اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Sun, 08 Jun 2008 15:01:00

جھانسی کی رانی

جھانسی کی رانی

بیگم فریدہ شبیر احمد (فلوریڈا)

مکالمات فلاطوں نہ نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے سحر سے ٹوٹا شرار افلاطوں
شعر علامہ اقبال کا ہے اور عورت کے بارے میں۔ قدرت نے مرد و عورت کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ قدرت کی اس صناعی کی وجہ سے ہی زندگی میں حسن و اعتدال و توازن نظر آتا ہے۔ افلاطون جیسے لوگ فلسفے بگھارتے رہے اور خواتین نے اپنی عملی زندگی عملی کاموں میں گزار دی۔ اس بے چاری کے ٹھوس اور عملی اقدامات سے گھر بھی چلتے رہے اور زندگی کے کاروبار بھی۔ کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو انسانی معاشرے میں عورت کے نہایت مثبت کردار کو سمجھتے ہی نہیں بلکہ بسااوقات اس کی تحقیر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بجاطور پر کہاوت مشہور ہے کہ ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے (لطیفے میں یوں بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہر آدمی کی تباہی کے پیچھے دو عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے)
جی چاہتا ہے کہ آج آپ کو برصغیر کی ایک بڑی ہیروئین کی کہانی سنائیں۔ یہ کوئی فلمی ہیروئین نہیں بلکہ کشمکش حیات اور کارزار حیات کی ہیروئین تھی۔ بہت بڑی ہیروئین، جھانسی کی رانی! افسوس ہے کہ اس عظیم خاتون کو ہم اہل پاکستان ہی نہیں بلکہ اہل ہند بھی فراموش کر بیٹھے ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں گم کر بیٹھے ہیں۔ عرصہ ہوا ہم نے آپ کو احمد شاہ ابدالی کی والدہ محترمہ زرغونہ بی بی کی دلکش داستان سنائی تھی اور ٹیپو سلطان کی عظیم بیگم کی بھی۔ ایک کالم میں ”علی برادران“ کی والدہ کا بھی ذکر ہوا تھا جنہیں ہم آج بھی ادب کے ساتھ ”بی اماں“ کہتے ہیں۔
کوئی سبب ہے کہ قوموں کو اپنی تاریخ میں عظیم خواتین کیلئے سنہرے الفاظ میں جگہ دینی پڑتی ہے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے ولولہ اور امنگ سیکھ سکیں۔ برطانیہ نے ملکہ الزبتھ سوم کو آسمان پر بٹھایا تو سپین والوں نے ملکہ ازابیلا کو‘ یونان کے پاس ایسی کوئی ہستی نہ تھی تو انہوں نے ہیلن آف ٹرائے کا افسانوی کردار پیدا کردیا۔ جھانسی کی رانی تک پہنچنے سے پہلے ذرا اس افسانوی کردار کا ذکر ہوجائے۔ یونانی میتھولوجی کے مطابق ہیلن دنیا کی حسین ترین عورت تھی۔ اس نے ٹروجن کی جنگ برپا کرکے ٹرائے کے شہر پر قبضہ کرلیا۔ افسانہ کہتا ہے کہ ہیلن ایک بگلے کے انڈے سے پیدا ہوئی تھی۔ وہ بڑی ہوئی تو بلا کی حسین نکلی۔ اپنی خوبصورتی کے سبب وہ سیاست کی بلندیوں تک پہنچی۔ ایک مشہور یونانی ڈرامہ نگار نے 400 ق۔م میں ہیلن کی کہانی بہت خوبی سے لکھی ہے۔ اپنے دور کے بڑے امرائ، وزرائ، بادشاہ ہیلن کے حسن کے اسیر ہوتے گئے۔ ہیلن نے ان منتشر بڑوں کو متحد کیا اور یونان کی ازلی دشمن ریاست ٹرائے کو شکست دی۔ یہ تو تھی بات افسانے کی۔ اب سنئے تاریخ کی نمایاں کردار جھانسی کی رانی کی داستان۔ بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ برصغیر میں 1857ءکی جنگ آزادی صرف انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں ہندو اور مسلمان ملکر انگریز سامراج کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
جنوری 1857ءکی بات ہے۔ ہندوستانی فوجیوں کو ایسے کارتوس دئیے گئے جن پر چربی لگی ہوئی تھی اور کارتوس استعمال کرنے سے پہلے اس چربی کو دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ خنزیر کی چربی نے مسلمانوں کو ناراض کردیا اور گائے کی چربی نے ہندوﺅں کو۔ میرٹھ کے 85 سواروں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کردیا۔ بہت جلد یہ بغاوت پھیل گئی۔ فوجوں کی کمانداری کیلئے لائق کمانڈر بادشاہ بہادرشاہ ظفر نے مقرر کئے۔ شہزادہ مرزا مغل، جنرل بخت خان اور ریاست جھانسی کی رانی لکشمی بائی۔ لکشمی بائی افسانوی ہیلن کی طرح نہایت خوبصورت رانی تھی۔ اس کے شوہر کو راج پاٹ سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس کے باوجود محل کی راہداری میں سیر کرتے ہوئے ایک انگریز نے راجہ رام داس کو گولی کا نشانہ بنالیا۔ لکشمی بائی میں بچپن سے ہی ذہانت، جرا¿ت اور دوراندیشی کے اوصاف موجود تھے۔ وہ صرف ایک بیوی ہی نہیں بلکہ ایک بہترین لیڈر کے سب اوصاف لیکر پیدا ہوئی تھی
نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کیلئے
لکشمی بائی کے نیک دل شوہر کو انگریزوں نے 6جون 1858ءکو بلاوجہ قتل کردیا تو لکشمی بائی اچانک عزم و ہمت کا نمونہ بن گئی۔ اس نے ریاست میں اور ہندی فوجوں میں اعلان کردیا کہ آج کے بعد اسے رانی لکشمی بائی کے بجائے ”جھانسی کی رانی“ کہا جائے۔
صدیوں پہلے گزری ہوئی سلطان شمس الدین التمش کی بیٹی رضیہ سلطانہ اس کی رول ماڈل تھی لہٰذا اس نے بھی فوراً مردانہ فوجی کپڑے پہنے۔ وہ ماہر گھڑسوار تو تھی ہی لیکن بندوق کا نشانہ بھی ایسا تھا کہ اس کے قریبی ساتھی تانیتا توپی کے بقول اڑتی چڑیا کو ایک ہی فائر سے گرالیتی تھی۔ جب فوجی کمانڈر میں حوصلہ اور ولولہ ہو اور وہ باصلاحیت بھی ہو تو فوجوں کا مورال بلند ہوجاتا ہے۔ بے شمار ہندو سپاہی تو جھانسی کی رانی کو دیوی ماننے لگے۔ ایک دن انگریز کمانڈر عین میدان جنگ میں رانی کے نشانے پر تھا کہ اس نے جھٹ پٹ صرف نمستے ہی نہیں بلکہ رانی کو ڈنڈوت یعنی سجدہ کر ڈالا۔ جھانسی کی رانی نے کھلکھلاتے ہوئے اس کی جاں بخشی کردی۔ رانی شادی کے چند ہی ماہ بعد بیوہ ہوچکی تھی لہٰذا اس نے اعلان کیا کہ ہندوستان کے سب فوجی میرے بچے ہیں۔ تیر کمان، تلوار، بندوق، بھالے، ڈھال، ہیلمٹ اور ہاتھی گھوڑوں کی اس جنگ میں جھانسی کی رانی کا نام دشمن سے ہتھیار رکھوانے کیلئے کافی ہوتا تھا۔ اس کی چابکدستی کا یہ عالم تھا کہ ہاتھی کے ہودے سے کود کر یکایک گھوڑے کی پشت پر جا بیٹھتی اور حسب ضرورت دوڑتے گھوڑے پر کھڑی ہو کر ہاتھی پر چھلانگ لگا لیتی۔ جو دشمن قریب ہوتے انہیں تلوار کے ایک ہی وار سے قتل کردیتی۔ اس کا کہنا تھا، کارتوسوں کو دور کے دشمنوں کیلئے بچا کر رکھنا چاہئے۔ رانی ان تمام خوبیوں کے علاوہ سخاوت سے بھی نوازی گئی تھی۔ وہ خود اپنے ہاتھوں سے سپاہیوں پر سونے اور چاندی کے سکے پھینکتی رہی۔ راہ چلتے مسافر بھی وردیاں پہن کر جھانسی کی رانی کے ساتھی ہوجاتے۔ رانی کو خبر ملی کہ انگریزی فوج نے کان پور میں دس ہزار بے گناہوں کا خون بہایا ہے۔ یہاں جھانسی کی رانی نے بدلہ لینے کیلئے ایسی چال چلی جسے انگریزوں نے اپنی تاریخ میں خون کے آنسوﺅں سے لکھا ہے۔ ہوا یہ کہ جھانسی ہی کے ایک قلعے میں انگریزوں نے پناہ لی۔ رانی نے وعدہ کیا کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو ان سب کو امان دی جائیگی۔ انگریزوں نے ہتھیار ڈال دئیے لیکن رانی پر غصے میں دیوانگی کی حالت طاری تھی۔ اس نے قلعے میں گھس کر تانیتا توپی کے سمجھانے کے باوجود ڈھائی سو انگریزوں کو اپنے ہاتھوں شوٹ کیا۔ اس دوران انگریزوں کو دہلی اور میرٹھ سے کمک پہنچ گئی۔ چنانچہ دونوں کو گوالیار بھاگنا پڑا
جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ شجاعت مند کمانڈر ظالم اور غضب ناک نہیں ہوتے۔ سلیمان پرشکوہ (عثمانی خلیفہ)، سلطان صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان کی اپنے دشمنوں سے حسن سلوک کے بارے میں اتنی داستانیں ہیں کہ ان پر ایک مستقل کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ جنرل بخت خاں نے جھانسی کی رانی کو شجاعت کے اس پہلو سے آگاہ کیا تو وہ تین دن رات سو نہ سکی۔ قدرت کی مہربانی دیکھئے چند ہی دنوں بعد ڈھائی سو انگریزوں کا ایک مسلح لشکر رانی، تانیتا توپی اور جنرل بخت خان کے گھیرے میں آگیا۔ رانی نے انہیں مار ڈالنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا اور ان سب کو آزاد کردیا۔ پھر وہ جنرل بخت خان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرکے ”دولت بی بی“ بن گئی۔ کہنے لگے اے خدا تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ تو نے مجھے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کا موقع دیا۔ پنڈت سرپنت لال نے اپنی کتاب ”تحریک آزادی ہند“ میں اس واقعہ کا نمایاں طور سے ذکر کیا ہے۔ جنگ ابھی جاری تھی اور انگریز انتقام لینا چاہتے تھے۔ ایک رات انہوں نے شب خون مار کر (ستمبر 1858ئ) کو جھانسی کی رانی کو شہید کردیا۔ والسلام!
٭٭٭

 


3 / 5 (1 Votes)







  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications