|
(منو بھائی) کچھ لوگوں کو انکی زندگی میں جو چیزیں سب سے زیادہ تنگ کرتی ہیں ان میں ایک ”کُھتکتھی“ بھی ہوسکتی ہے جس کو دور کرنا یا جس سے نجات پانا ضروری ہوجاتا ہے۔ یہ ”کُھتکتھی“ کوئی بیماری، آزار، عارضہ یا خارش جیسی کوئی حاجت بھی نہیں ہوتی۔ ایک بہت ہی فضول، بے معنی اور لایعنی قسم کی ذہنی کیفیت ہوتی ہے جو بعض اوقات ناقابل برداشت ہوجاتی ہے بلکہ مہلک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک کہاوت کچھ یوں ہے کہ کوئی اچھے خاصے بڑے سر والا کاشتکار اپنے لمبے سینگوں والے بیل کو جگالی کرتے دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کے اندر یہ معلوم کرنے کی کُھتکھتی پیدا ہوئی کہ اس کا سر بیل کے سینگوں کے اندر آسکتا ہے یا نہیں؟ یہ کُھتکھتی وہ کسی اور طریقے سے بھی دور کرسکتا تھا مگر کُھتکھتی کی شدت میں اس نے اپنا سر بیل کے سینگوں کے اندر داخل کردیا اور عین اسی وقت کسی مکھی کو اڑانے کیلئے بیل نے اپنے سینگوں کو جھٹکا دیا اور کاشتکار کی گردن ٹوٹ کر اس کے سینے سے لٹک گئی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا کیا ہوا؟ کاشتکار نے بتایا کہ گردن تو ٹوٹ گئی ہے مگر کُھتکھتی بھی دور ہوگئی ہے۔ بلاشبہ بہت سی کُھتکتھیوں کے ساتھ میں 75 سال کی عمر تک پہنچ چکا ہوں اور ان کے ہمراہ زندگی کا باقی عرصہ بھی گزار سکتا ہوں مگر ابھی حال ہی میں کچھ نئی اور انوکھی قسم کی کُھتکھتیاں وجود میں آئی ہیں جن کو دور کرنے کیلئے میں اپنی گردن تو قربان نہیں کرسکتا لیکن ان سے نجات ضرور پانا چاہتا ہوں۔ ایک تازہ ترین کُھتکھتی کا تعلق وزیراعلیٰ پنجاب جناب میاں شہبازشریف کی دلنواز مسکراہٹ سے ہے کہ جو مجھے اور میرے دیگر اخبار نویس دوستوں کو اتوار کی سہ پہر گورنر ہاﺅس لاہور کے دربار ہال میں میاں صاحب کی طرف سے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے ان کے ہونٹوں پر دکھائی نہیں دے رہی تھی اور ان کے چہرے کا مجموعی تاثر کچھ ناراضگی کا عنوان لئے ہوئے تھا مگر آج صبح پنجاب اسمبلی کے ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد جناب سپیکر کے تعریفی کلمات اور توصیفی شعروں کی ادائیگی کے بعد جناب شہبازشریف کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی واپسی اس کُھتکھتی کو دور کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہی مگر اس دوران صوبہ پنجا بکے نئے لاٹ صاحب، گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر نے اپنے ایک ٹیلیویژن انٹرویو میں اپنی اچھی خاصی روشن، ذہین اور چمکدارآنکھوں کو کالے چشمے کے پیچھے چھپا کر ایک نئی کُھتکھتی کو جنم دیدیا۔ اس منظر میں سے ایک کُھتکھتی یہ بھی ابھر رہی تھی کہ پس منظر میں شہید بے نظیر بھٹو کی رنگین تصویر کے ساتھ صدر پرویز مشرف کی ”بلیک اینڈ وائٹ“ تصویر کیوں ضروری تھی اور اگر ضروری تھی تو رنگین کیوں نہیں تھی؟ مگر یہ کوئی زیادہ پریشان کرنے والی کُھتکھتی نہیں تھی اور اس پر قابو پایا جاسکتا تھا لیکن ٹیلیویژن کے حساس کیمروں کیلئے جدید روشنی میں اتنی شدت بھی نہیں ہوتی کہ آنکھوں کو کالے چشموں کے پیچھے چھپانے کی ضرورت پیش آئے۔ برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں راج گوپال اچاریہ جی سے لیکر مولانا ابوالکلام آزاد تک کالے رنگ کے چشموں اور گاگلوں نے طویل عرصہ تک حکمرانی کی ہے اور پاکستان میں بھی کالے چشموں نے خان عبدالولی خان کی اگر بعض طبی ضرورتیں پوری کی ہیں تو جئے سندھ کے جی ایم سید سے قائد الطاف حسین اور چودھری شجاعت حسین تک بے شمار سیاسی شخصیات کے حسن و جمال کو چار چاند بھی لگائے ہیں مگر پنجاب کے نئے گورنر کو ٹیلویژن پروگرام میں اپنی آنکھوں کی روپوشی کچھ زیادہ زیب نہیں دے رہی تھی اور یہ پروگرام دیکھنے والوں کی زیادہ تر توجہ ان کی باتوں سے زیادہ ان کے چشمے پر مرکوز رہی اور مجھے یاد آیا کہ چند سال پہلے ایک دستاویزی فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں تربیلا ڈیم سے پیچھے کے قبائلی علاقے کالے ڈھاکے میں جانے کا اتفاق ہوا تو ایک بستی میں فلم کی ڈائریکٹر شیریں پاشا اور انتظامیہ کی رکن، ائرمارشل اصغر خاں کے بھائی کی بیٹی شنیل خان نے قبائلی خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اپنے روزگار میں اضافے کے آسان طریقے بتائے اور اس کے علاوہ ملکی حالات و واقعات پر بھی روشنی ڈالی تو ایک بزرگ قبائلی خاتون نے شیریں پاشا اور شنیل خان سے کہا کہ ”مہربانی فرما کر اپنی کالی عینکیں اتار دو تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ آپ سچ بول رہی ہیں یا غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں۔ ان باتوں کے پیچھے تمہارا کوئی اپنا پوشیدہ مقصد ہے یا تم دیانتداری سے ہماری بہتری چاہتی ہو“ بزرگ قبائلی خاتون کی اس بات پر دونوں خواتین نے اپنے سیاہ چشمے اتار دئیے اور اسلام آباد واپس آنے تک استعمال نہیں کئے۔ یہ واقعہ یہاں اس لئے نقل کیا گیا ہے کہ حاضرین، ناظرین اور سامعین کے ساتھ انٹرویو دینے والوں کا اور باتیں کرنے والوں کا بصری یا بصارتی رابطہ محض ضروری ہی نہیں لازمی بھی ہوتا ہے۔ خاص طور پر روشن، ذہین اور چمکدار آنکھیں رکھنے والوں کو اس معاملے میں سخاوت سے کام لینا چاہئے۔ میرے مرحوم دوست مختار صدیقی کا ایک شعر ہے کہ آشنا ایسے بھی ان آنکھوں نے کم دیکھے ہیں ایسی آنکھیں بھی تو ان آنکھوں نے کم دیکھی ہیں ٭٭٭
|
|