اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

وجاہت علی عباسی

پاکستان میں آج کل بارہ بجے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کا سوال ہے کس چیز کے تو اس کا جواب ہے کس چیز کے نہیں؟ بجلی سے لیکر بچت تک ہر چیز کے بارہ بجے ہوئے ہیں، نئی نسل کو اپنے ملک سے اتنی کم توقعات ہیں کہ بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے وہ ننھے منے پاکستانی بچے جو اس ایٹمی دور میں کل ہمارا مستقبل بنیں گے۔ آج اگر انکے گھر دن میں آٹھ گھنٹے بجلی آجاتی ہے تو ایسے خوشی مناتے ہیں جیسے عید ہو۔ ایک نوجوان پندرہ ہزار کی نوکری ملتے ہی فوراً پندرہ لاکھ کی گاڑی قرضے پر لے لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کچھ مہینے بعد اس گاڑی کی قسط نہیں دے پائے گا۔ پھر بھی وہ گاڑی یہ سوچ کر لے لیتا ہے کہ پاکستان میں رہتے وہ کبھی اتنی بچت نہیں کرپائیگا کہ وہ یہ گاڑی کبھی خرید سکے۔
سڑک پر لوگوں کے چہروں سے لیکر مستقبل تک ہر چیز کے بارہ بجے ہوئے ہیں۔ بس کے انتظار میں کھڑے لوگ نہ مستقبل کی راہ جانتے ہیں اور نہ منزل، ہر دن زندگی انہیں نئے راستوں پر ڈال دیتی ہے اور پھر بہتر مستقبل کا انتظار کرتے لوگ اس نئے راستے میں چلنے کی جدوجہد میں جُت جاتے ہیں۔ کالجوں میں ٹیچر سے لیکر طالبعلم تک سب کے بارہ بجے ہیں۔ پاکستان میں آج جتنے طالبعلم ہیں اتنے ہی ٹیچر بھی ہیں۔ پہلے شوق سے پڑھانا شروع کیا، پھر جیب خرچ کیلئے‘ پھر نوکری ڈھونڈنے کے زمانے میں ٹائم پاس کیلئے اور آخر میں نوکری نہ ملنے پر ضرورت پہ۔ یہ کہانی ہے ان زیادہ تر ٹیچرز کی جو آج کی نوجوان نسل کو تعلیم دے رہے ہیں۔ آج ٹیچر بننے کا جذبہ بہتر تعلیم دینا نہیں بلکہ بہتر کمائی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ پوری دنیا میں لوگ اپنے بچوں کو کامیاب انسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم آج اپنے بچوں کو صرف ڈاکٹر یا انجینئر بناتے ہیں۔ بچپن سے بچوں پر زور کہ انجینئر ضرور بننا، اسی دوڑ میں آج میٹرک میں 90 فیصد اور انٹر میں 95 فیصد لاکر بھی کئی طالب علموں کے مستقبل کے بارہ بجے ہوتے ہیں۔
آفس میں آج باس سے لیکر کلرک تک سب کے بارہ بجے ہوتے ہیں۔ باس کا مسئلہ یہ ہے کہ سٹاف وقت پر نہیں آتا اور کمپنی کا کام وقت پر نہیں ہوپاتا اور آج کی تیز دنیا میں وقت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہے۔ باس بے چارہ پریشان اپنے سٹاف سے تنگ روز دفتر آکر یہ سوچتا ہے کہ میں کہاں پھنس گیا ہوں۔ اسی دفتر میں کام کرنے والا کلرک ہر کوشش کے باوجود وقت پر دفتر نہیں پہنچ پاتا۔ کبھی گھر کے اندر بجلی کی ہڑتال تو کبھی گھر کے باہر بس کی ہڑتال، خود اسی شہر میں رہتے ہوئے اور اس شہر کے حالات جاننے کے باوجود اس کلرک کی کمپنی کے باس ہر وقت، وقت پر آﺅ، کا ڈنڈا لیکر بے چارے کلرک کے سر پر ہر صبح سوار رہتے ہیں۔
پاکستان کے بڑے چھوٹے شہر میں آج دکاندار سے لیکر خریدار تک سب کے بارہ بجے ہوئے ہیں۔ دکاندار شہر میں ہونیوالی ہر اچھی بری چیز کے ذمہ دار ہیں۔ شہر میں بجلی کا مسئلہ تو دکانیں رات بارہ بجے کی جگہ آٹھ بجے بند کی جائیں۔ کسی سیاسی پارٹی کے ورکر کے ساتھ کوئی زیادتی ہوگئی ہے تو غم میں دکانیں بند‘ شہر میں کوئی لیڈر کئی سال بعد ملک واپس لوٹ رہا ہے تو دکانیں بند، دکاندار کے بار بار وقت بے وقت دکان بند ہونے سے بارہ بجے رہتے ہیں۔ چھ بجے تک نوکری کرنیوالے خریدار بیچاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہر دوسرے دن دکانوں کا نہ کھلنا اور اگر کھلنا تو آٹھ بجے بند ہوجانا۔ پاکستان میں ایسے بھی سیاستدان گزرے ہیں جنہوں نے UN جاکر تقریر کی تو وہاں موجود سب لوگوں کے حیرت کے مارے منہ پر بارہ بجے ہوئے تھے۔ آج پاکستان کے سیاستدانوں سے لیکر عوام تک کے بارہ بجے ہوتے ہیں۔ سیاستدان بے چاروں کا مسئلہ انکا منہ کھلنے سے پہلے ہی عوام انہیں جھوٹ قرار دے دیتی ہے۔ ہر ٹی وی چینل اس تاک میں کہ کس طرح اس کا کوئی پول کھول کر سامنے رکھ دے۔ آج سیاستدانوں پر عوام اپنی سیاست چلا رہی ہے کہ وہ بیچارے اپنی سیاست دکھانے کی ہمت ہی نہیں کر پا رہے۔ عوام کا مسئلہ وہ سیاستدان جو خود آرام سے زندگی گزار رہے ہیں اور عوام کے بارے میں نہیں سوچتے۔ پاکستان میں غربت ختم کرنے کے مسئلے پر تیس سیاستدان دبئی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں رک کر ایک ہفتے غور کرتے ہیں۔
پاکستان میں سکول کی فیس، آٹا، دال، چاول، پٹرول کی قیمتیں، شہر میں بڑھتا رش اور آلودگی، روپے کا تیزی سے کمزور ہونا گزرا ہوا کل کیوں تھا اور آنے والا کل کیا ہوگا؟ ہر گھنٹے پاکستان میں رہنے والوں کے بارہ بجے رہتے ہیں۔ حکومت یہ اچھی طرح جانتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اسے ضرور کچھ کرنا چاہئے۔ اسی لئے یکم جون 2008ءکو رات بارہ نہیں بجے۔ حکومت نے پورے پاکستان میں وقت بدلنے کا اعلان کردیا۔ وقت صرف گھڑی کا ہفتے کی رات گیارہ کے بعد پاکستان میں وقت 1 کردیا گیا۔ ہم حکومت کو اس ذہین فیصلے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ یقیناً منصوبہ بندی کرکے ملک کو ترقی کی طرف آگے بڑھانے کے بجائے گھڑی میں وقت کو آگے بڑھا دینا ہی ہر مسئلے کا حل تھا۔
٭٭٭


 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier