اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 12 Jun 2008 14:41:00

میاں شہبازشریف اور عوام کی توقعات!

میاں شہبازشریف اور عوام کی توقعات!


عطاالحق قاسمی
 
پنجاب میں بسنے والے عوام کی اکثریت نے میاں شہبازشریف کی متوقع وزارت ِ اعلیٰ کے حوالے سے غیرمعمولی قسم کی توقعات باندھ رکھی ہیں، میاں صاحب سے حسن ظن رکھنے والے ان لوگوں میں، میں خود بھی شامل ہوں۔ یہ توقعات بلاوجہ نہیں ہیں بلکہ ان کی سابقہ کارکردگی کی وجہ سے عوام ان توقعات کا اظہار کر رہے ہیں اور میں اپنی آواز ان کی آواز میں شامل کر رہاہوں۔
میاں شہباز شریف نے پنجاب میں جو ترقیاتی کام کئے اور جن بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ان کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔ فی الحال اس حوالے سے میں ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس کا میں عینی شاہد ہوں۔ ناروے کی سفارت کے دوران میری ملاقاتیں بعض ایسے پاکستانیوں سے بھی ہوئیں جن کے ساتھ یا جن کے عزیز و اقارب کے ساتھ کسی موقع پر ناانصافی روا رکھی گئی۔ بطور سفیر یہ میری براہ راست ذمہ داری نہیں تھی کہ میں ان شکایات کا جائزہ لوں اور ان کے ازالے کے لئے کوئی عملی قدم اٹھاو¿ں مگر جہاں میرا بس چلتا تھا میں ناروے میں مقیم پاکستانیوں کی اس نوع کی شکایات کے ازالے کی بھی کوشش کرتا تھا۔ ایک دن ایک پاکستانی اپنی نارویجن بیوی کے ساتھ میرے دفتر تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ وہ ان چھٹیوں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پاکستان گئے تھے جہاں ان کے ساتھ نہایت ناروا سلوک روا رکھا گیا۔ان کے مطابق رات گئے پولیس کی ایک بھاری نفری نے اسسٹنٹ کمشنر کی ہمراہی میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس دوران پولیس ان کے گھر میں گھس گئی اور گھر میں موجود ایک ایک چیز کی تلاشی لی۔ پوچھنے پر پولیس نے بتایا کہ اس گھر میں کثیر مقدار میں ہیروئن موجود ہے جو وہ تلاش کر رہی ہے۔ دو گھنٹے تک گھر کی ہر چیز الٹ پلٹ کرنے کے بعد جب انہیں کوئی قابل اعتراض چیز نہ ملی تو اے سی صاحب نے ان سے معذرت کی اور پولیس کی نفری کے ساتھ وہاں سے چلے گئے۔ اس پاکستانی دوست کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان سے معذرت بھی کی گئی لیکن وہ اس بدنامی کا داغ کیسے دھوئیں جس کی زد میں ان کا پورا خاندان آگیا ہے۔ نیز ان کی نارویجن بیوی اور ناروے میں نشوو نما پانے والے بچے اس روز سے نہ صرف یہ کہ شدید خوفزدہ ہیں بلکہ وہ پاکستان کا نام سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔
چند دنوں بعد وزیراعظم نوازشریف نے ایک پاکستانی ٹی وی چینل کے افتتاح کے لئے ناروے آنا تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی ان کے ساتھ آ رہے تھے۔ میں نے اس پاکستانی سے وعدہ کیا کہ آپ کی شکایت میں ان کے علم میں ضرور لاو¿ں گا اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو انصاف ملے گا۔ چنانچہ جب میاں شہباز شریف اوسلو آئے میں نے سارا واقعہ ان کے روبرو بیان کیا اور اس کے ساتھ ان کی ملاقات اس پاکستانی اور اس کی نارویجن بیوی اوربچے سے بھی کرا دی۔ میاں صاحب نے پوری تفصیل سے ان کی بات سنی۔ اس سے اگلے روز انہوں نے امریکہ روانہ ہونا تھا۔ انہوں نے مجھے امریکہ سے فون پر بتایا کہ اس واقعے کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔ اس سے اگلے روز ان کا دوبارہ فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق اس خاندان سے واقعی زیادتی ہوئی ہے چنانچہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کردیا گیاہے۔ جب میں نے اس پاکستانی کو اس انضباطی کارروائی کے حوالے سے اطلاع دی تو اس کی آنکھیں خوشی سے نم ہوگئیں۔ اس سے اگلے روز وہ دوبارہ میرے پاس آیا اور کہا ”اس فوری انصاف سے میرا سینہ فخر سے تن گیا ہے۔ کیونکہ میری بیوی کے ذہن میں پاکستان کا جوبرا امیج بنا تھا وہ بہت اچھے امیج میں تبدیل ہوگیا ہے۔“
میاں شہباز شریف کی Vigilance اور Efficiency کے حوالے سے ایک اور واقعہ مجھے یاد ہے۔ وہ اپنی وزارت ِ اعلیٰ کے دوران ایک ادارے کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ ادارے کے سربرا ہ نے اپنے سپاسنامے میں بتایا کہ وہ ایک قطعہ ¿ زمین کے لئے برسوں سے کوشاں ہیں جہاں وہ ایک ہسپتال تعمیر کرسکیں مگر سرخ فیتہ ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ سربراہ کی تقریر جاری تھی کہ میاں شہبازشریف نے متعلقہ محکمہ کے متعلقہ افسر کو تقریب ہی میں بلا لیا اورپوچھا کہ اس قطعہ ? زمین کا کوئی جھگڑا وغیرہ تو نہیں۔ اس نے ریکارڈ چیک کرکے بتایا کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں، میاں صاحب نے پوچھا زمین کا یہ ٹکڑا اس ادارے کے نام کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ انہوں نے جواب دیا ”کم از کم چھ مہینے لگیں گے!“ میاں صاحب کے بقول یہ سن کر انہیں ایسا لگا جیسے کسی نے ان کے سینے میں گولی ماردی ہو۔ انہوں نے افسر سے کہا ” یہ تقریب ابھی دو تین گھنٹے چلے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں سے رخصت ہونے سے پہلے زمین کے کاغذات اس ادارے کے سربراہ کے سپرد کروں۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا تاہم میاں صاحب نے سربراہ سے کہا کہ اگر چھ ماہ کے اندر یہاں ہسپتال تعمیر نہ ہوا تو یہ زمین ان سے واپس لے لی جائے گی اور یہ ہسپتال بھی چھ ماہ کے اندر تعمیر ہوگیا!
میاں شہباز شریف نے اپنی وزارت ِ اعلیٰ کے دوران اپنے عملے کو حکم دے رکھا تھا کہ رات کے کسی بھی پہر میں کوئی غیرمعمولی واقعہ ہو تو انہیں جگا کر اس کی اطلاع دی جائے۔ ایک رات انہیں بتایا گیا کہ شہر میں بارش اور آندھی کا طوفان آیا ہے جس سے درخت ٹوٹ کر سڑکوں پر آگرے ہیں، سڑکوں پر پانی کھڑا ہوگیا ہے اور یوں رستے بلاک ہوگئے ہیں۔ اس وقت رات کے تین بجے تھے، میاں صاحب نے واسا اوردوسرے محکموں کے سربراہوں کی اس وقت میٹنگ بلائی اور کہا ”صبح سات بجے لوگوں نے دفتروں کو جانا ہے اور بچوں کو سکول چھوڑنا ہے لہٰذا سات بجے تک سڑکیں صاف ہوجانا چاہئیں۔“ اور ایسا ہی ہوا چنانچہ جب صبح لوگ گھروں سے نکلے تو انہیں سڑکیں اس طرح صاف ملیں کہ انہیں اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ رات کو ان کا شہر ایک بڑے طوفان کی زد میں آیا ہوا تھا!
پنجاب میں میاں شہباز شریف نے حکمران کی بجائے خود کو عوام کا خادم سمجھا اور بغیر کر ّو فر کے سادہ زندگی کو اپنا شعار بنایا۔ پنجاب کا یہ وزیراعلیٰ کسی علاقے میں جمع بارش کے گھٹنوں گھٹنوں اونچے پانی میں بلاجھجک گھس جاتا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے بادل نخواستہ سب افسران کو بھی اس ”چھپڑ“ میں داخل ہونا پڑتا تھا۔ یہ حکمران دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں کبھی اٹھارہ اورکبھی بیس گھنٹے جاگ کر عوام کے حقوق پر پہرہ دیتا تھا۔ اس نے اپنے گرد چن کر بیووکریسی کے وہ افراد جمع کئے تھے جو دیانتدار تھے، اہل تھے اور عوام کی خدمت اپنا فرض سمجھ کر کرتے تھے۔ چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں طویل اجلاسوں کے بعد کھانے کا وقت ہوتا تو یہ چیف منسٹر صاحب اپنے ان افسران کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھتے جہاں ابلے ہوئے چاول اور ایک پتلی سی دال بڑے سلیقے سے میزوں پر سجائی گئی ہوتی۔ اس وزیراعلیٰ نے سرکاری لگڑری کاریں نیلام کرکے عوام کے لئے ایئرکنڈیشنڈ بسیں چلائیں۔ چیف منسٹر ہاو¿س میں نئے قالین اور کھڑکیوں کے لئے نئے پردے خریدنے کی بجائے پرانے قالین اور پردے لانڈری کراکے استعمال کئے گئے۔ اس نے چیف منسٹرہاو¿س کے اخراجات 70 فیصد کم کردیئے۔ یہ شخص کسی ایم پی اے، کسی ایم این اے کی ناجائز سفارش نہیں مانتا تھا۔ اس کا ”نقصان“ یہ ہوا کہ 12اکتوبر 1999ئ کو ان کی اکثریت ”لوٹا“ بن گئی۔ اس وزیراعلیٰ کے دور میں پولیس انسپکٹر پہلی دفعہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مقرر کئے گئے اور یوں ان تقرریوں میں رشوت اور سفارش کے سب دروازے مقفل نظر آئے!
جس شخص کا نام میاں شہباز شریف ہے، وہ اپنی بشری خامیوں کے باوجود بلاشبہ ایک غیرمعمولی منظم اور عوام کی خدمت سے سرشار شخص ہے۔ یہ ان قوتوں کے لئے قطعاً قابل قبول نہیں جوعوام کی زبوں حالی سے اپنے مفادات کی فصلیں کاشت کرتے ہیں چنانچہ یہ قوتیں اس شخص کا راستہ روکنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں جس شخص کا راستہ پنجاب کے عوام دیکھ رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آخری فتح انشاء اللہ عوام ہی کی ہوگی!

 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications