اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Sun, 08 Jun 2008 01:49:00

مشرف کیخلاف مقدمہ: دل ہلا دینے والے انکشافات، کیا واقعی مواخذہ؟

مشرف کیخلاف مقدمہ: دل ہلا دینے والے انکشافات، کیا واقعی مواخذہ؟
(ملک سلیم اکبر)
ہر گزرتا دن پاکستان میں سیاسی خلفشار لے کر آرہا ہے۔ سیاسی حالات دن بدن بگڑتے ہی جا رہے ہیں۔ عوام میں ”گو مشرف گو“ کے نعرے کے بعد اب ایک نیا مطالبہ ”مشرف کو پھانسی دو“ قبولیت اور مقبولیت حاصل کرتا چلا جا رہا ہے۔ یوم تکبیر کے موقع پر نوازشریف کی پرجوش تقریر کے دوران مشرف کو پھانسی دینے اور مشرف کے مواخذے اور مشرف پر مقدمہ چلا کر سزا دینے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ٹیلیویژن کے مقبول ترین اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود جنہیں اب پاکستان ٹیلیویژن کا ایم ڈی بنا دیا گیا ہے، انہوں نے گزشتہ دنوں راولپنڈی کے سابق کور کمانڈر، آئی ایس آئی اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین اور مشرف کے معتمد خاص ریٹائرڈ جنرل جمشید گلزار کیانی کا ایک ایسا پرمُغز انٹرویو کیا جس کا ہر جملہ ہی انکشاف بن کر پاکستانی عوام کو دعوت فکر دے رہا ہے۔ پاکستان کے سنجیدہ سیاسی مفکرن اور سیاسی مبصرین اس انٹرویو کو اپنے سخن کا موضوع بنا رہے ہیں۔ جنرل صاحب کے انکشافات پر ہم صرف غوروخوض ہی نہ کریں بلکہ سوچیں کہ مشرف واقعی پاکستانی قوم پر ایک ناقابل برداشت بوجھ بنتے جا رہے ہیں یا نہیں؟ جنرل جمشید گلزار کیانی فوج کے اہم ترین اور حساس ترین عہدوں پر قوم کی خدمت کرچکے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
(1) کارگل کی جنگ پرویز مشرف کا Mess-Up تھا جس کی ابتدائی معلومات سے تو وزیراعظم نوازشریف کو آگاہ کیا گیا لیکن کارگل آپریشن کے منفی پہلوﺅں (Fall Outs) سے لاعلم رکھا گیا جبکہ دوران میٹنگ جنرل مجید ملک اور سرتاج عزیز نے کارگل آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کارگل آپریشن کے دوران شہید ہونیوالے بہت سے فوجی جوانوں کی ابھی تک لاشیں بھی نہیں ملیں۔
(2) کارگل آپریشن میں مشرف کی امیدوں کے برخلاف بھارت نے شدید انداز سے فضائی حملہ کیا۔ ہم نے اپنے دشمن بھارت کو اس کی شہ رگ سے دبوچ لیا تھا لیکن مشرف کی غلط ترین پلاننگ نے ہمیں شرمندگی دلوائی۔ جنرل صاحب نے بتایا کہ کارگل آپریشن سے پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر جنگ کا کوئی خطرہ ہی موجود نہیں تھا۔ یہ سب پرویز مشرف کا پروپیگنڈہ تھا۔
(3) جنرل صاحب نے انکشاف کیا کہ 111 بریگیڈ اور 10 کورکو حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے کسی بھی قسم کی ریہرسل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ کام منٹوں میں ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے ٹروپس ایوان صدر کے علاوہ کیمپ آفس میں موجود ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کے اہم ترین اور حساس مقامات پر بھی ان کی ہی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ اقتدار پر قبضہ اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ آپ کے گھر کے چوکیدار کیلئے اپنی بندوق کا رخ اپنے مالک کی طرف کرکے اس کے گھر پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔
(4) کولن پاول نے مشرف کو اتنا پیغام ضرور دیا تھا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں؟ جنرل جمشید نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی طرف سے پتھر کا زمانہ بنانے کی دھمکی نہیں دی گئی تھی۔ یہ بات خود مشرف نے بنائی ہے۔ مشرف خوفزدہ ہو کر ڈر گئے تھے۔ مشرف کو جھکنے کے بجائے قوم سے رجوع کرنا چاہئے تھا۔ 9/11 کے بعد کورکمانڈرز کی میٹنگ میں امریکہ کی حمایت کے بارے میں شدید ترین تحفظات موجود تھے۔ مشرف کو بتایا گیا تھا کہ 1965ءاور 1971ءکی جنگوں میں امریکہ نے پاکستان کی مدد نہیں کی۔ ملٹری وار ہیڈ، سیبر جیٹ آرمڈ، اے آر سی، ٹینک، نیول شپ، آرٹلری گن، ایمونیشن تمام ہی Tool of War امریکی ارینجمنٹ کے تحت تھیں۔ انہیں Seal کرکے امریکہ نے پاکستان کو Ditch کیا۔ 1971ءمیں چلنے والا ساتواں بحری بیڑہ پاکستان نہیں پہنچا؟
(5) وزیرستان میں جدید ہتھیاروں کا استعمال مشرف کی سخت ترین غلطی تھی۔ ناجائز انداز سے Application of Force کی گئی۔ باجوڑ کے مدرسے میں 80 طالبعلموں کو غیرضروری طور پر شہید کیا گیا۔ جنرل جمشید کے مطابق عینی شاہدوں نے امریکی حملہ قرار دیا۔
(6) جنرل جمشید کیانی نے انکشاف کیا کہ لال مسجد کے طالبعلموں پر کیمیائی ہتھیار اور فاسفورس کے گرنیڈ استعمال کئے گئے۔ ڈی جی رینجرز اور ایس ایس جی کا کمانڈر لال مسجد اور مسجد حفصہ میں کس محاذ کا دفاع کررہے تھے تو جنرل کیانی نے سوال کیا کہ طالبعلموں پر اس قدر شدید کارروائی کی گئی؟
(7) جنرل صاحب نے کہا کہ لاپتہ افراد مجرم ہیں تو انہیں سانے لاکر مقدمات کیوں قائم نہیں کئے جا رہے۔ اپنے عوام کو ڈالروں کی خاطر بیچا گیا۔
718-692-0707 پر دوپہر 12 سے شام 7 بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ مشرف کے معتمد خاص جنرل جمشید گلزار کیانی ببانگ دہل جنرل مشرف کے مواخذے، جنرل مشرف کے خلاف مقدمے اور انہیں سزا دیکر نشان عبرت بنانے کا جو مطالبہ کررہے ہیں اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر امریکی صدر کلنٹن کا مواخذہ ہوسکتا ہے تو کیا جنرل مشرف کا بھی واقعی مواخذہ ہونا چاہئے؟ جنرل جمشید کیانی کی سنگین الزامات کی لسٹ جاری ہے یہ کہ پرویز مشرف کے جہاز کے اغوا کا ڈرامہ محض کہانی تھی؟ اور یہ کہ جنرل مشرف آئی ایس آئی سے سیاستدانوں کی چوکیداری اور نگرانی کا غلط کام لے رہے تھے اور نیب کے ذریعے سیاستدانوں کو اپنی سیاسی بلیک میلنگ کیلئے استعمال کررہے تھے۔ جنرل جمشید کیانی کا یہ الزام کہ ریفرنڈم محض ڈھونگ تھا اور ریفرنڈم امریکی حمایت میں عوام کی رائے جاننے کیلئے ہونا چاہئے تھا اور یہ الزام کہ مشرف پاکستان میں وہ واحد شخص ہیں جو امریکی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پاکستان کے سابق اعلیٰ ترین فوجی کمانڈروں اور جرنیلوں پر مشتمل ایکس سروس مین آرگنائزیشن جس میں آرمی، نیوی اور فضائیہ کے سابق سربراہ بھی شامل ہیں، ان کا یہ الزام کہ 3 نومبر کے مشرف کے اقدامات مکمل طور پر غیرآئینی ہیں جس سے فوج کی بدنامی ہورہی ہے اور عدلیہ کو 2 نومبر کی صورتحال پر واپس لاکر چودھری افتخار کو چیف جسٹس بناکر مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا۔ کیا واقعی یہ پاکستان کی تاریخ میں حقیقت کا روپ دھارے گا یا محض ایک حسین خواب ہی بن کر رہ جائیگا؟ کیا ہم خوامخواہ ہی میں امریکہ کو ہر معاملے میں بدنام کرتے ہیں جس کہ خود ہمارے حکمران ہی اپنے ذاتی مفادات اور اقتدار کو طول دینے کیلئے ”Yes Sir“ کرکے آلہ کار بنتے رہتے ہیں؟ قوم کو اس کا جواب تو چاہئے ناں!
پاکستان زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications