|
ملک سلیم اکبر پاکستان کے انتہائی سینئر ترین سفارتکاروں کا جو تازہ ترین مشترکہ بیان سامنے آیا ہے وہ پاکستان سے محبت رکھنے والے ہر پاکستانی کیلئے لمحہ فکریہ اور توجہ کا مرکز بن کر لاتعداد سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ پاکستان کے سینئر ترین سفارتکاروں نے اپنے بیان میں دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ پی پی پی کی حکومت کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے بینظیر قتل کی تحقیقات کروانا درحقیقت پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے سینئر سفارتکاروں کے ہمراہ جن خدشات کا اظہار کرلیا ہے وہ یہ ہیں۔ (1) بینظیر کے قتل کی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ذریعے تحقیقات اور INVESTIGATION COMMISSION کے قیام کا مطالبہ کرنا پاکستان کے وسیع تر مفاد میں یوں نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کس AGENDA ITEM کے طور پر یہ کیس لے گی؟ کیونکہ اقوام متحدہ کے چیپٹر 7 کے تحت جو ٹرم آف یرفرنس ہے وہ سلامتی کونسل خود بنائے گی جس کے تحت تحقیقاتی ٹیم کو پاکستان کے تمام حساس ترین اداروں‘ حساس ترین مقامات تک مکمل اور UNCONDITIONAL بالکل غیر مشروط رسائی دی جائے گی کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مقرر کردہ تحقیقاتی ٹیم کو FREEDOM OF MOVEMENT پاکستان کے چپے چپے اور پاکستان کے ہر علاقے اور ہر ادارے پر آزادانہ طور پر نقل و حرکت کی مکمل آزادی ہوگی اور پاکستان کی حکومت ان کو کہیں بھی آنے جانے سے نہیں روک سکے گی۔ اگر تحقیقاتی ٹیم یہ کہتی ہے کہ ہمیں حساس ترین ادارے کے فلاں حصے میں جانا ہے یا فلاں شخص سے اکیلے میں تحقیقات کرنی ہے یا فلاں INSTALLMENT کا معائنہ کرنا ہے تو حکومت پاکستان ان کے سامنے بالکل بے بس ہوگی۔ (2) پاکستان کے سینئر ترین سفارتکاروں کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ بین الاقوامی قانون کی حیثیت رکھے گا اور پاکستان عالمی تقاضوں کے مطابق اس قانون کی نفی نہیں کر سکے گا اور بالآخر TRAP ہو جائے گا۔ (3) سفارتکاروں کے مطابق پاکستان کے سلامتی کونسل میں دوست اور ہمدرد موجود نہیں ہیں لہٰذا بینظیر کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کرکے پاکستان خود کو بین الاقوامی طاقتوں کے ایک ایسے مضبوط ترین شکنجے میں پھنسا لے گا جس سے فرار کا راستہ حاصل کرنا پاکستان کیلئے ناممکن بن جائے گا کیونکہ اقوام متحدہ کے نزدیک بینظیر قتل کی تحقیقات کو صرف اور صرف WAR ON TERROR کے ہی ISSUE پر لیا جائے گا۔ آج کل پاکستان کی سرزمین پر جو آمریکی حملے چوری چھپے ہو رہے ہیں جسے اکثر پاکستان شرمندگی مٹانے کیلئے اپنے کھاتے میں ڈال لیتا ہے تو اب جب سلامتی کونسل کی منظوری مل جائے گی تو پھر NET کی فوجیں اور امریکی فوجیں قانونی طور پر پاکستان کے کسی بھی کونے میں فوجی کارروائیاں کھلے عام کریں گے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مکمل تحفظ ہوگا۔ (4) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بینظیر قتل کیس کی تحقیقات کیلئے کسی بھی ملک کے افراد کو تحقیقاتی ٹیم کا رکن مقرر کر سکتی ہے۔ حکومت پاکستان کسی بھی ناپسندیدہ شخص کو ٹیم کا ممبر مقرر ہونے پر اعتراض نہیں کر سکے گی۔ (5) پاکستان کے سینئر سفارتکاروں کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مختلف ممالک کیلئے ہونے والے فیصلے Politically motivative درحقیقت سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کر لے جاتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے بارے میں کسی ”مناسب“ فیصلے کی امید کرنا خوش فہمی ہوگی کیونکہ یہ فیصلے واشنگٹن میں ہوتے ہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں کے بارے میں امریکی تحفظات موجود ہیں لہٰذا پاکستان کو حساس ترین معاملات میں غیرملکی مداخلت کو دعوت نہیں دی جاتی۔ ہم خود کو نہ تو عقل کل سمجھتے ہیں اور نہ ہی ہمیں سفارتکاری کے میدان میں کسی قسم کا کوئی تجربہ حاصل ہے لہٰذا پاکستان کے سینئر ترین سفارتکاروں کی مشترکہ رائے کو ہم نے اپنے کسی بھی قسم کے تبصرے کے بغیر جوں کا توں قارئین کی نذر کر دیا ہے اور پاکستان سے محبت اور پاکستان سے پیار رکھنے والے ہر شخص کو ہم دعوت فکر دیتے ہیں کہ وہ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ بجے سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کر کے ہمیں اپنی رائے سے نوازیں کہ کیا آصف زرداری نے محض بھولپن اور معصومیت کے طفیل بینظیر کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے رکھ کر بقول سفارتکاروں کے پاکستان کی سالمیت کو کھلی مداخلت اور خطرے کی دعوت دی ہے؟....یا....کیا ہمارے قارئین ان سفارتکاروں کی رائے سے متفق ہیں جن کا خیال ہے کہ آصف زرداری نے ایک سوچے سمجھے منصوبے اور پلان کے تحت یہ کام کیا ہے تاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت بینظیر قتل کی تحقیقات کی آڑ میں پاکستان کے حساس ترین اداروں‘ حساس ترین اداروں کے سربراہوں اور پاکستان کے چپے چپے تک رسائی حاصل ہو جائے اور WAR OF TERROR کا سہارا لیکر بینظیر قتل کی تحقیقات کی آڑ میں پاکستان میں بیرونی فوجی مداخلت کے جواز کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے آصف زرداری پاکستان میں دوسرے مشرف بن کر امریکی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بن سکیں؟ ہم سے ہماری رائے پوچھیں تو ہم نے امریکہ کو خوامخواہ ہی میں بدنام کر رکھا ہے امریکہ کے اپنے مفادات ہیں ہمارے حکمران بھی بکنے کو تیار پھرتے ہیں تو پھر امریکہ کا کیا دوش....؟ پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد
|
|