اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 12 Jun 2008 14:37:00

ڈاکٹر قدیر خان کی خطائیں

ڈاکٹر قدیر خان کی خطائیں
(غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن)
چار برس بعد جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گفتگو سنی گئی اور ان کی تصویر ٹی وی پر دکھائی دی تو خوشی سے پاکستانیوں کے چہرے سرخ ہوگئے اور اس حیران کن منظر پر ان کی آنکھیں بے پایاں مسرت سے چمکنے لگیں۔ انہوں نے ایک آدھ مرتبہ پہلے بھی ڈاکٹر صاحب کو دیکھا تھا مگر ہسپتال کے بستر پر جہاں وہ کیمروں کے سامنے مسکرانے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ اب بھی ان کی تصویریں پرانے اچھے وقتوں کی تھیں لیکن ان کی آواز اور گفتگو نئی اور بہت بدلی ہوئی تھی۔ کئی دنوں سے ڈاکٹر صاحب ممکن حد تک ان الزامات کا جواب دے رہے ہیں جو ان کی آزادی سلب کرنے کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ایران ہو، لیبیا ہو یا کوریا وغیرہ، ان سب نے یورپ کے سمگلروں اور روس سے جوہری توانائی کیلئے سامان خریدا ہے البتہ میں نے انہیں اتنا بتایا تھا کہ مغربی دنیا کے تاجر یہ سامان بیچتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایجنٹ پھیلا رکھے ہیں جو انتہائی مہنگے داموں یہ سامان فروخت کرتے ہیں۔ جب وہ ہالینڈ میں جوہری توانائی کی فیکٹری میں کام کرتے تھے تو انہیں جوہری سمگلنگ کا پتہ چلا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے کہا تھا کہ ”ڈاکٹر! مجھے بم چاہئے، خریدو، چراﺅ یا سمگل کرو، جو جی چاہے کرو، پاکستان کو بم دیدو، ہمارا دشمن ہماری تاک میں ہے“۔
محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان دنوں اس حد تک آزاد ہیں کہ وہ ٹیلیفون پر باہر کے لوگوں سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ اپنی ناجائز قید و بند کے باوجود وہ اتنے دھیمے، پرسکون اور حب الوطنی سے سرشار ہیں کہ وہ ان کے الفاظ میں حکومت پر دباﺅ ڈالنا نہیں چاہتے اور اپنی رہائی کیلئے مزید انتظار کرنے پر تیار ہیں کیونکہ ملک اس وقت زبردست معاشی بدحالی کا شکار ہے اور وہ حکومت کو پریشان کرنا نہیں چاہتے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے چھوٹے چھوٹے بیانوں میں یہ بتا دیا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی پھیلانے کے بارے میں تمام الزامات من گھڑت ہیں لیکن جو اصل مجرم تھے وہ بچ نکلے ہیں اور انہیں کالی بھیڑ بنا کر ہر الزام ان پر تھوپ دیا گیا ہے۔ پاکستانی قوم نے نہ تو چار برس پہلے اس وقت یقین کیا جب ڈاکٹر صاحب نے خود ٹی وی پر آکر اپنے ناکردہ گناہوں کا اعتراف کیا اور نہ ہی وہ اب مغربی ملکوں کے الزامات کو تسلیم کرتی ہے۔ اب تو ڈاکٹر صاحب نے نام لئے بغیر ملزموں کا ذکر بھی کردیا ہے جو اصل ملزم ہیں لیکن اتنے طاقتور ہیں کہ خود تو بچ نکلے ہیں مگر اس معصوم اور سادہ مزاج سائنسدان کو پھنسا دیا ہے۔ یہ تمام معلومات اب اس لئے مصدقہ ہوگئی ہیں کہ ہم انہیں ڈاکٹر صاحب کے منہ سے سن رہے ہیں ورنہ یہ سب ہمیں معلوم تھا اور پاکستانی قوم کا کوئی فرد اپنے محسن پر شک کرنے پر تیار نہ تھا۔
مغربی قوموں کے بارے میں ایک مشہور محاورہ ہے کہ وہ اپنی نانی بیچنے پر بھی تیار ہوجاتی ہیں اس لئے ڈاکٹر صاحب کی یہ باتیں جاننے والوں کیلئے نئی نہیں ہیں اور آج بھی جب جوہری توانائی کے پھیلاﺅ کا اتنا ہنگامہ برپا ہے تو مغربی دنیا کے ایجنٹ اپنے گاہکوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور وہ اسے حب الوطنی یا غیرحب الوطنی کے پیمانوں پر نہیں، کاروبار کے پیمانوں پر قیاس کرتے ہیں اور مال بناتے ہیں جو ان کی زندگیوں کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ ہم پاکستانیوں نے مغربی دنیا کے ان چوروں اور سمگلروں سے سامان خریدا ہے اور اپنا وقت بچایا ہے۔ ہوتا یوں رہا ہے کہ ہم یورپی ملکوں کے کئی ایجنٹوں سے اپنے لئے ضروری سامان کا سودا کرتے تھے۔ ایک ہی سامان کے کئی لوگوں کو آرڈر دیتے تھے کیونکہ یہ بھی ہوتا تھا کہ سامان کی ایک کھیپ اگر کسی یورپی ائرپورٹ پر پکڑی گئی تو اسی سامان کی دوسری کھیپ بچ کر نکل آنے میں کامیاب ہوگئی اور کراچی ائرپورٹ پر وصول کرلی گئی۔ ادائیگی ایک سے زیادہ لوگوں کو کی گئی مگر کامیابی ایک سے ہوسکی۔ اس پر اسلام آباد کے بابو ڈاکٹر صاحب کو بہت تنگ کرتے کہ دوسری ادائیگیاں کہاں گئیں؟ اس سے تنگ آکر جب ڈاکٹر صاحب نے بھٹو صاحب سے کہا کہ یہ لوگ کام نہیں کرنے دیتے، مجھے واپس جانے دیں تو بھٹو صاحب نے غلام اسحاق خان سیکرٹری خزانہ سے کہا کہ اب ڈاکٹر صاحب صرف آپ سے رابطہ رکھیں گے اور آپ ان کی ہر فرمائش پوری کریں گے۔ ہم کیسے ایٹمی طاقت بن گئے اور مغربی دنیا کے دیکھتے دیکھتے یہ معجزہ کیسے ظہور پذیر ہوگیا؟ اس کے پیچھے طویل داستانیں ہیں جو ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھیوں کے پاس قوم کی امانت ہیں۔ ہمارے ماضی کے حکمران بھی ان سے باخبر ہیں۔
ایک اصل داستان سے ڈاکٹر صاحب نے یوں پردہ اٹھایا ہے کہ انہیں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اور ان کی ذات کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مغربی تہذیب کو صرف مسلمانوں سے خطرہ لاحق ہے۔ مغربی تہذیب کے سرپرست مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں ہر مسلمان دہشت گرد ہے۔ میں نے جوہری توانائی پر مغرب کی اجارہ داری ختم کی ہے اور پاکستان واحد ملک ہے جس نے یہ قوت حاصل کی ہے اس لئے وہ مجھے بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
تو قارئین کرام! یہ ہے وہ راز جس سے ڈاکٹر صاحب نے پردہ اٹھا دیا ہے کہ ان کیخلاف کیوں طوفان برپا ہے۔ بھارت نے بھی تو یہی کام کیا ہے مگر مغربی دنیا اس کیخلاف نہیں بلکہ امریکہ اس مقصد میں اس کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ یہ اس لئے کہ بھارت کوئی مسلمان ملک نہیں لیکن پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جو مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications