|
ظہیرالدین بٹ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانہ کے باہر ایک خودکش دھماکہ ہونے سے 8 اشخاص جاں بحق جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ قرب و جوار کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور سڑک پر کھڑی 25 سے زائد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دارالحکومت میں ایسے علاقے میں جہاں پر سفارتخانہ موجود تھا کس طرح لوگ دھماکہ خیز مواد لیکر بنفس نفیس گاڑی لیکر پہنچے، وہ کون تھے؟ اور دھماکہ کرنے اور سفارتخانہ کو اڑانے سے ان کا مقصد کیا تھا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جنکا جواب شاید پہلے کی طرح کبھی بھی سامنے نہ آ سکے۔ ہمیشہ کی طرح جائے واردات سے مواد اکٹھا کر لیا گیا ہے اور تفتیشی ٹیم بنا دی گئی ہے جو اب اس دھماکے کے پس منظر کی تہہ تک پہنچنے کے لئے کوشش کرے گی۔ بظاہر تو یہ دھماکہ کرنے کا مقصد یہ لگ رہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتے پہلے ڈنمارک میں ایک بار پھر مذموم حرکت کی گئی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے دوبارہ سے شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ابھارا گیا ہے۔ پہلے کی طرح یہ توہین آمیز کارٹون شائع کر کے غیر مسلم کیوں مسلمانوں کا امتحان لے رہے ہیں؟ شاید ان کی اس حرکت پر اپنے جذبات کو ظاہر کرنے کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے حالات و واقعات کو ذہن میں رکھ کسی ایسی قوت نے یہ کارروائی کی ہو تاکہ ان کی طرف کسی کی سوچ ہی نہ جا سکے یا پھر ملک میں اتفراتفری اور غیر ممالک سے پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد ایسے بہت سے پہلو ہیں جن پر غور و خوض کرنا ضروری ہے اور یہ جاننے کی کوشش کرنی ہو گی کہ اس دھماکے سے کون کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ ابھی تک کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی اس لئے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ حکومتی ذمہ داروں کی مذمت اور مرنے والے سے اظہار تعزیت اور زخمیوں سے افسوس کا اظہار کر کے واقعے سے جان نہیں چھڑوائی جا سکتی۔ اس کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے کیونکہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کے نام پر پہلے ہی بہت سی جانیں قربان ہو چکی ہیں۔ اس چکی میں بڑے بڑے لیڈر بھی پس چکے ہیں۔ بے گناہ کی جان لینا مسلمان کو کبھی بھی زیب نہیں دیتا اور نہ ہی ہمارا دین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی کہ بلاوجہ ہلاک یا زخمی کر دیا جائے۔ لگتا ہے کہ ہمارے ملک اور دین کے دشمن اس بات سے فائدہ اٹھانے اور ملک کے اندر افراتفری کا سامان پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سکیورٹی کے اداروں سے نظریں بچا کر کیونکر دہشت گردی ایسے حساس علاقوں میں داخل ہو جاتے ہیں اور ایسی کارروائیوں میں ملوث ہو کر بے گناہ لوگوں کی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں کیا یہ ہماری سکیورٹی کی ناکامی ہے؟ یا پھر دہشت گرد زیادہ چالاک ہیں اور چکمہ دے کر ایسا کر گزرتے ہیں۔ تحقیقاتی ادارے تفتیش کر رہے ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ دہشت گردوں کو ڈھونڈھ نکالنے کے لئے ہرممکنہ کوشش کو بروئے کار لایا جائے اور ان تک رسائی حاصل کر کے انکو انکے انجام تک پہنچایا جائے۔ غیر ملکی سفارتکاروں اور عملے کی حفاظت حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس واقعے سے ان میں پیدا ہونے والے ڈر اور خوف کو بھی دور کرنا ہو گا اور ان کے لئے مزید سکیورٹی کو سخت کر کے حفاظت کو ممکن بنانا ہو گا۔ حساس ادارے تو پہلے ہی ایسی کارروائیوں کے بارے میں پتہ لگا لیتے ہیں لیکن اس واقعے کے رونما ہونے سے پہلے کیوں ایسا ممکن نہ ہو سکا؟ ملک میں ہر سیاسی لیڈر، حکومتی عہدیدار اور عوام ان دھماکوں کی ہمیشہ سے مذمت کرتی رہی ہے اور مرنے والوں سے اظہار ہمدردی کرتی آئی ہے۔ اب بھی کر رہی ہے۔ ملک میں عدم استحکام اور افراتفری پھیلانا، معصوم لوگوں کی جان لینا اور دہشت گردی کر کے لوگوں کو نشانہ بنانا کہاں کا انصاف ہے۔ کسی سے غصے اور بدلہ لینے کا اظہار کرنے کا یہ طریقہ سراسر غلط، غیر مہذب اور غیر اسلامی ہے۔ ہمارے سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ غیر ملکی افراد اور سفارتخانوں کے سٹاف اور افسران کی نقل و حرکت کو محفوظ بنائے اور ایسے اقدامات کرے کہ آئندہ کوئی اس قسم کا واقعہ پیش نہ آ سکے۔ ادھر سفارتکاروں اور غیر ملکیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اطراف میں پاکستان کے قیام کے دوران نظر رکھیں۔ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ضروری کام کے سلسلے میں جانے پر حکام کو اطلاع کریں اور ان سے سکیورٹی حاصل کر کے اپنی حفاظت کو ممکن بنائیں۔ دہشت گردی کے ذمہ داران سے بھی امید کرتے ہیں کہ وہ نوجوانوں کو خواہ مخواہ موت کے منہ میں نہیں دھکیلیں گے اور نہ ہی انہیں جنت کے خوابوں کے عوض ان کی جانوں کو ضائع کروائیں گے۔ انہیں چاہئے کہ وہ جذبات اور دین سے لگن ہونے کا ناجائز فائدہ نہ حاصل کریں اور معصوم لوگوں کو انسانی بم بنا کر شاہراہوں اور بلڈنگوں کو مسمار کرنے اور معصوم جانوں کو لینے کے لئے استعمال نہ کریں۔ حکومت سے بھی امید کرتے ہیں کہ غیر ملکی افراد کی جانوں کا ذمہ لیکر انکی سکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔
|
|