|
(عبدالقادر حسن) یا اللہ ہمارے گناہ معاف کراور ہمیں وہ سکون، ٹھہراﺅ اور دلجمعی عطا فرما جس کے بغیر قومیں ترقی تو کجا زندگی سے بھی محروم ہوسکتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے اور اب تو یقین ہے کہ ہمارے گناہ اس قدر خطرناک صورت اختیار کرگئے تھے کہ قدرت نے اپنی حلیمی اور عفو و درگزر سے ہمیں محروم کردیا اور ہمارے اوپر ایک ایسا شخص مسلط کردیا جس نے ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہمارا قومی وجود ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ہماری قومی عزت تار تار کردی اور ہمیں رسوا کرکے دنیا کے بازار میں پھینک دیا۔ اس کے مزاج اور عادات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ خدا نے اس شخص کو نہ جانے کس مٹی سے بنایا ہے جس میں ضد ہے، بے رحمی ہے، خوں آشامی ہے اور خوف خدا کا نام و نشان بھی نہیں۔ ان دنوں اچھی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ یہ شخص اپنے کیفرکردار تک پہنچنے والا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مجھ سے فون پر کہا کہ فرعون گئے، ہاماں و شدّاد گئے، ایران کے بادشاہ گئے، لیکن خدا نے ان ملکوں کو سلامت رکھا۔ ہمارا فرعون بھی جائیگا اور پاکستان انشاءاللہ سلامت رہیگا۔ محسن پاکستان کا فرمان بجا لیکن لازم ہے کہ اس شخص کو واپسی کا بحفاظت راستہ ہرگز نہ دیا جائے۔ ان دنوں ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ ملک کے بعض عناصر اسے معاف کرکے اسکی واپسی پر راضی ہیں۔ ہم نے اب تک کسی فوجی آمر کو سزا نہیں دی اور اس ضمن میں آئین پر عمل نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس طالع آزما کا جب جی چاہا وہ بلاتکلف ہم پر چڑھ دوڑا۔ اس میں سب سے کربناک کردار ہمارے سیاستدانوں کا رہا جنہوں نے جوق در جوق فوجی آمر کو خیرمقدم کہا اور اس کو مضبوط کرنے میں جُت گئے۔ ایسے سیاستدانوں کو کچھ بھی کہا جاسکتا ہے، سیاستدان نہیں کہا جاسکتا۔ جو شخص سیاست اور جمہوریت کی دشمنی کی اساس پر اپنا اقتدار قائم کرتا ہے اس کی مخالفت کرنیوالے کو سیاستدان کیسے کہا جاسکتا ہے۔ آگ اور پانی کا ملاپ کیسے ہوسکتا ہے؟ لیکن پاکستان میں یہ ہوتا رہا ہے اور آج بھی جب یہ شخص کھل کر قوم کے سامنے آچکا ہے، ایسے نام نہاد سیاستدان موجود ہیں جو اس کی حمایت کا دم بھر رہے ہیں اور ٹی وی کے پرائیویٹ چینلوں پر اس کی بقاءکی خواہش کررہے ہیں۔ اگر دو چار ہوتے تو میں ان کے نام بھی درج کردیتا لیکن یہ تعداد زیادہ ہے۔ قوم نے عام انتخابات میں اس شخص کی حکومت کیخلاف فیصلہ دیا۔ اس پر عملدرآمد عوامی نمائندوں کا فرض تھا لیکن ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اسے اقتدار سے محروم تو کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی سزا دینا نہیں چاہتے۔ بہرکیف ایک بات اب طے ہے کہ یہ شخص اقتدار سے محروم ہونے کو ہے اور اس کے ایوان میں افراتفری کا عالم برپا ہوچکا ہے۔ اس کیفیت کو ہمارے ایک شاعر نے جس خوبصورتی سے بیان کردیا ہے اس میں اضافہ بہت مشکل ہے غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لیکر محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے اب اس محل پر آسمان واقعی ٹوٹنے والا ہے۔ ہمارے نئے آرمی چیف نے رات گئے اس سے طویل ملاقات کی ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد فوج کو سیاست سے دور رکھنے کا جو ارادہ کیا ہے اور اس کا بار بار اظہار کیا ہے اور عمل بھی شروع کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ملاقات کیا ہوگی۔ فوج کے وقار کو بحال کرنے کیلئے اب اس کا جانا لازم ہوچکا ہے اور یقیناً جنرل کیانی نے یہی مشورہ دیا ہوگا کہ آپ اب چلے جائیں۔ شنید یہ ہے کہ وہ جانے پر راضی ہوچکا ہے، انتہائی بادل نخواستہ اور اب بھی کسی غیبی امداد کا منتظر۔ اس صورتحال پر ایک شاعر شعیب بن عزیز کا ایک شعر یاد آگیا ہے۔ یہ بھی ملاحظہ فرمائیے لکھا رکھا ہے عہد ترکِ الفت مگر دل دستخط کرتا نہیں ہے پرویز مشرف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی صفائی بیان کرتے ہوئے استعفیٰ تیار کررکھا ہے لیکن ان کی دنیا امید پر قائم چلی آرہی ہے۔ چنانچہ ابھی تک اس پر انگوٹھا ثبت نہیں کیا ہے۔ پرویز مشرف کے حامی اور مسلمانوں کے دشمن امریکی اس صورتحال سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ امریکہ اب تک ان کے ساتھ ہے، کوئی کہتا ہے کہ امریکہ پاکستانی عوام کے ساتھ ہے اور کسی کا کہنا ہے کہ جو فیصلہ پاکستانی حکومت کریگی وہ اس کو تسلیم کریں گے۔ امریکیوں کو پروا نہیں کہ کون جاتا ہے؟ کیونکہ آنے والا ان کی نافرمانی نہیں کریگا اور ”دہشت گردی“ کیخلاف امریکی جنگ جاری رہے گی لیکن مشرف کے بعد امریکہ کو پاکستان کے ساتھ کچھ معاملہ کرنا پڑے گا۔ ماضی کی اندھادھند حمایت اب ممکن نہیں ہوگی۔ اگرچہ میں کہتا تو ہمیشہ ہوں کہ چند دنوں تک صورتحال واضح ہوجائیگی جو ہوتی نہیں ہے لیکن اب کے اس کی امید ہے۔ ٭٭٭
|
|