عباس اطہر
شہباز شریف پھر اسی ایوان میں اسی عہدے پر فائز ہو گئے جہاں سے انہیں 8 سال آٹھ ماہ پہلے زبردستی اٹھایا گیا تھا۔ ایک سال کی قید کے بعد وہ نواز شریف کے ہمراہ سعودی عرب جلاوطن کر دیئے گئے۔ ان کی جلاوطنی کا عرصہ سات سال تھا۔
یہ جلاوطنی کا قصہ بھی عجیب ہے۔ نواز شریف کو یہ سزا اس لیے ملی کہ انہوں نے طیارہ ”اغوائ“ کیا تھا اور اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل کے بادشاہ سلامت کو برطرف کرنے کا گناہ عظیم کیا تھا۔ شہباز شریف کا جرم اس کے برعکس ہے۔ انہیں جس جرم کی سزا ملی، وہ یہ تھی کہ انہوں نے بادشاہ سلامت کی یہ فرمائش پوری کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنے بھائی سے الگ ہو کر قاف لیگ بنا لیں۔ نواز شریف کو ”عدالت“ میں مقدمہ چلا کر سزا دی گئی، جو سعودی مداخلت پر ختم کر کے جلاوطنی میں تبدیل کر دی گئی، شہباز کے جرم پر کسی عدالت میں مقدمہ چلا اور نہ سزا سنائی گئی لیکن یہ نہ سنائی جانے والی سزا بھی جلاوطنی میں تبدیل کر دی گئی۔ شہباز کے انکار کے بعد قاف لیگ بنانے کی ذمہ داری میاں اظہر اور چودھری شجاعت کے نازک کندھوں پر ڈالی گئی۔ یہ ذمہ داری کس طرح ادا کی گئی اور ان کی بنائی ہوئی قاف لیگ اتنی پائیدار ثابت نہ ہو سکی جتنی شہباز کی بنائی گئی ہوتی۔ بہرحال، یہ الگ قصہ ہے۔
انکار کے بعد شہباز شریف بھی بادشاہ سلامت کیلئے اتنے ہی قابل نفرت قرار پائے جتنے کہ نواز شریف تھے۔ جرم اتنا سنگین تھا کہ جب دونوں بھائیوں کے والد میاں محمد شریف کا انتقال ہوا تو انہیں ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت بھی نہیں ملی۔ یہ دونوں اتنے معتوب تھے کہ بادشاہ سلامت جب بھی ان کا ذکر کرتے، انہیں ”کک مارنے“ کا ارادہ ظاہر کرنا نہ بھولتے۔ یہاں تک کہہ دیا کہ میری زندگی میں تو یہ پاکستان نہیں آ سکتے۔ مکافات عمل قدرت کا انوکھا انتقام ہوتا ہے۔ آدمی کو خاک چٹا دیتا ہے اور وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ دونوں بھائی بادشاہ سلامت کی زندگی میں اس طرح آئے کہ اس کے پاس انہیں روکنے کے سارے راستے بند ہو چکے تھے۔ ایک مرتبہ طیارہ واپس کیا گیا، دوسری مرتبہ طیارے کے اترنے کے ”دردناک منظر“ کو بے بسی سے دیکھنے کے سوا کچھ نہ کیا جا سکا۔ پھر یہ ہوا کہ بادشاہ سلامت کے قول ہر آنے والے دن کے ساتھ مصمخل، اس کے جسمانی عناصر دن بدن اعتدال سے محروم ہوتے گئے۔ ہتھیار کند اور سہارے شکست ہو گئے۔ الیکشن ہوئے.... اور پیپلزپارٹی جیسی ناپسندیدہ اور قابل نفرت جماعت پہلے نمبر پر اور مسلم لیگ (ن) جیسی ناقابل برداشت پارٹی دوسرے نمبر پر آ گئی۔
نواز، شہباز 18 فروری کے انتخابات میں اسمبلی میں نہ پہنچ سکے کیونکہ تابعدار، وفادار اور اشارہ شناس الیکشن کمشنر نے دونوں کے کاغذات نامزدگی کسی وجہ کے بغیر ہی مسترد کر دیئے تھے لیکن جب پارلیمنٹ نے اپنے دانت دکھائے تو اسی وقت شناس الیکشن کمشنر نے دونوں بھائیوں کے کاغذات منظور کر لیے۔ شہباز بلامقابلہ ہو گئے، نواز شریف کے منتخب ہونے میں ابھی کچھ دن باقی ہیں۔ اس دوران دونوں کو روکنے کی کئی ٹھوس کوششیں ہوئیں جن کی تفصیل کچھ چھپ چکی ہے، کچھ آنے والے دنوں میں منظرعام پر آ جائے گی اور ٹھوس کوششوں کا یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ تاریخیں ڈال دی گئی ہیں، پھر جو اشارہ ابرو ہو گا اس کو حالات کے اشارے سے ملا کر فیصلہ صادر کیا جائے گا۔ حالات کا پانی جس تیزی سے پلوں کے نیچے سے اپنا سفر طے کر رہا ہے، اس کے پیش نظر زیادہ امکان یہی ہے کہ کوئی غلط اقدام اٹھانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ ٹھوس کوشش کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ وہ شہباز شریف کا حلف رکوانے کیلئے خدا کے واسطے دیتے بھی پائے گئے۔ یہ زمانے کی گردش ہے۔ پہلے جن کا حکم چلتا تھا، اب ترلوں پر اتر آئے ہیں.... بظاہر اب نواز شریف بھی قومی اسمبلی میں پہنچ جائیں گے جس کے بعد ان کی ”مونگ دلو پالیسی“ میں تیزی آ جائے گی۔ وہ اسمبلی سے باہر رہ کر بھی اتنے مونگ دل چکے ہیں کہ وردی سے محروم سینہ جگہ جگہ سے چھل کر رہ گیا ہے۔
شہباز شریف نے آٹھ سال آٹھ (صحیح اعداد و شمار کے مطابق 8 سال 7 ماہ اور 26 دن) کے بعد دوبارہ وزارت اعلیٰ سنبھالی ہے۔ ان کی پہلی وزارت اعلیٰ کا دورانیہ بہت مختصر رہا، یعنی صرف دو سال اور آٹھ ماہ لیکن اس دور کے نقوش بہت گہرے ہیں۔ اس دور میں تیزرفتار تعمیروترقی ہوئی، سخت ڈسپلن کی وجہ سے بیوروکریسی کو ملکی تاریخ میں پہلی بار کام کرنے کی عادت پڑی۔ ظاہر ہے، جب صوبے کا منظم اعلیٰ خود رات کے وقت بارشوں کے پانی سے ڈوبی سڑکوں میں پیدل چل کر صورتحال کا جائزہ لے رہا ہو تو بیوروکریسی کے صاحب بہادروں کے پاس بھی لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں آ کر کارکردگی دکھانے کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے۔ لوگ اب بھی شہباز شریف سے اسی دور کی روایات تازہ کرنے کی امیدیں رکھتے ہیں لیکن آٹھ نو سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے۔ مشرف کی گڈگورننس نے کرپشن کی شرح ہزاروں گنا بڑھا دی ہے اور بیورو کریسی کو قبل از تقسیم دور کے مزاج کا مالک بنا دیا ہے جب افسر عوام کو ”بلڈی سویلین“ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ان نو برسوں میں عوام ایک مقہور اور لاوارث جنس اور بیوروکریسی کو اس حقیر مخلوق کی جان و مال کا مالک بنا دیا گیا۔
اس بیورو کریسی کا قبلہ درست کرنا شہباز شریف کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے جو ذہنی طور پر واپس انگریز کے دور میں جا چکی ہے۔ پیپلزپارٹی سے منصفانہ تعلقات کار نبھانا ایک الگ ذمہ داری ہے کیونکہ ایوان صدر سے ان دونوں کو لڑانے کی کوششوں میں (جن کو عوامی زبان میں سازشیں اور صدر کی زبان میں ”مفاہمت“ کی پالیسی کہا جا سکتا ہے) کوئی کمی نہیں آئی۔
شہباز شریف کا وزیراعلیٰ بننا بادشاہ سلامت کیلئے اسی طرح کا ”عظیم المیہ“ ہے جس طرح کا یوسف رضا گیلانی کا وزیراعظم بننا تھا۔ گیلانی کو پاکستان میں 5 برس قید رکھا گیا، شہباز شریف کو ایک سال قید اور پونے آٹھ سال جلاوطن رکھا گیا۔ جو لوگ اس قابل نہیں تھے کہ جیل سے باہر آ سکیں یا وطن کی سرزمین پر قدم رکھ سکیں، آج وہ ملک اور صوبے کے اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں اور نظام حکومت ان کے پاس ہے۔ خدا جانے بادشاہ سلامت کے پاس یہ سوچنے کا وقت ہے کہ نہیں کہ ان کی پونے نو سالہ کمائی کا یہ ثمر کیوں نکلا؟ دائرے کا سفر ملک کی قسمت میں تو لکھا ہی تھا، بادشاہ سلامت کے بھی پونے نو سال کا طویل سفر طے کرنے کے بعد پھر سے پہلی سیڑھی، بلکہ اس سے بھی نیچے گراﺅنڈ زیرو پر آ پہنچے ہیں۔ اس سفر میں انہوں نے ملک کو کیا دیا، یہ وہ بتانا چاہیں تب بھی نہیں بتا سکتے کہ ان کے پاس کورے کاغذ کے سوا کچھ نہیں۔ جس پر ناکامیوں کی گرد اتنی زیادہ چڑھ گئی ہے کہ وہ لکھنا چاہیں، تب بھی کچھ نہیں لکھ سکیں گے۔ شہباز شریف البتہ اپنی ادھوری نوٹ بک کو وہیں سے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں جہاں پہنچ کر ان سے قلم چھین لیا گیا تھا۔