ نوکر کو آقا نہیں ملتا، آقا کی بساط نہیں کہ کوئی نوکر رکھ سکے۔ گھر میں کسی کے کپڑا گٹھڑی تھیلی تک ایسی نہیں کہ چور اچکے کا خوف ہو، گھروں کے کواڑ اکھڑ چکے ہیں، کسی میں سکت نہیں کہ انہیں ٹھیک کروا سکے۔ آگرہ میں جتنے لوگ آباد ہیں سب ہی تباہ حال۔ عزیزو! ایسے برے وقت سے پناہ مانگو۔ بڑے بڑے ہنرمند کوڑی کوڑی کو محتاج ہوچکے ہیں اور تو اور صرف، بنیئے، جوہری، سیٹھ اور ساہوکار جو لوگوں کو مال دیا کرتے تھے، آج خالی ہاتھ بیٹھے ہیں، بازار میں خاک اڑتی ہے۔ دکاندار اپنی اپنی دکانوں میں صبح سے رات تک قیدیوں کی طرح بیٹھے رہتے ہیں۔ کسی بزنس کو فلاح نہیں، کپڑے کی دکانیں خالی، پنساری کو گاہک کا انتظار، چھوٹے موٹے کام کرنے والوں کو کام نہیں ملتا، کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ دستکاریوں والے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ ہر پیشے کے لوگ زار زار روتے ہیں۔ لوہار اپنا جسم پیٹ رہے ہیں اور سنار اپنا سر۔ رونا ایک دو کے روزگار کا نہیں ہر شعبے میں کاروبار زندگی معطل ہے۔ نان بائی کا تندور ٹھنڈا ہے، روئی دھنکنے والے سروں کو دھنک رہے ہیں۔ چادریں، دریاں، کمبل بننے والی خالی بیٹھے روتے ہیں۔ آگرے سے باہر بڑا بیوپاری ڈاکے کے خوف سے قدم نہیں رکھ سکتا۔ کوتوال، چوکیدار، ملاح سب ایک کشتی میں سوار ہیں۔ یہاں تک کہ دریا کے اس گھاٹ کی کشتیاں اِدھر کھڑی ہیں اور اس گھاٹ کی کشتیاں اُدھر۔ تیر کمان بنانے والے اپنی کمریں جھکا کر اٹھ جاتے ہیں۔ کتاب فروش غم کی کتاب بن چکے ہیں۔ شیشے کے خوبصورت برتن بنانے والے بھوکوں مر رہے ہیں۔ مصور اور پینٹر کی حالت سب سے خراب ہے۔ ان حالات میں رنگ و روغن کسے سوجھ سکتا ہے؟ پھولوں کے گلدستے اور ہار بیچنے والے آدھی رات تک ایک کوڑی نہیں کما پاتے تو لاچار ہو کر پھولوں کی ٹوکریاں زمین پر دے مارتے ہیں۔ وہ جو طرح طرح سے مریضوں کا علاج کرتے تھے، بیماری سے ان کے سر ہل رہے ہیں جو رسالدار بن کر نوکری ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے پاس نہ گھوڑا ہے نہ اونٹ۔ ہر مکان کا دروازہ بجاتے ہیں کہ شاید روزگار مل جائے لیکن سوگوار لوٹتے ہیں، محنت بے کار ہوگئی ہے۔ اب تو قرض بھی نہیں ملتا۔ لوگوں کو روتے دیکھتا ہوں تو مجھے بھی رونا آتا ہے
دشمن کا بھی خدا نہ کرے کاروبار بند
اب تو قبرستان بھی لانے والے نہیں ملتے۔ برہمن مندروں میں سر پٹخ رہے ہیں۔ علم والے مدرسوں میں عاجز ہیں۔ اب تو پیروں کی پیری بھی نہیں چلتی۔ نذر و نیاز سب ایک بار بند ہوچکی ہے۔ فقیر، بھکاری امیدیں لیکر گھروں میں جا جاکر سوال کرتے ہیں لیکن بھوکا بھوکے کو کیا روٹی دیگا؟ دکان والوں کی شام ہوتی ہے تو سب دکاندار ”یانصیب“ کہہ کر اٹھ جاتے ہیں
قسمت ہماری ہوگئی بے اختیار بند
یوں سمجھئے کہ آگرہ کے لوگ فقط غم کھاتے ہیں۔ امیر زادے شاہی سپاہی جن کے دائیں بائیں ہاتھی گھوڑے چلتے تھے، محتاج ہو کر دربدر پھرنے لگتے ہیں۔ گھوڑا اور زین، تلوار اور ڈھال کو لوگ گروی رکھنے کو پھرتے ہیں، خریدار نہیں ملتا۔ قرض دینے والا نہیں ملتا، جتنے سپاہی یہاں تھے نہ جانے کدھر گئے؟ سمجھئے کہ بھکاری بن کر دربدر ہوگئے۔ سوار کیلئے روٹی نہیں تو گھوڑے کو دانہ نہیں۔ تنخواہ نہیں تو پینا کیا اور کھانا کیا؟ آگرہ میں جتنے کارخانے ہیں ان سب پر روزی کی آفت آپڑی ہے
کس کس کے دکھ کو روئیے اور کس کی کہئے بات
کونسا دل باقی بچا ہے جو افسردہ نہیں؟ کونسا گھر ہے جس میں روزی کی آمد ہو! کسی کی حالت بھی بہتر نہیں۔ اب آگرہ کی قسمت میں آسودگی نہیں ہے۔ شہر میں کوڑی نہ رہی تو راہ گزاریں بھی بند ہوگئیں۔ آگرہ کا کوئی وارث نہیں، تباہی کا یہ عالم ہے کہ حویلیاں ٹوٹی پھوٹی سنسان پڑی ہیں۔ اب تو شہر کی فصیل بھی ڈھے چکی ہے۔ ہر باغ باغبان کی توجہ سے سبز رہتا ہے۔ آگرہ ایک ایسا اجڑا باغ ہے جس کا نہ باغباں ہے نہ مالی۔ نہ جانے اس شہر میں یہ کیسی ہوا چلی ہے کہ مفلسی سے کسی کے ہوش ٹھکانے نہیں، سب دیوانے سے ہورہے ہیں۔ اے خدا اس دور کا مزاج سودائی کیوں ہوگیا ہے
تو ہے حکیم کھول دے اب اس کے چار بند
مجھے عاشق کہو، اسیر کہو، ملا کہو، دبیر کہو، مفلس کہو، فقیر کہو، شاعر کہو، نظیر کہو، آگرے ہی کا تو ہوں۔ اسی واسطے یہ چند سطریں خون جگر سے قلمبند کی ہیں
مانگو عزیزو ایسے برے وقت سے پناہ
دشمن کا بھی خدا نہ کرے کاروبار بند
صاحبو! یہ وہ نظیر اکبر آبادی ہیں جو اپنی ایک ابتدائی نظم میں خود اپنا تعارف کرواتے ہوئے یہ کہتے ہیں
فضل سے اللہ نے اس کو دیا عمر بھر
عزت و حرمت کے ساتھ پارچہ و آب و ناں
آخر میں نظیر اکبر آبادی کا بے مثال شعر سنتے چلئے جو ان کی نظم ”تندرستی“ میں ہے
جتنے سخن ہیں سب میں یہی ہے سخن درست
اللہ آبرو سے رکھے اور تندرست
٭٭٭