|
(منو بھائی) بچے کی پیدائش سے پہلے فطرت ماں کے سینے میں اسکی ضرورت کی خوراک فراہم کردیتی ہے۔ فطرت کے اسی آئین اور قانون کے تحت زمین کی گود تمام مخلوق خدا کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے والے خزانوں سے معمور ہوتی ہے مگر غیرفطری بھوک، ہوس اور حرص نے ان خزانوں پر قبضہ کررکھا ہے اور ماﺅں اور بچوں کی جائز ضرروتوں کے درمیان حائل ہوگئی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذائی جنس، گندم سالانہ 58 کروڑ 50 لاکھ ٹن کی مقدار میں پیدا کی جاتی ہے جو کرہ ارض پر بسنے والی مخلوق کی ضرورت سے زیادہ ہے جبکہ اس مقصد کیلئے چاول، مکئی اور دیگر اجناس بھی کاشت کی جاتی ہیں۔ موجودہ زرعی وسائل اور ذرائع میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ دنیا کی موجودہ آبادی سے کم از کم ڈیڑھ گنا زیادہ آبادی کی جائز خوردنی ضروریات پوری کی جاسکیں جبکہ زرعی پیداوار بڑھانے، موسموں کو سکیڑنے، سال میں دو سے زیادہ فصلیں حاصل کرنے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی غرض سے زرعی سائنس جن تجربات اور تحقیقات سے گزر رہی ہے۔ وہ بہت حد تک کامیابی کا یقین رکھتے ہیں چنانچہ یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ محدود زرعی وسائل تمام ضرورتمندوں کی تسلی نہیں کرسکتے۔ یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ امیروں کی بسیار خوری کی وجہ سے غریب طبقہ کم خوراکی پر مجبور ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہر شخص کی ضرورت کی خوراک موجود ہے مگر ہر شخص اپنی ضرورت کی خوراک خرید نہیں سکتا اور یہ مجبوری اب غریب ملکوں سے امیر ملکوں کی جانب بھی سفر اختیار کرچکی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حیرت انگیز تیزرفتاری سے اور بہت ہی مختصر مدت میں پوری دنیا کی غربت، بھوک، جہالت اور بیماری کا نام و نشان تک مٹایا جاسکتا ہے مگر ان لعنتوں سے نجات پانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ داری نظام کی نفع اندوزی کی بھوک، ہوس اور حرص ہے جس کا اب خود سامراجی ماہرین معیشت بھی اعتراف کرنے لگے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھوک اور غربت آفات سماوی اور موسموں کی خرابی سے پیدا نہیں ہوتیں۔ سرمایہ داری نظام کے نام سے زمینی اور معروضی کوششوں سے وجود میں آتی ہے۔ یہ لوگوں کے نصیبوں میں بھی لکھی ہوئی نہیں ہوتی۔ معاشروں اور حکومتوں کی اقتصادی اور معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے والوں کی کوششوں سے پیدا ہوتی ہے اور حکمرانوں کے معاشی پروگراموں کی ترجیحات کا لازمی اور قدرتی نتیجہ ہوتی ہے۔ عالمی مبصرین بتاتے ہیں کہ عالمی سطح پر خوراک کی مصنوعی قلت اور مہنگائی کی شدت کا صحیح اندازہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بروندی، صومالیہ، مصر اور میکسیکو سے موغادیشو تک غریب لوگ سب سے زیادہ سستے، ناخالص اور مضر صحت اشیائے خوردنی سے اپنا پیٹ بھرنے پر مجبور ہورہے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر ملکوں میں گزشتہ چار ماہ کے دوران اشیائے خوردنی کے نرخوں میں چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ ادارہ اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم کے مطابق اس وقت دنیا کے 85 کروڑ 40 لاکھ لوگ رات کو خالی پیٹ سونے پر مجبور ہورہے ہیں۔ یو این ملینیم کی ویب سائٹ بتاتی ہے کہ دنیا کے 30 کروڑ بچے بھوکے سوتے ہیں مگر ان میں سے صرف 8 فیصد ایسے ہوں گے جو قحط زدہ علاقوں میں رہتے ہیں جبکہ 90 فیصد سے زیادہ بچے غربت، بیروزگاری اور بیماری میں مبتلا والدین کی اولاد ہونے کی وجہ سے کم خوراکی اور بھوک کے عارضوں سے گزر رہے ہیں جو عالمی سرمایہ داری نظام کی معاشی پالیسیوں کی ترجیحات سے برآمد ہونیوالی بیماریاں ہیں۔ معاشی پالیسیوں کی ترجیحات پر توجہ دیں تو پتہ چلے گا کہ مشرقی ایشیا کے ملکوں میں اربوں ایکڑوں پر پھیلی ہوئی چاول کی فصلیں براﺅن پلانٹ ہاپرز (Brown Plant Hoppers) کی تباہ کاری کی زد میں آئی ہوئی ہیں مگر چاول کی فصلوں کی ریسرچ کے عالمی اداروں کی ترجیحات میں اس تباہ کاری کا کوئی ذکر نہیں۔ 1980ءکی دہائی میں ایسے فصلی کیڑوں پر توجہ دینے والے اداروں کے ماہرین کی تعداد 200 تھی، اب صرف ایک ماہر ہے جس کے مددگار 8 ہیں۔ عالمی بینک نے بھی زرعی ریسرچ کے اخراجات میں اضافے کی بجائے خوفناک کمی کی ہے۔ 1980ءسے 2006ءتک یہ اخراجات 6 ارب ڈالر تھے جو اب 2½ ارب ڈالر سالانہ رہ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی حصہ بھی 2½ ارب ڈالر سے کم ہو کر 62 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔ سال 2007ءمیں عالمی سطح پر فوڈ کی پیداوار نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جو عالمی ضرورت سے ڈیڑھ گنا زیادہ پیداوار تھی اس کے باوجود پوری دنیا غذائی بحران کی زد میں آگئی۔ اس کا کریڈٹ گزشتہ دنوں ان کالموں میں تیل اور اجناس خوردنی کی مستقبل کی پیداوار پیشگی طور پر خرید لینے والی بڑی عالمی کمپنیوں یا اجارہ داریوں کو دیا گیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ گزشتہ بیس سال سے عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار میں دو فیصد سالانہ سے زیادہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ آبادی میں اضافے کی اتنی رفتار نہیں ہے۔ سرمایہ داری نظام کی ترجیحات کو سمجھنے کیلئے 1930ءکے بحران کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جب کروڑوں کی تعداد میں غریب اور بیروزگار لوگ بھوکے مر رہے تھے۔ امریکی کاشتکاروں کو قطعی متضاد حالات کا سامنا تھا۔ وہ زیادہ اناج پیدا کررہے تھے کہ مارکیٹ کے نرخوں کو گرنے سے روکا جائے۔ جب کروڑوں بھوکے اور بیروزگار سستی خوراک کے حصول کے انتظار میں لمبی قطاروں میں کھڑے تھے اور منڈی کے نرخوں کے مفاد میں لاکھوں ٹن اناج جلایا اور سمندر میں غرق کیا جا رہا تھا۔ منڈی کی معیشت یہ فالتو اناج بھوک سے مرتے لوگوں کو فراہم نہیں کرسکتی تھی کہ مارکیٹ خراب ہوجائےگی۔ لوگوں کی آفتوں اور مصیبتوں سے منافع کشید کرنا منڈی کی معیشت کا اصل کام ہے۔ اس مقصد کے تحت لوگوں کو آفتوں اور مصیبتوں میں مبتلا کرنے کے حالات بھی پیدا کئے جاتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے پہلے انسانیت کو دکھوں میں مبتلا کریں اور پھر دکھی انسانیت کی خدمت کا شوق پیدا کریں۔ یعنی بیافرا کے ان بھوکوں کی مدد کیلئے جائیں جن کو خود ان کی فراہم کردہ پالیسیوں کے تحت بھوک اور قحط میں مبتلا کیا گیا ہے۔ ٭٭٭
|
|