اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 12 Jun 2008 14:43:00

باراک اوبامہ.... ایک لمحہ فکر، مسلمانوں کیلئے

باراک اوبامہ.... ایک لمحہ فکر، مسلمانوں کیلئے
(وکیل انصاری)
Amrican Isreal Public Affairs Committee جس کا مخفف (AIPAC) ہے، امریکہ میں سب سے بڑی یہودی لابی ہے جس کا کام صرف اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اکثر ہمارے روشن خیال امریکی دوست اور مسلمان دوست AIPAC کے صدر کو امریکی صدر سے زیادہ پاور فل صدر نہ صرف مانتے ہیں بلکہ ثبوت کیلئے اکثر مثالیں بھی پیش کرتے ہیں۔ اس تمہید کے بعد میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ میں بھی AIPAC کی تمام جدوجہد کو ایک مسلمان چشمہ لگا کر دیکھتا ہوں۔
اب آئیے ان حقائق کی طرف جس کی وجہ سے یہ چند سطریں لکھنے کی ضرورت پیش آئی۔
AIPAC ہر سال اپنا سالانہ جلسہ یا کانفرنس منعقد کرتی ہے جس میں اسرائیل اور امریکہ کے ممتاز ترین بڑے سیاستدان اور قائدین شرکت کرتے ہیں۔ اس سال بھی ان کا جلسہ واشنگٹن ڈی سی میں ہوا جس میں اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرٹ، امریکی نائب صدر ڈک چینی، امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس، سنیٹر جان مکین، سنیٹر ہلیری کلنٹن اور سنیٹر باراک اوباما سمیت سینکڑوں کانگرس مینز اور سنیٹرز نے شرکت کی۔ اس سال کی AIPAC کانفرنس کو اسرائیل کی 60 سالہ قیام کی سالگرہ کا جشن بھی قرار دیا گیا تھا (واضح رہے کہ صدر جارج بش نے یوں شرکت نہ کی کہ وہ صرف گزشتہ ماہ اسرائیل جاکر اسرائیل کے قیام کی سالگرہ میں شرکت کرچکے ہیں اور ایسی معرکة الآراءتقاریر کرچکے ہیں کہ اسرائیل کے صدر بھی اپنے ملک کے تحفظ کیلئے ایسی تقریر کرنے کے اہل نہ تھے)
قصہ مختصر، سنیٹر باراک اوباما جو کہ اسی دن ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار نامزد ہوئے تھے، انکی تقریر اسرائیل کے مفادات میں حد سے بڑھ گئی۔ انہوں نے اسرائیل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ”اگر وہ امریکی صدر منتخب ہوگئے تو یروشلم یعنی پورے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کریں گے“ واضح رہے کہ مشرقی یروشلم میں بیت المقدس ہے جس پر اسرائیل نے 1967ءمیں حملہ کرکے قبضہ کیا تھا۔ اس کو یو این اور اور دنیا کے دیگر ممالک خاص طور پر مسلمان دنیا اس کو قبضہ ہی سمجھتی ہے اور حتیٰ کہ امریکہ بھی اسرائیل کا دارالخلافہ تل ابیب کو مانتا ہے۔ خود اسرائیل بھی جانتا ہے کہ ایک دن فلسطینیوں سے دوستی کرنے کے بعد مشرقی یروشلم ان کو واپس کرنا ہوگا۔ آج تک بیت المقدس اور اہم مسلمان مقدس مقامات کا تحفظ و اخراجات اردن کے ذمے ہے۔
باراک اوباما کی اس شرانگیز یقین دہانی کے بعد بیچارے مسلمان جو کہ امیدوں کے پہاڑ بنا رہے تھے، اب شرمندہ شرمندہ ہیں۔ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ باراک ابھی ناتجربہ کار ہیں مگر امریکی حکومت جس نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب میں رکھا ہوا ہے، یروشلم کو متنازعہ مانتی ہے مگر باراک اوباما رجعت پسند یہودیوں کے خواب کو پورا کرنے کا یقین دلا رہے ہیں۔ اسکے گزشتہ ہفتے کے اسی تاریخی بیان کے بعد امریکی میڈا بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ کیا باراک اوباما جن کے امریکی صدر منتخب ہونے کے اچھے امکانات ہیں، وہ اسرائیل کی حمایت میں اتنے آگے بڑھ جائیں گے؟ یہ بات روشن خیال امریکیوں کیلئے بھی پریشانی کا باعث ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ AIPAC کا یہ سالانہ جلسہ اسرائیلی مفادات کے حصول کیلئے ”تجدیدِ وفا“ کا جلسہ ہوتا ہے جہاں ہر امریکی اسرائیل کی حمایت کیلئے یا یہودی ووٹوں اور حمایت کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانا پسند کرتا ہے مگر Settled Policy کو نہیں چھیڑا جاتا۔ باراک اوباما کے اس حمایتی بیان کے بعد دنیا کے 55 مسلمان ممالک اور 1 ارب 40 کروڑ مسلمانوں کی آنکھیں کھل جانا چاہئیں کہ کوئی بھی امریکی عہدیدار یعنی صدر یا وزیر خارجہ اسرائیل کے مقابلے میں کسی مسلم کاز کی حمایت نہیں کریگا۔ اب مسلمانوں کو اور خاص طور پر امریکی مسلمانوں کو یعنی امریکی مسلم کو کیا کرنا چاہئے؟ یہ ہے وہ لمحہ¿ فکر جب یہ اقلیت اپنی اہمیت کو یا تو منوالے گی یا پھر 7 ملین مسلمان ایک بار پھر حصوں میں بٹ کر ختم ہوجائیں گے۔
ہم مسلم امریکن ہمیشہ خوش فہمی کا شکار رہنا پسند کرتے ہیں۔ کاش باراک اوباما کا یہ بیان ہم میں اتنی سیاسی بصیرت پیدا کردے کہ ہم وقت پر ٹھیک فیصلہ کرسکیں اور کاش وہ فیصلے متحد ہو کر کئے جائیں۔
........................










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier