اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Sun, 08 Jun 2008 01:52:00

امریکی صدارتی انتخابات: سینیٹر اوبامہ بمقابلہ سینیٹر میکین

امریکی صدارتی انتخابات: سینیٹر اوبامہ بمقابلہ سینیٹر میکین

وکیل انصاری
آج شام تک جناب سینیٹر باراک اوبامہ یہ اعلان کر دیں گے کہ وہ DEMOCRATIC NOMINATION جیت چکے ہیں اور اب ان کا مقابلہ سینیٹر جان میکین سے ہو گا۔ واضح رہے کہ سینیٹر جان میکین گزشتہ تین ماہ پہلے REPUBLICAN NOMINATION جیت چکے ہیں دوسرے لفظوں میں کہ اب باقاعدہ چار نومبر 2008ءکے انتخابات میں صف بندیاں مکمل ہو چکی ہیں اور امریکہ کا نیا صدر یا تو جان میکین ہونگے یا سینیٹر باراک اوبامہ ہونگے۔ آج کل میں سابق خاتون اول اور سینیٹر ہلیری کلنٹن اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے سینیٹر باراک اوبامہ کو مبارکباد کے ساتھ ہی ڈیمو کریٹ پارٹی اتحاد پر تقریر کریں گی۔
امریکی چار سالہ صدارتی انتخابات اس وقت امریکی تاریخ میں بہت اہم ہیں۔ دوسرے ممالک کی طرح امریکہ بھی پہلی بار شدید اقتصادی بحران سے دوچار ہے جبکہ دوسری طرف عراق افغانستان کی بھرپور جنگ نے مایوسی پھیلا رکھی ہے۔ پٹرول اور دوسری اشیاءکی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔ اس وجہ سے یہ انتخابات امریکی عوام کی امیدوں اور خوابوں کی تعبیر بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹ کی کامیابی گوکہ مشکل نظر آتی ہے مگر کامیابی کی صورت میں اقتصادی صورتحال بہتر ہونے کی قوی امید ہے مگر جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ کیا امریکی نئی تاریخ مرتب کرنے کو تیار ہیں؟ کیا امریکہ ایک افریقن امریکن کو ملک کی باگ ڈور دینے کو تیار ہے! اور یہ سوال بہت اہم ہے امریکی پریس آج تک افریقن امریکن سینیٹر کو بہت احتیاط سے TREAT کر رہا ہے۔ مگر اب ری پبلکن ہر وہ حربہ استعمال کرنے کو تیار ہیں جوکہ باراک اوبامہ کی دکھتی رگ کو ٹچ کریگا۔
ری پبلکن صدارتی امیدوار سینیٹر جان میکین نے ابھی سے ہی کہنا شروع کر دیا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کی خواہش ہے کہ باراک اوبامہ امریکی صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوں مگر میں امریکی دشمن القاعدہ اور طالبان کے خواب پورے نہیں ہونے دونگا۔ اب اس بیان میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا کیا چھپا ہوا ہے۔ بیک وقت یہ بیان ثابت کر رہا ہے کہ مسلمان اور خاص طور پر دہشت پسند مسلمان باراک اوبامہ کے حامی ہیں۔ واضح رہے کہ باراک اوبامہ واضح طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ وہ عیسائی ہیں اور اب تو دنیا جانتی ہے کہ وہ کس چرچ سے وابستہ ہیں اور انکے چرچ کے رہنما کس طرح WHITE امریکہ کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں۔
جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ 4 نومبر 2008ءکے انتخابات میں ڈیمو کریٹس کی کامیابی یقینی نہیں ہے تعصب کو اگر فی الحال ایک طرف کر کے دیکھیں تو خود ڈیمو کریٹس پارٹی انتشار کا شکار ہے۔ باراک اوبامہ کے NOMINATION میں تاخیر سے ری پبلکن سے جنگ کا ایجنڈا تیار نہیں ہوا ہے۔ مگر ری پبلکن اس مقابلے کو خیرمقدم کر رہے ہیں۔ ہلیری کلنٹن کی کامیابی کی صورت میں یہ مقابلہ مختلف محاذوں پر لڑا جاتا مگر اب یہ انتخابات امریکہ کی سکیورٹی، یعنی دہشت گردی کے خلاف جنگ، ایران کے جوہری توانائی یعنی ایٹمی ہتھیاروں کا ہوا اور ایران سے ان معاملات پر گفت و شنید، عراق، افغانستان سے فوجوں کی واپسی جیسے موضوعات یعنی خارجی امور پر ہونگے اور خارجی تعلقات کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سینیٹر باراک اوبامہ کمزور ہیں بمقابلہ سینیٹر جان میکین۔
اور اندیشہ اس بات کا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام اور امریکہ کا تحفظ ایسے موضوعات ہیں (جن پر بش دوسری مرتبہ صدر بنے) جو جان میکین کے حق میں جاتے ہیں، اور امریکن دہشت گردوں اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو کبھی ووٹوں سے کامیاب نہ کرینگے۔
امریکی صدارتی انتخابات اب اپنے فائنل مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور آئندہ پانچ ماہ دونوں سینیٹرز امریکی عوام پر یہ ثابت کرینگے کہ کون بہتر صلاحیتیں اور تجربات کا حامل ہے اس ضمن میں بھی جان میکین کو سبقت حاصل ہے!
اور اب ان ساری جدوجہد کے بعد جان میکین امریکی صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو یہ بات ہم سب کو معلوم ہے کہ اس آنے والے دور کو ہم صدر بش کا EXTINGTION قرار دے سکتے ہیں!


 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications