وجاہت علی عباسی
بالی وڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان ہیں یا اکشے کمار، اس موضوع پر آج کل بہت بحث چل رہی ہے۔ ہر دوسرے فلمی رسالے میں یا تو اکشے یا پھر شاہ رخ خان کی کھینچاتانی ہورہی ہوتی ہے، یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ اس تخت کا اصلی حقدار کون ہے؟ اب اگر ہم لکھ دیں گے کہ اکشے بالی وڈ کے بادشاہ ہیں تو یقیناً ہمارے پڑھنے والوں میں سے آدھے لوگ ہمارا کالم پڑھنا چھوڑ دیں گے، یعنی بادشاہ کی بحث میں پڑھنا نقصان کا کام ہے اس لئے بات کرتے ہیں بالی وڈ کی۔ اس شاہی گدی کی جس میں کسی بحث کا امکان نہیں ہے، یعنی بالی وڈ کے شہنشاہ کی....
امیتابھ بچن بالی وڈ کے شہنشاہ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں، وجہ لمبی ٹانگیں نہیں لیکن اس شہنشاہ کی گدی پر سے اتارنے کیلئے انکی ٹانگ کوئی نہیں کھینچ سکتا، وہ خود بھی نہیں۔ آج ہر دوسرے ہفتے امیتابھ اپنی سی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے جو نام کمایا اسے مٹی میں ملا دیں۔ ہر دوسرے ہفتے انکی نئی فلم آجاتی ہے جس میں وہ کیا، کیسے اور کیوں کررہے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا۔ امیتابھ کو ہر فلم میں نظر آنے کا اتنا شوق ہے کہ آج انڈیا سے یہاں فلائٹس کم اور امیتابھ کی فلمیں زیادہ آرہی ہیں۔ ان حرکتوں کے باوجود امیتابھ بالی وڈ کے بے تاج شہنشاہ ہیں۔
11 اکتوبر 1942ءکو الٰہ آباد میں پیدا ہونیوالے امیتابھ بچن جنہوں نے لیور برادرز میں نوکری نہ ملنے کی وجہ سے بمبئی جاکر ہندی فلموں میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، 1969ءسے 1973ءتک 11 فلاپ فلمیں دے چکے تھے۔ 1973ءکی فلم ”زنجیر“ سے اوپر چڑھنے والے امیتابھ بچن نے پھر اپنی زندگی میں نیچے نہیں دیکھا۔ وقت جیسا بھی تھا، امیتابھ نے اس سے لڑ کر اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کی۔ اپنے کیرئیر کی بلندی پر 1982ءمیں فلم ”قلی“ کی شوٹنگ کے دوران بری طرح زخمی ہونے کی وجہ سے امیتابھ کئی مہینے ہسپتال میں رہے۔ وہ اس قدر خطرناک وقت سے گزرے کہ ایک بار کچھ لمحوں کیلئے ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیدیا تھا لیکن امیتابھ نے ہار نہیں مانی۔ پیٹ میں چوٹ کی وجہ سے گوشت، مٹھائی، شراب سب چھوڑنے پڑے لیکن امیتابھ نے کامیابی کو شومئی قسمت رس ملائی کی نذر نہیں کیا۔
”میرے پاس بلڈنگیں ہیں، پراپرٹی ہے“ سے لیکر ”جمعے کے وعدے“ تک اور پھر ”شاوا شاوا“ کرتے ان کا دل جوان تھا اس لئے ہر دور میں امیتابھ وہ کرتے ہوئے نظر آئے جو اس دور کے نوجوان کررہے تھے۔ فلم ”شعلے“ بنتے وقت ورزش کرتے دھرمیندر کا مذاق اڑاتے امیتابھ آج خود صبح پانچ بجے اٹھ کر جم جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دوڑ میں جیتنے کیلئے دوسرے کھلاڑیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج کے فلمی ستارے فلم انسٹیٹیوٹ میں نہیں، جم میں تیار ہورہے ہیں۔ پھر امیتابھ کیوں ان سے پیچھے رہیں۔ جم تک تو سب ٹھیک تھا، اب مسئلہ یہ ہے کہ امیتابھ مزید وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو آج کل کے نوجوان کررہے ہیں۔
نوجوان آج کل انٹرنیٹ پر اپنا پروفائل بناتے ہیں، یعنی ایسی ویب سائٹ جہاں اپنے بارے میں لکھتے ہیں، اپنی تصویریں لگاتے ہیں۔ اسکے علاوہ وہاں انکے دوست وغیرہ اپنے تاثرات لکھتے ہیں۔ اس طرح کے پروفائل بنانے کے مختلف طریقے ہیں جیسے ”Blog“ Blog کا مطلب آسان الفاظ میں انٹرنیٹ پر آپ کی وہ ڈائری ہے جو سب پڑھ سکتے ہیں۔ امیتابھ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا کہ آج کل نوجوان ہونے کیلئے انٹرنیٹ پر اپنا پروفائل بنانا بہت ضروری ہے۔
امیتابھ وہ پہلے بالی وڈ ایکٹر ہیں جنہوں نے اپنا Blog انٹرنیٹ پر بنایا۔ آج امیتابھ دوسرے کروڑوں دنیا کے نوجوانوں کے بیچ واحد بالی وڈ ایکٹر ہیں جن کی ڈائری اب انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ امیتابھ ہر تھوڑی دیر بعد اپنے Blog پر وہ کیا کررہے ہیں، پوری دنیا کو بتاتے ہیں جیسے ابھی میں سو کر اٹھا ہوں، ابھی میں کھانا کھا رہا ہوں، ابھی شوٹنگ پر جا رہا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ امیتابھ سے کوئی بھی کچھ بھی بات کرتا ہے تو امیتابھ وہ سب فوراً اس Blog پر بتا دیتے ہیں۔ ایک صحافی جیسے ہی امیتابھ سے انٹرویو لیکر گئے، امیتابھ نے فوراً ہی وہ انٹرویو اپنے Blog پر ڈال دیا اور تھوڑی دیر میں وہ انٹرویو معذرت کے ساتھ یہ کہتے ہٹایا کہ صحافی کو یہ حرکت اچھی نہیں لگی۔
امیتابھ کی ہر ادا ہم کو پسند ہے۔ یہ سٹائل جو امیتابھ کا تھا، ایسا لگا یہ سٹائل ہمارا بھی ہونا چاہئے۔ ہم مانتے ہیں کہ امیتابھ بالی وڈ کے رشتے میں باپ ہوتے ہیں لیکن اپنی ذاتی زندگی ہر آدھے گھنٹے بعد پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دینا؟ یہ ادا ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ اتنے بڑے سٹار کو پوری دنیا کو اپنی ہر تفصیل بتا دینا زیب نہیں دیتا۔
امیتابھ کےخلاف کوئی بھی بات کرنا ہمیں اچھا نہیں لگتا مگر جلدی سے آپ سے کردی یہ جانتے ہوئے کہ یہ بات امیتابھ تک نہیں پہنچے گی کیونکہ وہ ابھی ابھی Blog پر لکھ کر سونے گئے ہیں۔
٭٭٭