اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Sun, 08 Jun 2008 01:48:00

میں نے محترمہ کو نہیں مارا

میں نے محترمہ کو نہیں مارا
(قمر علی عباسی)
امریکہ میں اقوام متحدہ کے دفتر والے خاص طور سے سیکرٹری جنرل بان کی مون اس بات سے خوش ہیں کہ انہیں پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کے المناک حادثے کی تحقیق کی ذمہ داری دے رہا ہے۔ ادھر ہندوستان بھی پھولا نہیں سماتا کہ ان کے وزیر خارجہ پرناب مکھرجی کا دورہ¿ پاکستان انتہائی کامیاب رہا۔ اس موقع پر پاکستان کی موجودہ حکومت نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں محترمہ کی تحقیقات کے سلسلے میں سفارش کریں۔
18 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں جو قومی اسمبلی وجود میں آئی اس نے آج تک صرف ایک قرارداد پاس کی، محترمہ کے حادثے کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کیا جائے۔
خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد جس میں وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور کئی اہم لوگ نیویارک آکر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ذاتی طور پر درخواست کریں گے کہ وہ 27 دسمبر 2007ءکے واقعہ کی تحقیقات کریں اور مجرموں کے چہرے سے نقاب ہٹائیں، فی الحال سیکرٹری جنرل سے وقت لینے کی کوشش جاری ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کے دشمن پیپلز پارٹی کے مخالف اس پر اعتراض کررہے ہیں کہ ملک میں تحقیقات کیوں نہیں کی جاسکتیں۔ اب تو جمہوری حکومت ہے، اقتدار اور اختیار سب حاصل ہے، پھر اپنے اداروں سے تحقیقات کیوں نہیں کی جا رہی؟ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے، اپنے اداروں پر اعتبار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک جو تحقیقات ہوئیں ان سے کسی نے اتفاق نہیں کیا اور اقوام متحدہ وہ ادارہ ہے جو دنیا میں ”حق و انصاف“ قائم کررہا ہے۔ ظالموں کی رسی کھینچتا ہے، مظلوموں کو حق دلاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے کسی ملک نے کبھی ان سے اپنے معاملات پر تحقیقات نہیں کرائی۔
امریکہ نے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل پر اقوام متحدہ سے تفتیش کرائی تھی اور اس کے بعد اس کا کوئی نتیجہ کم سے کم دنیا کے سامنے نہیں آیا۔
اقوام متحدہ کے پاس اپنا کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے، انہیں اس کیلئے ماہرین کو منتخب کرنا ہوتا ہے جو بھاری معاوضہ لیتے ہیں۔
پاکستان میں محترمہ کے حادثے کے بعد اس وقت کی انتظامیہ نے برطانیہ کے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم سے تفتیش کرائی تھی جنہوں نے اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا کہ محترمہ کی موت گاڑی کی چھت کے لیور سے ہوئی جو محترمہ کے سر میں لگ گیا تھا۔ ٹیلیویژن حادثے کے وقت کے مناظر عرصے تک دکھاتا رہا جس میں ایک شخص کو گولیاں چلاتے دیکھا جاسکتا تھا جو محترمہ کے بائیں جانب سے فائر کررہا ہے لیکن سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ گولی نہیں لگی۔ ایک اور بھی رپورٹ ہے کہ محترمہ کے گولی کا نشان سر کے دائیں طرف تھا جبکہ گولی بائیں طرف سے چلی تھی۔ دنیا کا کوئی بھی شخص پوچھ سکتا ہے کہ جن لوگوں نے ان کی آخری رسومات انجام دیں انہوں نے زخم کیوں نہیں دیکھا؟ لیکن وہ دکھ کا ایک ایسا وقت تھا جس میں کسی نے بھی یہ بات نہیں نوٹ کی اور انہیں دفنا دیا گیا۔
امریکہ نے حادثے کے فوراً بعد اعلان کردیا کہ یہ سب پاکستان کے سرحدی علاقے میں طالبان کے رہنماءبیت اللہ محسود کی حرکت ہے۔ طالبان کا فوری بیان آیا کہ وہ خواتین کو نشانہ نہیں بناتے۔ پچھلے دنوں بیت اللہ محسود نے سرحدی علاقے کے ایک نامعلوم مقام پر پریس کانفرنس کی جس میںمیڈیا کے 36 نمائندوں نے شرکت کی۔ بیت اللہ محسود نے کہا ”میں نے محترمہ کو نہیں مارا“۔
اقوام متحدہ کا ادارہ اس حادثے کی تحقیق کیلئے امریکہ، برطانیہ سے ماہرین کو منتخب کریگا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے ہی اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔
خیال ہے کہ اس تحقیق پر ایک کثیر سرمایہ خرچ ہوگا۔ اتنا زیادہ کہ ممکن ہے امریکہ کی ساری امداد اس پر لگ جائے لیکن یہ ایک ضروری کام ہے۔ قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔ اس کیلئے سرمایہ نہیں دیکھا جاتا۔
اقوام متحدہ کو امید ہے پاکستان میں اس سے پہلے جو واقعات ہوئے کوئی نہ کوئی ان کی تفتیش کیلئے بھی اس ادارے کو ذمہ داری سونپے گا۔ محترمہ نے 18 اکتوبر کے کراچی حادثے کے بعد اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تحقیقات بین الاقوامی ادارہ کرے۔ بدقسمتی سے اب ان کے سانحہ کی تفتیش اقوام متحدہ کریگا۔ یہ ابتدا ہے، پاکستان کے محب وطن ادارے، افراد، ان سارے حادثات کی فہرست بنا رہے ہیں جو تفتیش کیلئے اقوام متحدہ بھیجے جائیں گے۔ اس طرح یہ ادارہ، امریکی اور برطانوی ماہرین کے بیوی بچے پاکستان کو دعائیں دیں گے اور ہمارے منہ میں خاک، نئے نئے حادثات کی تمنا کریں گے۔
پاکستان میں بعض افراد کا یہ کہنا ہے کہ غیرملکی ماہرین ہمارے تفتیشی اداروں کی خفیہ فائلوں تک پہنچ جائیں گے اور نجانے کیا کیا راز جان لیں۔ ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ایسی تمام فائلوں کی اصل امریکہ کے پاس ہوتی ہے اور یہ ادارے فوٹو اسٹیٹ کاپی سے کام چلاتے ہیں۔
٭٭٭

5 / 5 (1 Votes)







  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications