|
(قمر علی عباسی) امریکہ میں اس بات پر حیرت ہے کہ پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا آزادی کی انتہائی بلندی کو چھو رہا ہے۔ عوام جو حقائق سے ناواقف تھے، ان پر ہر راز کھلتا جاتا ہے۔ پاکستان میں لوگ لوڈشیڈنگ پر اس لئے احتجاج کرتے ہیں کہ وہ ٹیلیویژن پر خبریں، حالاتِ حاضرہ اور بحث مباحثے کے پروگرام نہیں دیکھ سکتے۔ سنا ہے جلد ہی ایسے ٹیلیویژن آجائیں گے جو بیٹری سسٹم سے چلیں گے اور لوگ باخبر رہ سکیں گے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ لاٹ صاحب ہیں اور یہ بات انہوں نے ثابت کردی۔ ان کا تازہ ترین بیان آیا ہے کہ میں ریٹائرڈ جرنیلوں کو نہیں مانتا۔ گورنر ٹیلیویژن کے ایک حالیہ پروگرام میں ریٹائرڈ جرنیل جمشید گلزار کیانی کی گفتگو کے حوالے سے بات کررہے تھے۔ سلمان تاثیر نے کہا کہ جرنیلوں کو دس سال بعد انکشاف کرنے کا خیال کیوں آتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ جنرل حمید گل ہر مارشل لاءمیں فوج کا ساتھی رہا ہے، اب معافیاں مانگتا پھر رہا ہے۔ میں ایسے جرنیلوں کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ گورنر پنجاب کے اس بیان کے بعد حزب اختلاف کے اکثر اور میاں نوازشریف خاص طور سے پوچھیں گے: ”سلمان تاثیر صاحب آپ کون سا جوتا پہنتے ہیں؟“ کیونکہ وہ ہر ایک کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھنا پسند کرتے ہیں۔ ممکن ہے بعض جوتا بنانیوالی کمپنیاں اپنے اشتہارات میں یہ جملہ شامل کرلیں ”ہمارا جوتا پہن کر جسے چاہیں اس پر رکھیں“ بعض کمپنیاں یہ کہیں گی ”ہمارے بنائے جوتے پر بڑے سے بڑا آدمی رکھا جاسکتا ہے“۔ پاکستان میں سارا کام جوتے سے چلتا ہے، خاص طور سے اسمبلی میں اس کی مضبوطی چیک کی جاتی ہے۔ جوتا بنانے والی کمپنیاں بھی اسمبلی میں جانیوالے ممبران کیلئے اس بھینس کی کھال کا جوتا بناتی ہیں جس کے سامنے لاکھ بین بجائیں اثر نہیں ہوتا۔ یہ جوتا پہن کر انسان کا جی چاہتا ہے پیر سے نکال کر بار بار ہاتھ میں رکھے۔ پچھلے دنوں کراچی میں ایک جوتے نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ ایک صاحب نے اس کی قیمت 6 لاکھ روپے لگا دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات جوتا کتنا اہم ہوتا ہے۔ حضرت نواب نظام دکن کے جوتے حیدر آباد کے میوزیم میں رکھے گئے تھے۔ پچھلے دنوں وہ چوری ہوگئے۔ چور بھی اب اتنے باذوق ہوگئے ہیں کہ ایسے جوتے چرانے لگے ہیں۔ ہمیں اس بات کی بے انتہا خوشی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے ہم باخبر ہوگئے ہیں۔ اس کا سہرا صدر پرویز مشرف کے سر جاتا ہے۔ ایک آدھ بار شیخ رشید کیلئے بھی ہے کیونکہ انہی کی وجہ سے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا عام ہوا۔ اُدھر جمہوریت نے گھونگھٹ اٹھایا تو اس کے حسن سے سب کی آنکھیں چندھیا گئیں اور جو کچھ اندھیرے میں تھا، روشن ہوگیا۔ مخالفین کہتے ہیں بہت سے زیرو ہیرو بن گئے۔ ہمارا کہنا ہے ان میں پہلے ہی صلاحیت تھی، بس موقع ملنے کی دیر تھی۔ اب یہ حال ہے کہ ایسے ایسے باصلاحیت لوگ سامنے آئے کہ جن سے کوئی واقف نہ تھا کون جانتا تھا کہ پاکستان میں ہر دوسرا شخص وکیل ہے اور وہ عدالت میں نہیں گلی کوچوں میں انصاف قائم کریں گے۔ وہ سارے ریٹائرڈ جرنیل جو اپنے گھروں میں ماضی کو یاد کررہے تھے، اچانک میدان میں آگئے اور جمہوریت کیلئے لڑنے لگے۔ یہ ان سب کی حب الوطنی ہے جو دس پندرہ سال کے بعد جاگی ہے اور اب بھی بیدار نہ ہوتی تو ہم کیا کرلیتے؟ پرانے زمانے کی سابق افسرشاہی بھی خواب خرگوش سے چونک کر اٹھ گئی۔ بعض حضرات کو ہم کب کا مرحوم سمجھے تھے لیکن میڈیا انہیں زندہ کر لایا اور وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ زندہ ہوگئے۔ یہاں ہم صرف ایک سابق افسر شاہی روئیداد خاں کی مثال دیں گے۔ یہ مختلف حکومتوں میں اعلیٰ عہدوں پر رہے اور لوگوں کا کہنا ہے یہ ”یس سر“ کے نام سے پکارے جاتے تھے لیکن اب وہ انکشافات کررہے ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ سانس روکنے لگتی ہے ہم ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ کتنے عرصے تک وہ وطن کی محبت اور عوام کا درد دل میں چھپائے رہے۔ ہمارے ہیرو اور صدر پاکستان کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی بولنے کیلئے آزاد ہوئے۔ میڈیا ان سے ہر روز سوال کرتا ہے اور وہ تو ایسا اشارہ کردیتے ہیں جس سے شکوک و شبہات مزید پیدا ہوتے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان کا ہر شخص جمہوریت، عوام دوستی میں وہ انکشاف کریگا کہ جلد ہی ملک کا ڈھانچہ زمین پر آجائیگا۔ ٭٭٭
|
|